نیب ایکٹ بننے سے قبل سرزد جرم پر کس قانون کے تحت کارروائی؟ ہائیکورٹ نے نیب سے وضاحت طلب کر لی

نیب ایکٹ بننے سے قبل سرزد جرم پر کس قانون کے تحت کارروائی؟ ہائیکورٹ نے نیب سے ...

لاہور(نامہ نگارخصوصی )لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس سید مظاہر علی اکبر نقوی کی سربراہی میں قائم دو رکنی بنچ نے اس قانونی نکتہ کی وضاحت کے لئے پراسیکیوٹرجنرل نیب کو طلب کرلیاہے کہ نیب آرڈیننس کے نفاذ سے قبل ہونے والے جرم پر قومی احتساب بیورو کس قانون کے تحت کارروائی کرتا ہے ۔فاضل بنچ نے یہ کارروائی طاہر خان کی درخواست پر کی ہے ، درخواست گزار کی طرف سے وقار حسن میر ایڈووکیٹ نے پیش ہوکر دلائل دئیے کہ درخواست گزار بینک ملازم ہے اور اس پر نیب نے 1997 تا 2002ء کے دوران کروڑوں روپے کی خرد برد کے الزام لگا کر نیب عدالت میں ریفرنس دائر کر دیا، انہوں نے قانونی نکات اٹھاتے ہوئے کہا کہ درخواست گزار پر نیب ایکٹ کے وجود میں آنے سے پہلے جرم سرزد ہونے کا الزام ہے ، اور یہ طے شدہ اصول ہے کہ جب بھی کوئی قانون وجود میں آتا ہے تو اس کا اطلاق پارلیمنٹ کی منظوری کے دن سے ہوتا ہے، اس طرح سے نیب ایکٹ کا اطلاق درخواست گزار پر نہیں ہوتا، دوسرا اہم نکتہ یہ ہے کہ قانون میں کوئی ایسی ترمیم یا قانون موجود نہیں ہے جس کے تحت نیب کو بینکنگ جرائم میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی کا اختیار دیا گیا ہو، انہوں نے استدعا کی کہ عدالت نیب حکام کو درخواست گزار کے خلاف کارروائی کرنے سے روکنے کا حکم دے۔

مزید : صفحہ آخر


loading...