شادی کیلئے عمر کی حد 18سال مقرر کرنے کا بل مسترد، کلبھوشن کے سہولت کار بلوچستان میں بیٹھے ہیں: سینٹ کی قائمہ کمیٹی میں انکشاف

شادی کیلئے عمر کی حد 18سال مقرر کرنے کا بل مسترد، کلبھوشن کے سہولت کار ...

اسلام آباد(صباح نیوز) سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ میں دعوی کیا گیا ہے کہ گرفتاربھارتی جاسوس کلبھوشن کے سہولت کار بلوچستان میں بیٹھے ہوئے ہیں جب کہ کمیٹی نے شادی کیلئے عمر کی حد 18سال مقررکرنے کے بل کو مستردکردیا ہے، سندھ اور پنجاب میں اس قسم کی قانون سازی پر دینی جماعتوں کی طرف سے شدید اعتراضات اٹھائے گئے تھے ۔ بدھ کوچیرمین سینیٹر رحمان ملک کے زیر صدارت سینیٹ کمیٹی برائے داخلہ کا اجلاس پارلیمینٹ ہاؤس میں ہوا۔ سینیٹر رحمان ملک نے واضح کیا کہ وہ قانون جو دین کے قوانین کیخلاف ہے اسکو ہم منظور نہیں کر سکتے۔ شادی کیلئے عمر کی حد کو ہم نہیں بڑھا سکتے اس معاملہ پر اسلامی تعلیمات کو ہی رائج ہونا چاہیے۔ قائمہ کمیٹی نے چائلڈ مریج رسٹرین بل 2007 میں ترامیم کو رد کردیا۔ بل کی محرک پاکستان پیپلز پارٹی کی خاتون سینیٹر سحر کامران ہیں ۔اجلاس میں جسٹس جاوید اقبال کی بطور سربراہ مسنگ کمیشن خدمات کو خراج تحسین پیش کیا گیا کمیٹی نے قراردیا ہے کہ جسٹس جاوید اقبال کے دور میں کافی مسنگ پرسنز کی بازیابی ہوئی امید ہے بطور سربراہ نیب جاوید اقبال قوم کی امنگوں پر پورا اتر یں گے ۔ سینٹر اسرار اللہ اور بلوچستان کے دیگر ارکان نے معاملہ اٹھایا کہ لاپتہ کیس بلوچستان میں بہت زیادہ ہوئے ہیں۔ چیرمین قائمہ کمیٹی نے کہا کہ یہ کیسز ہمارے سامنے لے آئیں، کمیٹی کاروائی کرنے کو تیا ر ہے ۔ اسرار اللہ خان نے کہا کہ میں کیس لایا تو خود بھی لاپتہ ہو جاوں گا۔ بلوچستان حکومت خود لوگ لاپتہ کر رہی ہیں۔ سینیٹر رحمان ملک کا موقف تھا کہ اکثر ایسا ہوتا ہے کہ بیرونی ایجنسیاں لوگ اغوا کرتے ہیں۔ دشمن ملک کی ایجنسیاں بلوچستان میں اغوا میں شامل ہیں۔ کلبھوشن یادو بلوچستان میں کیا کرتا رہا سب کو معلوم ہے۔ ہمیں ہر کیس میں اپنے اداروں کو مورد الزام نہیں ٹھہرانا چاہئے۔ اسرار اللہ زہری نے سنگین الزام عائد کیا ہے کہ بھارتی جاسوس کلبھوشن کے سہولت کار بلوچستان میں بیھٹے ہوئے ہیں ۔ سینیٹر رحمان ملک نے پیش کش کی کمیٹی کا ایک ان کیمرہ اجلاس بلا لیتے ہیں۔ اپ بریفنگ دے دیں مسنگ پرسنز کیسز میں کافی کمی آئی ہے۔آئندہ اجلاس میں وزارت داخلہ سے مسنگ پرسنز پر تفصیلی رپورٹ بھی طلب کر لی گئی ہے ۔ کراچی میں شیعہ مسنگ پرسنز کے معاملے کا نوٹس بھی لے لیا گیا ۔ آئندہ اجلاس میں آئی جی سندھ و وفاقی وزارت داخلہ سے جواب مانگ لیا گیا ہے ۔سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کے چیرمین سینیٹر عبدالرحمان ملک نے کراچی میں چھریوں سے خواتین پرحملوں کا ازخود نوٹس لے لیا اتنی سکیورٹی ایجنسیزکے باوجود ہم چاقوگروپ کو نہ پکڑسکے، رپورٹ مانگ لی گئی ہے،گذشتہ روزچیئرمین کمیٹی کے بیان کے مطابق وزارت داخلہ سے واقعات پرآئندہ اجلاس میں رپورٹ طلب کر لی گئی ہے کمیٹی میں آئی جی سندھ اورسیکریٹری داخلہ کو آئندہ اجلاس میں پیش ہونے کی ہدایت کی گئی ہے ۔

قائمہ کمیٹی

مزید : صفحہ آخر


loading...