پرویز خٹک کا سرکاری کالجوں اور یونیورسٹیوں کے انتظامات چلانے کیلئے حکومتی پلان واپس لینے کا اعلان

پرویز خٹک کا سرکاری کالجوں اور یونیورسٹیوں کے انتظامات چلانے کیلئے حکومتی ...

پشاور( سٹاف رپورٹر)وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا پرویز خٹک نے شعبہ اعلیٰ تعلیم اور شعبہ صحت دونوں کیلئے مشترکہ آزاد مانیٹرنگ یونٹ قائم کرنے کی ہدایت کی ہے تاکہ تعلیم اور صحت کے اداروں میں موثر مانیٹرنگ کے ذریعے عملہ کی حاضری یقینی بنائی جا سکے انہوں نے ہدایت کی کہ اس ضمن میں محکمہ ابتدائی و ثانوی تعلیم کے مانیٹرنگ سسٹم کو اختیار کیا جائے وہ وزیراعلیٰ سیکرٹریٹ پشاور میں شعبہ اعلیٰ تعلیم میں صوبائی حکومت کے اصلاحاتی اقدامات پر چوتھے سٹاک ٹیک اجلاس کی صدارت کر رہے تھے۔وزیراعلیٰ کے مشیر برائے اعلیٰ تعلیم مشتاق غنی، سٹریٹیجک سپورٹ یونٹ کے سربراہ صاحبزادہ سعید ، سیکرٹری اعلیٰ تعلیم ظفر علی شاہ اور دیگر متعلقہ حکام نے اجلاس میں شرکت کی اجلاس میں تیسرے سٹاک ٹیک اجلاس کے فیصلوں کا جائزہ لیا گیا۔ وزیراعلیٰ نے ویمن یونیورسٹی مردان کیلئے اراضی کے حصول کی تجویز اور اسکے لئے مختلف جگہوں کی نشاندہی سے اتفاق کیا۔ انہوں نے سرکاری کالجوں میں بی ایس کلاسوں کے نئے پروگرام کے تحت پیش کی گئی مختلف تجاویز سے بھی اتفاق کیا اور کہا کہ ان کی حکومت صوبے میں تعلیمی نظام کو اپگریڈ کرنے کیلئے بھرپور اقدامات اٹھائیگی۔ انہوں نے کالجز کی عدم مرکزیت) decentralization ) کو بھرپور طریقے سے مشتہر کرنے اور اس سلسلے میں معاشرے کے تمام طبقات سے سفارشات حاصل کرنے کی ہدایت کی ہے انہوں نے کہا کہ سرکاری کالجوں کی عدم مرکزیت اور ان کو بااختیار بنانے کے حوالے سے حکومت کی نیک نیتی کو مخالفین نے اپنے سیاسی مقاصد کیلئے تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ یہ بے بنیاد الزامات ان قوتوں کی طرف سے طے کئے جا رہے ہیں جو تعلیم کے پرانے ناکارہ نظام کے ذریعے ذاتی مفادات حاصل کرتے رہے یہی مفادپرست عناصر آج بھی عوام کو گمراہ کر رہے ہیںیہی وجہ ہے کہ آج تک تعلیمی نظام کو اس سطح تک اپ گریڈ نہیں کیا گیا جو ہونا چاہئے تھا۔ موجودہ حالات میں طلباء کو صرف ڈگری دینے پر اکتفاء کرنا ایک بہت بڑا مذاق ہے۔ پرانے تعلیمی نظام کا کوئی مقصد اور استعمال نہیں ہے۔ اس لئے ان کی حکومت نے تعلیمی نظام کو اپ گریڈ کرنے ، تعلیمی اداروں کی مانیٹرنگ اور ایوالویشن کا فیصلہ کیا ہے ۔وزیراعلیٰ نے صوبے کے تمام کالجوں میں عملے کی حاضری یقینی بنانے کیلئے بائیومیٹرک سسٹم کی ہدایت کی اور کہا کہ غیر حاضری کی حوصلہ شکنی کی جانی چاہئے۔ وہ اساتذہ جو بغیر کسی وجہ کے عادتاً اور ارادتاً غیر حاضر رہتے ہیں وہ ان غیر حاضر ایام کی تنخواہ لینے کے حقدار نہیں ہیں اسلئے غیرحاضری پر تنخواہوں کی کٹوتی کا سسٹم موجود ہونا چاہئے ہم ایک ایسا تعلیمی نظام دینا چاہتے ہیں جس میں ہر شخص اپنے فرائض ایمانداری اور بہترین طریقے سے سرانجام دے کالجز میں کلاسوں کو سٹریم لائن کیا جائے اور بی ایس پروگرام کو فروغ دیا جائے وہ طلباء جو اپنی سٹڈی میں کمزور ہیں ان کے لئے شام کے اوقات میں ٹیوشن کا بندوبست بھی ہونا چاہئے پرویز خٹک نے کہا کہ وہ طلباء کے مستقبل کی قیمت پر کسی شخص کو بھی رعایت دینے کی اجازت نہیں دے سکتے۔ تعلیم کے اپگریڈڈ نظام کو زیادہ توجہ کی ضرورت ہے حکومت کالجز کو مضبوط کرنے، لیبارٹریز کو بہتر کرنے، اساتذہ کی موثر تربیت پر خرچہ کریگی تاکہ بی ایس پروگرام کا نفاذ ممکن ہو سکے ۔ معیاری تعلیم ہمارا ہدف ہے کیونکہ ہم اپنے بچوں کو دھوکہ نہیں دے سکتے۔ تعلیم کے معیار کو متاثر کرنے کیلئے اوپر کی سطح سے یا دائیں بائیں سے کسی قسم کی غیر ضروری مداخلت اور سفارش کی گنجائش نہیں ہونی چاہئے وزیراعلیٰ نے یاد دلایا کہ حکومت ہر کالج کیلئے مطلوبہ وسائل پہلے سے مختص کر چکی ہے اور تعلیم کے مجموعی نظام کو فعال و معیاری بنانے کیلئے اختیارات منتقل کئے گئے ہیں جس کا مقصد یہی ہے کہ تمام تر رکاوٹوں اور کمزوریوں کو دور کرکے تعلیمی نظام کو پنپنے کا موقع دیا جائے کیونکہ اپنے تعلیمی نظام کو بین الاقوامی معیار سے ہم آہنگ کرنے کا یہی واحد اور آخری طریقہ ہے۔

پشاور( سٹاف رپورٹر)وزیر اعلیٰ خیبر پختونخواہ پرویز خٹک نے سرکاری ہسپتالوں میں موجودہ ریفرل سسٹم پر عدم اطمینان کا اظہار کیا ہے اور سسٹم میں تمام تر کمزوریوں کو فوری طور پر دور کرنے کی ہدایت کی ہے وہ وزیراعلیٰ سیکرٹریٹ پشاور میں مختلف طبی مراکز کی اپ گریڈیشن، طبی سہولیات کو بہتر کرنے، اور مقامی ہیلتھ کئیر سنٹرز میں غریب عوام کی شکایات کا ازالہ کرنے کے حوالے سے اعلیٰ سطح اجلاس کی صدارت کر رہے تھے ۔ سیکرٹری صحت عابد مجید اور دیگر متعلقہ حکام نے اجلاس میں شرکت کی۔ وزیراعلیٰ نے موجودہ ریفرل سسٹم کو ناکارہ اور اندھا قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایسا لگتا ہے کہ مقامی سطح پر ہیلتھ کئیر کے اپ گریڈڈ سسٹم میں استعدادموجود ہونے کے باوجود غریب مریضوں کو مقامی سطح پر طبی سہولیات فراہم کرنے کے بجائے دوسرے ہسپتالوں پر بوجھ ڈالا جا رہا ہے۔ ریفرل سسٹم کی کمزوریاں دور کرکے مضبوط کرنے کی ضرورت ہے۔ پرویز خٹک نے جلوزئی میں بی ایچ یو اور آر ایچ سی کی اپ گریڈیشن سے اتفاق کیاتا ہم رورل ہیلتھ سنٹر اسی دستیاب جگہ پر تعمیر کیا جائے گا جس کا پی سی ون تیار ہے۔ وزیراعلیٰ نے اس کی فیز بیلٹی تیار کرنے کی ہدایت کی۔ انہوں نے رورل ہیلتھ سنٹر سپین ڈاگ اور پہلے سے منتخب دستیاب اراضی پر ازاخیل بالا ہسپتال کی تعمیر کے احکامات بھی جاری کئے انہوں نے تحٹ بھائی ہسپتال میں ملازمین کی منتقلی کی ہدایت کی اور تنبیہ کی ڈیٹیلمنٹ کلچر کی حوصلہ شکنی کی جائے۔ انہوں نے یقین دلایا کہ حکومت وسائل فراہم کریگی۔ تا ہم وزیراعلیٰ نے کہا کہ ضلعی حکومت کو شعبہ صحت کے وسائل کا اپنا حصہ ڈسٹرکٹ ہیلتھ کئیر سسٹم کو اپگریڈ کرنے کے عمل میں ڈالنا چاہئے یہ ماڈل ضلع نوشہرہ میں پہلے سے موجود ہے جس کے تحت ضلع کے اندر مختلف طبی اور صحت کے مراکز کی اپگریڈیشن کیلئے وسائل مہیا کئے جا رہے ہیں۔

پشاور( سٹاف رپورٹر)وزیر اعلیٰ خیبر پختونخواہ پرویز خٹک نے صوبے کے سرکاری کالجوں اور یونیورسٹیوں کے انتظامات چلانے کیلئے مجوزہ بورڈ آف گورنرز کے قیام کا حکومتی پلان واپس لینے کا اعلان کیا ہے۔اس کا اظہار انہوں نے وزیراعلیٰ سیکرٹریٹ پشاور میں پروفیسرز اینڈ لیکچرز ایسوسی ایشن کے وفد کے ساتھ ملاقات کے دوران کیا۔ وزیراعلیٰ کے مشیر برائے اعلیٰ تعلیم مشتاق غنی ، متعلقہ انتظامی سیکرٹری اور ایسوسی ایشن کے عہدیدار بھی اس موقع پر موجود تھے۔ایسوسی ایشن نے وزیراعلیٰ سے ملاقات کے دوران صوبے میں اعلیٰ تعلیم کے شعبے میں اصلاحات سے متعلق بعض اقدامات پر اپنے تحفظات کا اظہار کیاجس پر وزیراعلیٰ نے کالجز میں انتظامی بورڈ آف گورنرز کے پلان کے خاتمے کا اعلان کرتے ہوئے اس بات پر افسوس کااظہار کیا کہ بعض ذاتی مفادات کیلئے حکومت پر دباؤ ڈالنا ، طلبا و طالبات کو بھی سڑکوں پرلانا اورسرکاری کالجز کی تالہ بندی کرنا صوبائی حکومت کو کسی صورت قابل قبول نہیں۔ انہوں نے کہاکہ محکمہ اعلیٰ تعلیم میں اصلاحات کا مجموعی پلان ایک نیک جذبے کے ساتھ بنایا گیا ہے۔انہوں نے کہاکہ حکومت کے اس پر خلوص اقدام کے خلاف احتجاج بلا جواز ہے جس کی وجہ سے پورا معاشرتی تانابانا بگاڑ کا شکار ہو سکتا ہے تاہم صوبائی حکومت کسی پر یکطرفہ دباؤ ڈالنے اور ضد پر قائم رہنے کی بجائے افہام و تفہیم کا راستہ اپنانا ضروری سمجھتی ہے۔ پرویز خٹک نے کہاکہ تعلیمی اداروں کی بندش اور اصلاحات کے خلاف پروپیگنڈہ کسی صورت نہیں ہونا چاہیئے۔ احتجاج ریکارڈ کرنے کے دوسرے کئی طریقے ہو سکتے ہیں اور یہ لامحالہ حکومت تک پہنچتے بھی ہیں۔انہوں نے کہاکہ انتہائی دباؤ ، پروپیگنڈہ اور بچوں کے مستقبل پر سیاست شروع ہونے کے سبب جبکہ طلباء کو تعلیمی اداروں سے نکال کر سڑکوں پر احتجاج کے لئے مجبور کیا گیا تو صوبائی حکومت نے حالات کی نزاکت کو بھانپتے ہوئے صوبے میں تعلیمی اصلاحات سے بورڈ آف گورنرز کا صیغہ نکالنے اور اس بارے میں اپنا فیصلہ واپس لینے کو ہی بہتر سمجھا۔وزیراعلیٰ نے کہاکہ مستقبل میں اس احتجاج اور شور شرابے اور اس کے نتیجے میں مجبوراً حکومتی فیصلے کی واپسی کا نقصان سب پر جلد آشکارہ ہو گامگر تب ایسا کرنے والے ہی مورد الزام ٹہرائے جائیں گے اور اس کا نقصان اُن کو بھی ہو گا۔ انہوں نے واضح کیا کہ اُن کی حکومت تبدیلی کے ایجنڈے کے ساتھ برسراقتدار آئی ہے اور اس تبدیلی کا مقصد فرسودہ اور زنگ آلود حکومتی نظام کو شفاف اور عوام دوست پالیسیوں کے ساتھ بدلنا ہے۔انہوں نے کہاکہ صوبائی حکومت نے اسی مقصد کے تحت محکمہ اعلیٰ تعلیم کے زیر اہتمام تعلیمی اداروں کے لئے بورڈ ز آف گورنرز کے قیام کا فیصلہ کیا تھا تاکہ ان اداروں کے انتظامی اور مالی حالات بہتر ہوں اور اُنہیں ہر لحاظ سے خود مختاری دے کر مقابلے کی فضاء قائم کی جائے۔انہوں نے اُمید ظاہر کی کہ فیصلے کی واپسی کے باوجود تعلیمی اداروں کے اعلیٰ انتظامات اور معیار تعلیم کی بہتری کا سفر زور و شور سے جاری رہے گا۔انہوں نے کہاکہ اُن کی حکومت اساتذہ ، لیکچررز اور پروفیسر برادری کو بیوروکریسی کے چنگل سے آزادی دلانا چاہتی ہے اور اُنہیں زیادہ سے زیادہ اختیارات دینے کی حامی ہے تاکہ وہ تعلیمی اداروں کی ترقی و استحقام کے لئے زیادہ فعال کام کرسکے اور معیار تعلیم دن دُگنی رات چوگنی بہتر بنے۔اگر اساتذہ برادری اپنے ہی مفاد کے کسی اقدام کے ساتھ متفق نہ ہو تو حکومت کے پاس ایسا فیصلہ اور پلان واپس لینے کے سوا کوئی چارہ نہیں رہتا۔پرویز خٹک نے واضح کیا کہ اس فیصلے کے باوجو دتعلیمی اداروں میں اصلاحات کا عمل جاری رہے گااور بالخصوص ڈیوٹی سے غیر حاضری جیسی لعنت کے خاتمے کیلئے بائیو میٹرک سسٹم اور مانیٹرنگ نظام پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا۔ انہوں نے کہاکہ ایسا نہیں ہو سکتا کہ اساتذہ سمیت تمام سرکاری ملازمین تنخواہ تو باقاعدگی سے لیں مگر ڈیوٹی اپنی مرضی سے کریں چاہے قوم کا نقصان ہی کیوں نہ ہو۔اُنہیں ڈیوٹی بھی لازمی کرنی ہوگی اور سو فیصدحاضری یقینی بنانا ہو گی ۔انہوں نے اساتذہ کے لئے پروفیشنل الاؤنس سمیت بعض مطالبات کو غیر منطقی قرار دیتے ہوئے کہاکہ اگرچہ صوبائی حکومت اساتذہ سمیت تمام طبقوں کی فلاح و بہبود کی ضامن ہے مگر قوم پر غیر ضروری معاشی بوجھ نہیں بڑھنے دے گی ۔انہوں نے واضح کیاکہ صوبے کے مجموعی ساڑھے پانچ کھرب روپے کے وسائل میں سے چار کھرب روپے سے زائدصرف تنخواہوں پر خرچ ہو جاتے ہیں۔ صوبائی بجٹ کے صرف ایک کھرب 15 ارب روپے کا ترقیاتی پلان بنتا ہے جس میں سے بھی 30 ارب روپے بلدیاتی اداروں کو منتقل ہو جاتے ہیں۔ اس لئے اگر پروفیشنل الاؤنس جیسے مزید مراعات کا بوجھ غیر منطقی انداز میں خزانے پر ڈالا گیا تو یہ پورے صوبے کا بٹہ بٹھانے کے مترادف ہو گاکیونکہ اونٹ پر بھی اُس کی بساط سے زیادہ بوجھ ڈالا جائے تو وہ بھی بالاآخر بیٹھ جاتا ہے۔وزیراعلیٰ نے کہاکہ وہ پروفیسرز اور لیکچررز کیلئے ایک بہتر فلاحی پلان کا ارادہ رکھتے تھے اور یہ صوبے میں اعلیٰ تعلیم کے شعبے میں اصلاحات کے سلسلے میں کافی بہتر تھا تاہم اگر اساتذہ برادری اس کو اپنے مفاد میں بہتر نہیں سمجھتی تو بورڈ آف ڈائریکٹرز کے قیام کا فیصلہ واپس لے لیتے ہیں اور اس سلسلے میں انہوں نے محکمہ اعلیٰ تعلیم کو ضروری ہدایات بھی جاری کردی ہیں۔

مزید : کراچی صفحہ اول


loading...