خیبر ایجنسی ،لنڈی کوتل کے قبائل اور افغان مشران کا مشترکہ گرینڈ جرگہ

خیبر ایجنسی ،لنڈی کوتل کے قبائل اور افغان مشران کا مشترکہ گرینڈ جرگہ

خیبر ایجنسی (بیورورپورٹ)لنڈیکوتل کے قبائلی مشران اور افغان مشران کے درمیان مچنی چیک پوسٹ پر دونوں ممالک میں امن اومان کے حوالے سے گرینڈ جرگہ منعقد ہوا گرینڈ جرگے میں دونوں ملکوں کے آپس میں برادرانہ تعلقات برقرار رکھنے اور بھائی چارے کو فروغ دینے پر بات چیت کی گئی، ذرائع کے مطابق لنڈیکوتل مچنی چیک پوسٹ پر قبائلی مشران جن کی قیادت ملک دریا خان، ، ملک عبدلرزاق آفریدی، ملک خالد خان آفریدی، ملک عبدالحلیم آفریدی ،ملک محمد حسن عرف خان آفریدی اور ملک پرویز شنواری کرر ہے تھے جبکہ افغانستان کنڑ سے آئے ہوئے گرینڈ جرگے کی قیادت مولوی محمد، مولوی جابر ،مولوی عنایت ،مولوی شیر محمد، استادزکریا ،امیر لعل محمد ،مولوی معلم گل اور استاد اودایا کر رہے تھے جرگے کے اندرونی ذرائع سے معلوم ہوا کہ افغان جرگے نے پاک افغان بارڈر طورخم پر پاسپورٹ اورویزہ میں نرمی اور مریضوں اور خواتین کے ساتھ خصوصی رعایت اور کاروبار کو فروغ دینے پر بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ بارڈر پر سختی کی وجہ سے کاروبار سخت متاثر ہوا ہے ٹرانزٹ سمیت چھوٹے کاروبار کیلئے مواقع پیدا کرنے اور تاجروں کے ساتھ نرمی پر بھی زور دیا جبکہ انہوں نے افغانستان سے آنے والے مریضوں اور خواتین ،بچوں اور بوڑھوں اوربزرگ لوگوں کے ساتھ خصوصی رعایت پر زور دیا قبائلی مشران نے افغان جرگے پر واضح کیا کہ دونوں ملکوں کے درمیان امن اومان، بھائی چارہ اور دوستی برقرار رکھنا اولین ترجیح ہونی چاہئے جبکہ افغانستان ہندوستان اور امریکہ پاکستان کے خلاف سازشیں کر رہے ہیں جس سے باز آنا چاہئے اور کہا کہ جب تک افغانستان میں پاکستان کا دشمن ہندوستان موجود رہتا ہے ،خطے میں امن نہیں آسکتا قبائلی مشران نے افغان جرگے کو بتایا کہ ہندوستان افغانستان میں بیٹھ کر مسلسل پاکستان کے خلاف سازشیں کر کے انتشار پھیلانے میں مصروف ہے قبائلی مشران نے بتا یا کہ وہ چاہتے ہیں کہ بارڈر پر روزگار زیادہ ہو اور تاجروں کو سہولیات مل سکے لیکن اس کیلئے دونوں ملکوں کے درمیان امن، اعتماد بحال رکھنا بہت ضروری ہیں جب تک امن قائم نہیں ہو تااس وقت تک کوئی ملک آگے نہیں جا سکتا آخر میں گرینڈ جرگے کے شرکاء نے بات چیت اور جرگے جاری رکھنے پر اتفاق کیا اور دونوں ملکوں کے درمیان امن بھائی چارے کو فروغ دینے کیلئے کوشیش جا ری رکھنے پر اتفا ق کیا۔۔

مزید : کراچی صفحہ اول


loading...