سرکاری اراضی کو قابضین سے واگزار کروانے کیلئے حکمت عملی مرتب کر لی گئی :امتیاز شاہد قریشی

سرکاری اراضی کو قابضین سے واگزار کروانے کیلئے حکمت عملی مرتب کر لی گئی ...

پشاور( سٹاف رپورٹر)خیبر پختونخوا کے وزیر قانون،پارلیمانی امور اور انسانی حقوق امتیاز شاہد قریشی نے کہا ہے کہ چیف سیکرٹری خیبر پختونخوا کے احکامات کی روشنی میں یونین کونسل جرما اور چمپئی ضلع کوہاٹ میں عرصہ دراز سے سرکاری اور غیر سرکاری زمینوں کو غیر قانونی قابضین سے واگزار کروانے کے لئے حکمت عملی مرتب کی گئی ہے تاکہ غیر قانونی قابضین کو ہٹا کر وہاں کے حقدار لوگوں کو بروقت ان کے حقوق کی ادائیگی ممکن ہو سکے۔انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت سنجیدگی کیساتھ وہاں زمینوں کے صاف،شفاف انتقالات اور مالکانہ حقوق کی ادائیگی میں کوئی کسر نہیں چھوڑے گی۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے بدھ کے روز چیف سیکرٹری خیبر پختونخوا محمد اعظم خان کے ساتھ ان کے دفتر میں اجلاس کے بعد کیاجس میں SMBR،ڈپٹی کمشنر کوہاٹ خالد الیاس ،ایڈیشنل اسسٹنٹ کمشنر اور دیگر متعلقہ حکام نے شرکت کی۔اجلاس کے دوران غیر قانونی قابضین کو ہٹانے کے بعد حقدار لوگوں کو مالکانہ حقوق کی فراہمی کیلئے کمشنر کوہاٹ،ڈپٹی کمشنر کوہاٹ اور محکمہ مال کے نمائندوں پر مشتمل کمیٹی تشکیل دے دی گئی جو یونین کونسل جرماکے متعلق 30دن میں اور یونین کونسل چمپئی کی10دن کے اندر اندر تفصیلی رپورٹ متعلقہ افسران کو ارسال کرے گی تاکہ تمام قانونی تقاضے پورا کرنے کے بعد مذکورہ زیر التواء مسئلے کا قانونی حل نکالا جاسکے۔وزیر قانون امتیاز شاہد قریشی نے کہا کہ متعلقہ صوبائی حکومتی ادارے1973 سے وہاں غیر قانونی قابضین کا ریکارڈ مرتب کر کے تمام قانونی تقاضوں کو مد نظر رکھتے ہوئے قبضوں اور تجاوزات کو ہٹایا جائیگا جس سے وہاں حکومت کی طرف سے ترقیاتی منصوبوں کی تکمیل کیلئے راہ ہموار ہو جائے گی تاکہ وہاں کے غریب عوام کی حق تلفی کا مداوا کرنے کے مواقع دستیاب ہو سکیں۔انہوں نے کہا کہ اس گھمبیر مسئلے کے حل کے لئے تمام قانونی تقاضوں کی روشنی میں (پٹواری،تحصیل دار) محکمہ مال کے متعلقہ حکام کی جانب سے ریکارڈ فراہمی کے بعد زمینی حقائق کو مد نظر رکھتے ہوئے مزید فیصلے کئے جائیں گے تاکہ علاقے کی ترقی کی راہ میں رکاوٹیں ہٹاکر وہاں ایک مربوط نظام کے تحت سرکاری زمینوں کو مفاد عامہ اور ترقیاتی منصوبوں کیلئے استعمال کیاجاسکے۔وزیر قانون نے کہا کہ موجودہ صوبائی حکومت نے تجاوزات کے خاتمے کے لئے اقدامات مکمل کر لئے ہیں جس کے بعد دور دراز علاقوں میں بھی سرکاری زمینوں پر غیر قانونی قبضے اور تجاوزات کا مکمل خاتمہ ناگزیر ہے تاکہ عوام الناس کی خدمت کرنے میں کوئی تاخیر نہ ہو۔وزیر قانون نے مزید کہا کہ قانون اور آئین کی بالا دستی کو ہر صورت یقینی بنا یا جائے گا تاکہ صوبے کے ہر کونے میں عوام موجودہ صوبائی حکومت کے اٹھائے گئے اقدامات کے ثمرات سے مکمل طور پر مستفید ہو سکیں۔

مزید : پشاورصفحہ آخر


loading...