آزاد کشمیر نے 1947کے مقابلے میں کئی گنا ترقی کی،سید آصف حسین

آزاد کشمیر نے 1947کے مقابلے میں کئی گنا ترقی کی،سید آصف حسین

مظفرآباد( بیورورپورٹ)آزاد کشمیر کے ایڈیشنل چیف سیکرٹری ترقیات ڈاکٹر سید آصف حسین شاہ نے کہا ہے کہ آزاد کشمیر نے 1947کے مقابلے میں کئی گنا ترقی کی ہے۔لنک روڈ کی بجائے بڑی بڑی شاہراہوں کی تعمیر حکومت کی ترجیح ہے ۔تمام بڑی شاہرات کے لئے اڑھائی ارب مختص کر دیے جن پر کام جاری ہے ۔ سڑکوں کی تعمیر کیلئے ایشیائی ترقیاتی بنک کا 6ارب روپے کا منصوبہ اس کے علاوہ ہے ۔ بے روزگاری آزاد کشمیر کا سب سے بڑا مسئلہ ہے جس پر قابو پانے کے حکمت عملی تیار ، وسائل مختص کر دیے ۔سی پیک میں آزاد کشمیر کے منصوبے شامل ہونے سے آزاد خطہ میں معاشی انقلاب آئے گا۔ 23ار ب کیا آزاد کشمیر کی حکومتی مشینری 40ارب روپے ترقیاتی فنڈزخرچ کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے ۔یہ تاثر غلط ہے کہ آزاد کشمیر کے ترقیاتی اور غیرترقیاتی بجٹ میں بہت فرق ہے ۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے پی آئی ڈی فورم فاراوئیرنیس اینڈ پبلسٹی میں آزاد کشمیر میں 1947سے لیکر آج تک ہونے والے ترقیاتی عمل پر اظہار خیال کرتے ہوئے کیا ۔ ڈاکٹر سید آصف حسین شاہ نے کہاکہ آزاد کشمیر میں موجود ہ حکومت کا ترقیاتی وژن ’’پائیدار ترقی جو کہ نجی شعبہ کے ساتھ ہوگی ‘‘جوعوام کو روزگار مہیا کرے گی۔ 1947میں کچھ بھی نہیں تھا ۔ ادارے نہیں تھے بجلی ، ٹیلی فون تک کی سہولیات تک نہیں تھیں جو کچھ بھی تھا برائے نام تھا ۔ 1947سے 1971-72آزاد حکومت کا کل وقتی فوکس تحریک آزادی رہا جس کے باعث تعمیر وترقی کے حوالے سے زیادہ ترقی نہیں ہوئی 1971-72سے 2005کے درمیان چھوٹے پیمانے پر ترقیاتی منصوبوں کی طرف توجہ دی گئی اور بنیادی ترقیاتی ضروریات کو فوکس رکھا گیا تاہم 2005کے زلزلہ میں دارالحکومت سمیت باغ ، راولاکوٹ ، میں ترقیاتی انفراسٹرکچر تباہ ہوگیا ۔ 2005سے 2017تک کا عرصہ آزاد کشمیر میں میگا ترقیاتی منصوبوں کی تکمیل کا رہا ۔ اس عرصہ کے دوران آزاد کشمیر میں ترقی کے حوالے سے ہمارے وژن میں تبدیلی آئی اور ہم عالمی معیار کی تعمیرات اور سروسز ڈلیوری کی طرف آئے ۔ آج بھی مظفرآباد میں کالجوں کی تعمیر ایسی شاندار ہے کہ ایسی مثال پاکستان میں بھی کبھی نہیں ملتی ۔ مظفرآباد ، راولاکوٹ کے ہسپتالوں میں دنیا کی جدید ترین مشینری کی تنصیب ہوئی ہے ، سیکرٹریٹ بلاکس بنے ، کوہالہ سے سے چکوٹھی تک ، مظفرآباد سے نیلم ، کوہالہ سے دھیر کورٹ سڑکوں اور نلوچھی پل کی شاندار تعمیر کی گئی ۔ 2005سے پرائمری اور سیکنڈری سطح پر ایجوکیشن کی طرف خصوصی توجہ دی گئی ۔ دیہی ترقی ، پبلک ہیلتھ اور صحت کے شعبوں پر بھی مرکوز کیا گیا ۔ 2005کے بعد ہم بڑے پیمانے پر ترقیاتی عمل کی طر ف آئے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ حکومت کی تین بڑی ترجیحات ہیں جن میں تحریک آزاد ی کو اقوام متحدہ کی قرار دادوں کی روشنی میں اجاگر کرنا ، گڈ گورننس اورتعمیر وترقی شامل ہیں ۔ تحریک آزادی کشمیر کے حوالے سے جناب صدر اور جناب وزیر اعظم بھر پور اقدامات اٹھا رہے ہیں ۔ تحریک آزاد ی کشمیر کو اجاگر کرنے اور مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم کو بے نقاب کرنے کے لئے صدر ریاست سردار محمد مسعود خان ، وزیر اعظم راجہ محمد فاروق حیدر خان ، تسلسل کے ساتھ اقوام متحدہ ، یورپی یونین اور برطانوی اداروں کے دورے کر رہے ہیں جس کے نتیجہ میں اقوام متحدہ کی کونسل برائے انسانی حقوق مقبوضہ کشمیر میں فیکٹ فائنڈنگ مشن بھجوانے کی پیشکش کر چکی ہے ۔ جس پر بھارتی حکومت نے ہٹ دھرمی دکھاتے ہوئے مشن کو مقبوضہ کشمیر جانے کی اجازت نہیں دی ۔ گڈ گورننس کے حوالے سے آزاد خطہ کے اندر میرٹ ، انتظامی اصلاحات ، رولز میں ترامیم ، سفارش کا خاتمہ ۔ بلا تخصیص آئین و قانون کا بول بالا کرنے کے لئے اقدامات اٹھا ئے جارہے ہیں خاص طور پر سرکاری محکموں میں بھرتیوں کے عمل کو مکمل طور پر شفاف بنادیا گیا ۔ محکمہ تعلیم میں این ٹی ایس کے تحت امتحانات کا انعقاد کر کے موزوں امیدواروں کو بلا سفارش بھرتی کیا جارہا ہے ۔ مختلف محکموں میں چور دروازے سے بھرتیوں کے عمل کو بند کر کے اسامیوں کو باقاعدہ مشتہر کر کے اور ٹیسٹ و انٹرویو کے عمل سے گزارنے کے بعد بھرتیاں کی جارہی ہیں ۔ سڑکوں اورعمارات کے ٹھیکے دینے کے عمل کو مکمل طور پر شفاف بنا دیا گیا ہے کمشن مافیا سے عوام کو نجات دلادی گئی ہے ۔ ڈویلپمنٹ کے حوالے سے آج کا ترقیاتی بجٹ آزاد کشمیر کی تاریخ کا سب سے بڑ ا ترقیاتی بجٹ ہے جس کے باعث پہلی بار آزاد کشمیر کی تمام بڑ ی بڑی سڑکیں جن میں آزاد کشمیر کو پاکستان سے ملانے والی ضلعی اور تحصیل کے درمیان سڑکوں کو کشادہ کرنے اور ان کی معیاری تعمیر کے لئے اڑھائی ارب کی خطیررقم بجٹ میں مختص کر دی گئی ہے ۔ اس سے قبل ارکان اسمبلی کو 25،25کلومیٹر لنک روڈز کی تعمیر کے لیے بجٹ دیا جاتا تھا جو اس حکومت نے کم کر کے 10کلومیٹر فی حلقہ پر لے آئی ہے جبکہ میجر روڈز کی تعمیر کے لئے اڑھائی ارب روپے مختص کر دئیے گئے ہیں ۔ اس کے علاوہ پونچھ ڈویژن میں ایشین ڈویلپمنٹ بینک کے تعاون سے سڑکوں کی تعمیر پر 6ارب روپے خرچ کیے جارہے ہیں۔ ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ آزا دکشمیر میں سب سے بڑا معاشی مسئلہ بے روز گاری ہے جس کے حل کے لئے حکومت مرحلہ وار پائیدار اقدامات اٹھا رہی ہے ۔ اس مسئلہ کو سمجھنے کے لئے ضروری ہے کہ آزاد کشمیر کے معروضی حالات کودیکھ لیا جائے جیسے آزاد کشمیر میں بڑے بڑے تعلیمی ادارے بننے کے بعد خواندگی کی شرح میں بہت اضافہ ہو ا ہے اور اب ساری یونیورسٹیوں ، کالجز اور میڈیکل کالجز سے بہت بڑی تعداد میں طلباء طالبات فارغ التحصیل ہو رہے ہیں ۔ان سب کو سرکاری شعبہ میں روز گار فراہم کرنا ناممکن ہے دوسری طرف سے سرکاری شعبہ میں اس وقت لگ بھگ ایک لاکھ سرکاری ملازمین کام کر رہے ہیں مزید بھرتیوں کی گنجائش ختم ہو چکی مزید آزادکشمیر کے جنوبی اضلاع میں بالخصوص اور آزاد کشمیر میں باالعموم لوگ روزگارکیلئے بیرون ملک کا رخ کرتے تھے جن کا تناسب اب کافی حد تک کم ہو چکا ہے ۔ سعودی عرب ، یو اے ای ، یورپ میں روزگار کے مواقع کم ہونے کے بعد لوگوں کی وطن واپسی ہو رہی ہے اس وجہ سے آزاد کشمیر میں بے روزگاری کی شرح پاکستان سے بھی بلند ہے ۔ اس مسئلہ کے حل کے لئے حکومت بہت سنجیدہ ہے اور اس کو مرحلہ وار حل کر رہی ہے ۔ جس کے تحت انفارمیشن ٹیکنالوجی اور ٹیوٹا کے اشتراک سے بے روز گاروں کو کو فنی تربیت کے لئے خطیر رقم مختص کی گئی ہے جبکہ حکومت پنجاب کے تعاون سے 75کروڑ روپے فنی تربیت کے لئے مختص کئے گئے ہیں ۔ سیاحت کے شعبہ پر بھی خصوصی توجہ دی جارہی ہے تاکہ روز گار کے لئے مواقع پیداہوں۔غیر ترقیاتی بجٹ بہت زیادہ ہونے سے متعلق ایک اور سوال پر انہوں نے کہا کہ یہ تاثر غلط ہے کیونکہ 75فیصد غیر ترقیاتی بجٹ میں صحت ، تعلیم ، بجلی ، لائیوسٹاک ، زراعت کے شعبوں میں خرچ ہونے والا بجٹ دراصل ترقیاتی ہی ہے ایک استاد جب تنخواہ لیتا ہے تو وہ طلبہ کو تعلیم تربیت دیتا ہے جو کہ معاشی ترقی کے قومی دھارے میں شامل ہو جاتا ہے اسی طرح دوسرے شعبے ہیں ۔ تاہم ماضی کے حکومتی ادوار میں محض 11سے 12ارب روپے ترقیات پر خرچ ہوئے تھے جبکہ موجودہ حکومت 23ارب سے زائد کی خطیر رقم آزاد کشمیر کی ترقی پر خرچ کر رہی ہے ۔

مزید : راولپنڈی صفحہ آخر


loading...