فلمی و ادابی شخصیات کے سکینڈلز...قسط نمبر 239

فلمی و ادابی شخصیات کے سکینڈلز...قسط نمبر 239
فلمی و ادابی شخصیات کے سکینڈلز...قسط نمبر 239

  


حمایت علی شاعر ایک جانے اور مانے ہوئے شاعر ادیب اور نقّاد ہیں۔ مشاعروں میں بھی ہاتھوں ہاتھ لئے جاتے ہیں یہاں تک کہ بیرونی ممالک کے مشاعروں میں بھی اصرار سے بلائے جاتے ہیں۔

ایک بار ہم کینیڈا میں تھے جب پاکستان سے شاعروں کا ایک وفد وہاں پہنچا۔ جمیل الدین عالی‘ صہبا اختر‘ ضمیر جعفری اور حمایت علی شاعر اس میں شامل تھے۔ ہماری مشاعرہ گاہ میں ان سے ملاقات ہوئی۔ کافی عرصے بعد ملے تھے اسلئے بہت دیر تک باتیں ہوتی رہیں۔ دوسرے دن ہم اپنی کار لے کر ان کے ہوٹل پہنچ گئے۔ ان کے پاس وقت بہت کم تھا مگر ہم نے حسب استطاعت انہیں ٹورنٹو کا شہر دکھا دیا۔ اس شہر میں ہم دو تین ماہ سے مقیم تھے اور اس سے بخوبی روشناس ہو چکے تھے۔

حمایت صاحب فقرہ بازی کا لطف تو لیتے ہیں مگر خود اس سے ذرا پرہیز ہی کرتے ہیں۔ خاموش مسکرانے اور بالوں کی لٹیں سنوارنے میں لگے رہتے ہیں۔ بالوں کو سنوارنے کا یہ دلکش انداز ہم نے ان میں دیکھا یا پھر ہدایت کار خلیل قیصر میں۔ ان دونوں کی شخصیت میں اس انداز نے مزید کشش پیدا کر دی تھی۔

فلمی و ادابی شخصیات کے سکینڈلز...قسط نمبر 238 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

حمایت علی شاعر اپنا کلام سنانے کے معاملے میں کافی کنجوس ہیں۔ دوستوں کی نجی محفلوں میں فرمائش اور اصرار کے باوجود شاعری سے پرہیز کرتے ہیں۔ اسی زمانے میں ایک بار جب فلم ساز راشد مختار فلم ’’عندلیب‘‘ بنا رہے تھے تو ان کے گھر پر رات کے کھانے کے بعد محفل آراستہ ہوئی۔ سرور بارہ بنکوی اور حمایت علی شاعر بھی موجود تھے۔ اس روز یہ دونوں قابو میں آگئے اور پھر جب شعر و شاعری کا سلسلہ شروع ہوا تو رات گئے تک جاری رہا۔ ویسی رات پھر دوبارہ نہیں آئی اور نہ ہی ویسی محفل اور وہ لوگ یکجا ہوئے۔

حمایت علی شاعر کا ایک اور لطیفہ بھی ہمیں یاد ہے۔ باری سٹوڈیوز میں ان کی فلم ’’لوری‘‘ کے لئے ایک لوری صدا بند کی جا رہی تھی۔ ہمارا ٹھکانا یوں تو ایورنیو سٹوڈیو میں تھا مگر ان دونوں نگارخانوں کے درمیان میں فاصلہ ہی کتنا ہے۔ عقب سے نکلو اور ایک منٹ میں د وسرے نگار خانے پہنچ جاؤ۔ اس لئے مٹرگشت جاری رہتا تھا۔ ’’لوری‘‘ حمایت علی شاعر کی بطور فلم ساز پہلی فلم تھی اس لئے ہم بھی بطور خاص ان کے گانے کی ریکارڈنگ میں پہنچ گئے۔ لوری کی صدا بندی شروع ہو چکی تھی۔

ہم ریکارڈنگ روم کے پاس پہنچے تو سرخ بتّی روشن ہو چکی تھی۔ یہ اس بات کی علامت تھی کہ ریکارڈنگ شروع ہو چکی ہے۔ کوئی اندر نہ آئے۔ ہم ہال کے باہر انتظار کرنے لگے۔ گانے کی آواز باہر بھی آ رہی تھی۔ بہت اچھّی لوری تھی گانے کی پہلی ٹیک ختم ہوئی اور سرخ بتّی بجھی تو ہم اندر پہنچ گئے۔ حسب معمول پہلے تو وہاں پر موجود تمام حضرات کے ساتھ فقرہ بازی ہوئی۔ احمد رشدی‘ ایس سلیمان‘ خلیل احمد سب ہی موجود تھے۔ ہمیں فلم کی کہانی حمایت صاحب پہلے ہی سنا چکے تھے۔ یہ ایک بچّے کی کہانی ہے جو اپنی ماں سے محروم ہو جاتا ہے۔ طلعت صدیقی نے اس فلم میں سنتوش کمار کی بیگم اور بچے کی ماں کا کردار کیا تھا۔ خلاصہ یہ ہے کہ محمد علی صاحب‘ سنتوش کمار کے بہت لاڈلے چھوٹے بھائی ہیں اور زیبا، محمد علی کی بھابھی یعنی طلعت صدیقی کی لاڈلی بہن ہیں۔ وہ اپنی بہن کے گھر مہمان آتی رہتی ہیں اور وہ اور محمد علی ایک دوسرے سے محبت کرنے لگے ہیں۔ مگر طلعت صدیقی بے خبر ہیں۔ طلعت صدیقی اچانک موت کی آغوش میں پہنچ جاتی ہیں۔ مگر اپنے بچے کی جانب سے بے حد فکرمند ہیں۔ وہ نہیں چاہتیں کہ وہ سوتیلی ماں کی بدسلوکی کا نشانہ بنے چنانچہ وہ بستر مرگ پر اپنی بہن سے یہ وعدہ لیتی ہیں کہ ان کے مرنے کے بعد وہ سنتوش کمار سے شادی کرلیں گی۔ ان کی موت کے بعد زیبا سنتوش کمار سے شادی کرلیتی ہیں۔ محمدعلی اس بات پر بہت ناراض ہیں وہ بچّے کو بھی خالہ سے بدظن کر دیتے ہیں اور جس بچّے کی خاطر زیبا نے اپنے پیار کی قربانی دے کر سنتوش سے شادی کی تھی وہی ان سے نفرت کرنے لگتا ہے۔

طلعت صدیقی جب زندہ تھیں تو اپنے بیٹے کو ایک لوری سنایا کرتی تھیں۔ اس وقت اسی گانے کی صدابندی جاری تھی۔ ہم نے جب گانے کے بول سنے تو حیران رہ گئے۔ ماں بیٹے کو دعائیں دیتے ہوئے کہتی ہیں کہ تو دودھوں نہائے پوتوں پھلے۔ یہ دعا لڑکیوں اور خصوصاً بیاہی عورتوں کو دی جاتی ہے۔ لڑکے ذات کو یہ دعا دینا کہ بیٹا تو دودھوں نہائے پوتوں پھلے سراسر غلط ہے۔ لیکن یہ غلطی سرزد ہو رہی تھی اور بہت سے اہل ذوق اور تعلیم یافتہ لوگوں کے ہوتے ہوئے سرزد ہو رہی تھی۔ ظاہر ہے کہ جب گانا لکھا جاتا ہے تو موسیقار اور ہدایتکار سنتا ہے۔ فلم ساز اور دوسرے لوگ بھی سنتے ہیں۔ پھر اس کی ریہرسل ہوتی ہیں اور بار بار ان بولوں کی تکرار ہوتی ہے۔ اس کے بعد گلوکارہ اس کو سنتی‘ یاد کرتی اور گاتی ہے۔ تب کہیں جا کر صدا بندی کی نوبت آتی ہے مگر ان تمام مراحل سے گزرنے کے باوجود یہ معمولی سی غلطی کسی کے ذہن میں نہیں آئی تھی۔

ہم حمایت صاحب کو ایک طرف لے گئے اور کہا ’’حمایت صاحب! آپ اس بچّے کے دشمن کیوں ہوگئے ہیں؟‘‘

وہ حیران ہو کر پوچھنے لگے ’’کون سے بچے کے؟‘‘

’’یہی جو آپ کی فلم کا کردار ہے‘‘

’’کیوں بھئی کیا ہوا؟‘‘ انہوں نے پوچھا

’’آپ کیوں چاہتے ہیں کہ اس غریب کی جنس بدل جائے اور وہ بڑا ہو کر مرد سے عورت بن جائے۔‘‘

’’بالکل نہیں چاہتا۔ آپ کو کس نے بتایا؟‘‘

ہم نے کہا ’’آپ کے گیت کے بولوں نے‘‘

پھر ہم نے ان سے عرض کیا کہ حضرت اس محاورے کا مطلب یہ ہے کہ جس لڑکی کی شادی ہو رہی ہے وہ اولاد نرینہ کو جنم دے اور اللہ اسے شیرخوار کو پلانے کے لئے دودھ عنایت فرمائے۔ لیکن آپ ایک ماں کی زبانی ایک بیٹے کو یہ دعا دلوا رہے ہیں۔

حمایت صاحب نے سر پکڑ کر کہا’’ حد ہوگئی اتنی فاش غلطی ۔ کسی کا اس طرف دھیان ہی نہیں گیا۔‘‘

حقیقت یہ ہے کہ فلم سازی کے دوران میں بعض اوقات نہایت موٹی موٹی باتیں بھی نگاہوں سے اوجھل رہتی ہیں اور کبھی کبھی تو فلم کی نمائش کے بعد ہی کوئی ان کی طرف توجہ مبذول کراتا ہے تب غلطی کا احساس ہوتا ہے۔

ہم نے ہمیشہ اپنی فلموں میں غلطیوں سے محفوظ رہنے کی کوشش کی ہے مگر اس کے باوجود خطا ہو جاتی ہے۔ ہر ایک کی نظر میں یہ غلطی نہیں آتی مگر کوئی نہ کوئی اس کی طرف توّجہ مبذول کرا دیتا ہے۔ فلم ’’کنیز‘‘ میں ایک پان فروش صاحب نے اس قسم کی ایک غلطی کی طرف متوّجہ کرایا تھا۔ ہماری فلم نمائش پذیر ہو چکی تھی اور سُپرہٹ ہوگئی تھی۔ نقّاد او ر فلم بین تعریفیں بھی کر رہے تھے اور ہم بے حد خوش تھے۔ ایک دن گھر سے نکل کر ٹیکسی کے انتظار میں کھڑے تھے کہ نکڑّ والی دکان کے مرزا صاحب نے ہم کو سلام کیا۔ پان پیش کیا (وہ ہمیں پان مفت پیش کرتے تھے) اور پھر بولے ’’آفاقی صاحب فلم تو آپ نے بہت اچھی بنائی ہے مگر ایک غلطی ہوگئی ہے‘‘

’’وہ کیا؟‘‘ ہم نے پوچھا۔

اس نے کہا ’’صبیحہ کو آپ نے بے حد غریب عورت دکھایا ہے۔ جو چکّی پیس کر گزارہ کرتی ہے مگر ساری وہ نائیلون کی پہنتی ہے۔ آپ نے اسے کوئی سُوتی ساری کیوں نہیں پہنائی؟‘‘

مرزا صاحب کا اعتراض بالکل درست تھا مگر ہم نے فوراً عذر پیش کر دیا اور کہا ’’مرزا صاحب! نائیلون کی ساری کی قیمت تیس پنتیس روپے تو ہوتی ہے مگر اسے بار بار دھونے میں آسانی رہتی ہے اور استری کا جھنجھٹ بھی نہیں ہوتا۔ اس کے علاوہ یہ زیادہ دیر تک چلتی ہے۔‘‘

مرزا صاحب نے اپنا کان کھجایا اور بولے ’’آفاقی صاحب ذرا یہ تو بتائیے کہ آپ کی کہانی کس زمانے سے تعلق رکھتی ہے۔ اس زمانے میں نائیلون کا کپڑا ہوتا کہاں تھا۔ یہ تو حال میں آیا ہے۔ ‘‘

ہم دم بخود رہ گئے۔ پھر کہا ’’مرزا صاحب دراصل فلموں میں کپڑے کی اصلیت کا پتا ہی نہیں چلتا۔ اس کپڑے کی فال اچھی ہوتی ہے اگر سوتی ساری ہوتی تو پھولی پھولی کچھ عجیب سی لگتی۔ ‘‘

مرزا صاحب ’’ہوں‘‘ کر کے چپ ہوگئے مگر صاف ظاہر تھا کہ ہماری دلیل سے قائل نہیں ہوئے تھے۔

بعض اوقات زبان و بیان کی غلطیاں بھی عام فلم بین بتا دیتے ہیں اور ایسی نکتہ چینی کرتے ہیں کہ کیا کوئی نقّاد کرے گا۔

’’کنیز‘‘ کی تکمیل اور ریلیز کے بعد ہماری کامیابیوں کے سفر کا آغاز ہوگیا تھا اور کوئی ہوتا تو فلموں کا تانتا باندھ دیتا مگر ہم بتا چکے ہیں کہ فلم سازی کے معاملے میں ہم کاہل واقع ہوئے تھے۔ اس فلم کی تکمیل کے سلسلے میں جن مراحل سے گزرے تھے اس کے بعد فوری طور پر دوبارہ اس مشکل میں کودنے کو جی نہیں چاہتا تھا۔ ہم نے فلم سازی جس مقصد کے لئے شروع کی تھی اللہ کے فضل و کرم سے اس میں کامیاب ہوگئے تھے‘ مطلب یہ کہ ہم نہ صرف کہانی نویس کے طور پر خود کو منوانے میں کامیاب ہوگئے تھے بلکہ اب ہم کو یہ مجبوری بھی نہیں رہی تھی کہ فلم ساز اپنی شرائط پر ہم سے من مانی کرائے اور ہماری مرضی اور پسند کے خلاف کام کرائے۔ اس وقت ہماری عمر31سال تھی۔(جاری ہے)

فلمی و ادابی شخصیات کے سکینڈلز...قسط نمبر 240 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

مزید : فلمی الف لیلیٰ


loading...