گوادر کو پاکستان کا حصہ بنانے والے سابق وزیراعظم ملک فیروز خان نون کی آپ بیتی۔ ۔۔قسط نمبر 48

گوادر کو پاکستان کا حصہ بنانے والے سابق وزیراعظم ملک فیروز خان نون کی آپ ...
گوادر کو پاکستان کا حصہ بنانے والے سابق وزیراعظم ملک فیروز خان نون کی آپ بیتی۔ ۔۔قسط نمبر 48

  


لندن میں ہائی کمشنر کے طور پر جون 1936ء سے ستمبر 1941ء تک میرا قیام خاصا جذبات انگیز تھا۔ لندن پہنچنے کے بعد، مجھے معمول کی طرح ہز میجسٹی دی کنگ، شہنشاہ ایڈورڈ ہشتم کی خدمت میں حاضر ہونا تھا۔ چنانچہ میں وہاں گیا، رسم کے مطابق رجسٹر میں اپنا نام درج کیا اور ایک مقررہ تاریخ پر مجھے بازیابی کے لئے طلب کرلیا گیا۔

میں نے ہزمیجسٹی سے کہا کہ آکسفورڈ میں مَیں آپ کا ہمعصر رہ چکا ہوں اور آپ سے زیادہ سے زیادہ قربت کا شرف اس وقت حاصل ہوا، جب ہم دو تین نوجوان آپ کے کالج میگڈیلین کے برآمدے سے گزررہے تھے کہ کسی نے ایک کمرے کی طرف اشارہ کرکے بتایا کہ یہ کمرہ شہزادہ ویلز کا ہے۔ دوسری بار مجھے آپ سے ملاقات کا شرف اس وقت حاصل ہوا جب آپ 1921ء میں لاہور تشریف لائے اور مجھے مجلس استقبالیہ کا رکن نامزد کیا گیا۔ ہز میجسٹی نے مجھے خاصی دیر تک بٹھائے رکھا اور جب میں رخصت ہونے لگا تو دروازہ تک چل کر آئے اور پھر وہاں کھڑے ہوکر باتیں کرتے رہے اور کہا کہ آپ ہمیشہ پگڑی باندھا کریں۔ میرے لندن کے دوران قیام میں جب بھی کوئی تقریب منعقد ہوئی میں وہاں پگڑی باندھ کر گیا اور انہوں نے جب بھی مجھے دیکھا۔ بالعموم خود آگے آئے اور مجھ سے مصافحہ کیا۔ جب وہ تخت سے علیحدہ ہوئے تو مجھے بہت دکھ ہوا۔ جن دنوں ان کے تخت سے علیحدگی کے متعلق گفت و شنید ہورہی تھی، میں فطری طور پر اس سے کلیتاً بے تعلق رہا لیکن میں نے محسوس کیا کہ انہوں نے ویلز میں کان کنوں کو خطاب کرکے سخت غلطی کی۔ اسی واقعہ کی بناء پر ان کی اپنی وزارت کے ساتھ تصادم کی نوبت آئی۔ میں یہ سمجھ گیا تھا کہ باڈون، ہیلی فاکس اور آرک بشپ لینگ کی سطح کے لوگوں کے مقابلے میں، جو ان کے ساتھ مذاکرات میں مصروف تھی، ان کی کامیابی کی کوئی توقع نہیں۔ جس رات انہوں نے اپنی علیحدگی کے فیصلہ کا اعلان کیا۔ میں ریڈیو سے کان لگائے بیٹھا تھا۔ ان کے ایک ایک لفظ سے جذبہ حب الوطن ٹپکتا تھا اور اپنے چھوٹے بھائی جانشین بادشاہ کیلئے ان کا اقرار وفاداری بڑا رقت انگیز تھا۔

گوادر کو پاکستان کا حصہ بنانے والے سابق وزیراعظم ملک فیروز خان نون کی آپ بیتی۔ ۔۔قسط نمبر 47  پرھنے کیلئے یہاں کلک کریں

ہائی مشنر برائے ہند کے طور پر میں بین الاقوامی مسائل کے سلسلہ میں درج ذیل کمیٹیوں کے اجلاس میں شرکت کرتا تھا۔

1۔ جہاز رانی کی شاہی کمیٹی۔ ہماری دولت کا ایک گرانقدر حصہ جہازوں کے کرایہ کے طور پر بیرون ملک برآمد کردیا جاتا ہے۔ چینی کمیونسٹوں نے اس نکتہ کو سمجھ لیا ہے، چنانچہ پاکستان، جب پیکنگ سے کوئلہ درآمد کرتا ہے تو اُدھر سے پہلی شرط یہ عائد کی جاتی ہے کہ یہ مال چینی جہازوں میں لاد کر پہنچایا جائے گا۔ افریشیائی اقوام کو جہاز رانی کااپنا نظام قائم کرناچاہیے اس سے زرمبادلہ کا یہ خرچ بچ جائے گا۔

2۔ بحری تار کی شاہی کمیٹی۔ اس کی ساری آمدنی ایک برطانوی کمپنی کو جاتی تھی، جو برطانیہ سے تاروں کی ترسیل اور وصولی کا نظام چلارہی تھی۔ اس کے علاوہ میرا خیال تھا کہ یہ کمیٹی اطلاعات کا ایک موثر ذریعہ بھی تھی اس لئے کہ سارے تار لندن میں اسی کی وساطت سے جاتے تھے۔

3۔ ربر کی ضابطہ کمیٹی۔ انڈونیشیا میں ہالینڈ کا ربر اور ملایا میں برطانوی ربر، ان ملکوں کے خام مال کے اہم ذخائر تھے۔ اس کمیٹی میں ہر دو اقوام کی نمائندگی تھی۔ کوشش ہمیشہ یہ ہوتی تھی کہ تیار شدہ ربر کا مقابلہ پیش نظر رکھا جائے اور ان دنوں (جنگ سے پہلے) اس کی قیمتیں آٹھ پنس فی پونڈ کے لگ بھگ مقرر کی جائیں، تاکہ اس طرح ربر کی عالمی قیمتوں میں غیر معمولی اتار چڑھاؤ پیدا نہ ہو۔

4۔ ایک گندم کمیٹی بھی تھی جو گندم کی عالمی پیداوار اور اس کی قیمتوں پر نظر رکھتی تھی۔ کینیڈا اور آسٹریلیا دونوں گندم برآمد کرتے تھے اور ان کی اقتصادیات کا انحصار کسی حد تک گندم کی قیمتوں پر تھا لیکن برطانیہ سستی گندم کا مطالبہ کرتا تھا۔ اس کمیٹی کی وساطت سے برطانیہ کا ہاتھ قیمتوں کی عالمی شرح، اس کی پیداوار اور حاضر مال کی نبض پر تھا۔

برطانیہ میں ہائی کمشنری کے ابتدائی زمانہ میں ایک بار مجھے ہزمجسٹی شہنشاہ کنگ ایڈورڈ ہشتم کے ہمراہ دیمی رج کی جنگی یادگار کی نقاب کشائی کے لئے فرانس جانا پڑا۔ مسٹرمیلکم میکڈونلڈ اور سرایڈورڈ لیوٹنس (جنہوں نے نیودہلی کی تعمیر کی تھی) اور میں سپیشل ٹرین کے ایک ہی ڈبے میں تھے۔ لیوٹنس نے کچھ تصویریں بنائیں جن سے سبھی محفوظ ہوئے۔ انہوں نے بتایا کہ یہ تصویریں میں نے اپنے پوتوں کو بنا کر دکھائیں تو وہ بھی انہیں دیکھ کر بہت ہنسے۔ ان کے لئے ہم بھی بچے ہی تھے کیونکہ وہ اس وقت خاصے معمر تھے۔ انہوں نے سفر کے دوران میں وقت کٹی کے لئے ہمارے ساتھ بچوں کے کھیل کھیلنے شرع کردئیے۔ مجھ سے انہوں نے پوچھا ’’کیا آپ نے دیا سلائی سے کسی طرح کا جھٹکا محسوس کیا ہے؟‘‘

میں نے کہا ’’نہیں‘‘ انہوں نے ایک ماچس نکالی، اس کی دو تیلیاں باہر کھینچیں اور ان کے سرے جن میں مسالا لگا ہوا تھا، باہم جوڑ کر ماچس بند کردی۔ انہوں نے مجھ سے ایک تیلی پکڑے رکھنے کے لئے کہا اور دوسری تیلی کو ہلانا شروع کردیا۔ اس کے بعد سوال کیا ’’کیا آپ نے کسی طرح کی سنسنی محسوس کی؟‘‘اور میں نے اقرار کیا کہ ’’ہاں‘‘ میلکم اور میں سانس روکے مزید ڈرامائی تجربوں کا انتظار کررہے تھے۔ لیوٹنس نے مجھ سے کہا ’’فرش پر سے ایک پاؤں لیجئے‘‘ میں نے حکم کی تعمیل کی۔ انہوں نے سوال کیا ’’کیا آپ کو ایسا محسوس ہورہا ہے جیسے دوسرا پاؤں کوئی کھینچ رہا ہے؟ میلکم اور میں ان تجربوں پر خوب ہنسے اور لیوٹنس سنہری فریم کی عینک ناک کی پھننگ پرجمائے نشست سے پیٹ جمائے، اس طرح اطمینان سے بیٹھے رہے جیسے کوئی سٹیج کا اداکار اپنے فن کی شاندار نمائش کرکے بیٹھا ہو۔

میں ابتدا میں پگڑی مستقل طور پر باندھے رکھتا تھا۔ ایک دن میں کیپٹن ٹویڈی کے فلیٹ میں بیٹھا تھا۔ میں نے ان کی اہلیہ شیلا ٹویڈی سے کہا کہ آیا مجھے ہر وقت پگڑی باندھنی چاہیے یا کبھی کبھی؟ اور لوگ اسے کس طرح محسوس کرتے ہیں؟ انہوں نے جواب دیا ’’پگڑی دیکھنے میں بھلی لگتی ہے کیونکہ اس کی سج دھج اچھی ہے لیکن جب ہم اپنی طرح کے لوگوں کو دیکھتے ہیں تو زیادہ آسودگی کا احساس ہوتا ہے۔‘‘ تب میں نے اس محاورہ کی دانش ورانہ صداقت یاد کی کہ ’’جیسا دیس ویسا بھیس‘‘ اس کے بعد میں نے پگڑی کا استعمال سرکاری تقریب تک محدود رکھا۔

میں 1937ء میں زراعت کے متعلق ایک بین الاقوامی اجلاس میں شرکت کی غرض سے روم گیا۔ وہاں میں نے دیکھا کہ لوگ دوپہر کا کھانا کھانے کے بعد کام نہیں کرتے بلکہ قیلولہ کرتے ہیں۔ اس کے بعد پھر تقریباً چار بجے سے رات کے کھانے کے وقت تک کام کرتے ہیں۔ کام کے یہ اوقات مجھے پسند نہیں آئے کیونکہ اس طرح سہ پہر کی ورزش کے لئے وقت نہیں نکلتا۔ لیکن میرا خیال ہے کہ گرم ملک کے باشندوں کا دن میں کھانے کے بعد تھوڑا سا سولینا اچھا ہی ہوتا ہے۔ انگلینڈ اور دوسرے سرد ملکوں میں دوپہر کے کھانے کے بعد غنودگی طاری نہیں ہوتی اسی لئے وہاں زیادہ کام ہوتا ہے۔

روم سے ٹرین میں سوار ہوکر مجھے یورپ میں کہیں اور جانا تھا۔ شام کو کھانا کھانے کے لئے میں ریستوران کار میں جا بیٹھا۔ میرے بالمقابل ایک عراقی بزرگ تشریف رکھتے تھے۔ میں نے دیکھا کہ وہ سور کا گوشت کھارہے ہیں۔ میں نے ان سے کہا ’’میرا خیال ہے آپ عیسائی ہیں؟؟‘‘ انہوں نے کہا ’’نہیں میں مسلمان ہوں‘‘ میں نے ان سے سوال کیا کہ آپ سور کا گوشت کیوں کھاتے ہیں؟‘‘ وہ مسکرا کر بولے ’’اس لئے کہ وطن میں یہ چیز نہیں ملتی‘‘ اس فقرے نے مجھے لاجواب کردیا۔ بات چیت کبھی نجی سطح پر نہیں ہونی چاہیے، جب تک کہ لوگ ایک دوسرے سے بخوبی واقف نہ ہوں۔ میرا تجربہ بدقسمتی سے یہ ہے کہ دنیا کے بہت سے مسلمان جنہوں نے یورپ میں تعلیم پائی ہے، کھانے پینے کے معاملے میں محتاط نہیں رہے۔ ممنوعہ گوشت کے بارے میں شرعی احکام کی پابندی پاکستان کے مسلمان نہایت سختی کے ساتھ کرتے ہیں۔ترکی اور مصر دونوں ملکوں میں، ہیں نے دیکھا کہ سور کا گوشت مختلف صورتوں میں کھانے کی میز پر چنا جاتا ہے۔ برطانیہ میں بیشتر یہودی بھی سور کھاتے ہیں۔

لندن سے میں بین الاقوامی ادارہ محنت کے اجلاسوں میں بھی شرکت کے لئے گیا تھا جو 1938ء اور 1939ء میں جنیوا میں منعقد ہوئے تھے۔ میں ہندوستانی وفد کا ائد تھا۔ ایک موقع پر ممبئی کے ٹریڈ یونین لیڈر مسٹر نمکار نے ہندوستان کے منظم مزدوروں کے وفد کی قیادت کی۔ میری ان سے دوستی ہوگئی جو خاصا عرصہ گزرنے کے بعد میرے لئے بہت مفید ثابت ہوئی۔برطانیہ کی طرف سے شرکت کے لئے مسٹرارنسٹ بیوان آئے تھے جو بعد میں لیبر حکومتیں وزیر خارجہ مقرر ہوئے۔ بیوان نہایت اچھے مقرر تھے اور چونکہ بے تکلف اور صاف گو آدمی تھے اس لئے ہماری بہت جلد آپس میں دوستی ہوگئی۔ ایک بار انہوں نے مجھ سے کہاتھا کہ میں چاہتا ہوں کہ ہندوستان آزاد ہوجائے۔ وہ نو آبادیوں کے وجود کو ناپسند کرتے تھے کیونکہ کسی ملک کی خوشحالی کے لئے نوآبادیاں ضرور نہ تھیں۔ انہوں نے ناروے، سویڈن اور سوئٹزرلینڈ کے نام لئے جو نو آبادیاتی طاقتیں نہیں۔ انہوں نے یہ نظریہ بھی پیش کیا کہ امریکہ کا مقروض ہونا نفع کا سودا ہے کیونکہ اپنے مقروض کو بچانے کی خاطر وہ زیادہ سے زیادہ قرض دینے پر مجبور ہوجائے گا۔ میرے تجربہ کے مطابق ان کی یہ بات بہت درست تھی کیونکہ ہندو بنیے بھی اپنے مقروض کو بیلوں یا فصل کے نقصان کی بناء پر تباہ نہیں ہونے دیتے تھے لیکن قومی سطح پر قرض لینا ہر طرح معیوب ہے کیونکہ اس کے ساتھ بالعموم شرائط وابستہ ہوتی ہیں۔ اس لئے میرا خیال ہے کہ اتنا قرض نہیں لینا چاہیے جس کی آسانی کے ساتھ ادائیگی ممکن نہ ہو۔ اگر کوئی ملک بہت زیادہ قرض حاصل کرلیتا ہے تو یقین ہے کہ ایک دن اسے اپنی عزت نفس سے ہاتھ دھونا پڑے گا۔ لیبر حکومت کے دو نہایت بااثر ارکان مسٹر ارنسٹ اور ماریسن تھے اور ان دونوں میں سے ہر شخص لیبر حکومت میں وزیراعظم بننے کا اہل تھا۔(جاری ہے)

گوادر کو پاکستان کا حصہ بنانے والے سابق وزیراعظم ملک فیروز خان نون کی آپ بیتی۔ ۔۔قسط نمبر 49 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

مزید : فادرآف گوادر


loading...