پانچ سال میں پچاس لاکھ گھروں کا منصوبہ

پانچ سال میں پچاس لاکھ گھروں کا منصوبہ

  



وزیر اعظم عمران خان نے کم آمدنی والے طبقے اور غریب عوام کو پچاس لاکھ گھروں کی فراہمی کے لئے نیا پاکستان ہاؤسنگ اتھارٹی کے قیام کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس اقدام سے غریبوں کو چھت میسر آنے کے ساتھ ساتھ نوجوانوں کو روزگار ملے گا ہاؤسنگ ایک ایسی انڈسٹری ہے جس سے ساراملک چلتا ہے اور چالیس صنعتیں براہ راست ہاؤسنگ کے شعبے سے منسلک ہیں جبکہ متعدد دیگر صنعتیں بالواسطہ طور پر رواں ہوتی ہیں اس منصوبے سے شرح نمو میں اضافہ ہوگا صنعت کا پہیہ چلے گا اور اقتصادی سرگرمی زور پکڑے گی انہوں نے مشورہ دیا کہ نوجوان خود تعمیراتی کمپنیاں قائم کریں اور صنعت میں شامل ہوں ان کا کہنا تھا کہ بیرونِ ملک سے ایک کمپنی نے اس شعبے میں 20۔ ارب ڈالر کی سرمایہ کاری میں دلچسپی ظاہر کی ہے، ملک میں ایک کروڑ گھروں کی طلب ہے ہم پانچ سال میں 50لاکھ گھر بنائیں گے۔ نیا پاکستان ہاؤسنگ اتھارٹی نوے روز میں قائم کردی جائے گی۔ وہ خود اس کو مانیٹر کریں گے ایک ٹاسک فورس اس منصوبے کو دیکھے گی کچی آبادیوں کا ڈیٹا اکٹھا کررہے ہیں جس سے ہمیں گھروں کی طلب معلوم ہوگی وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ ابتدائی طور پر پائلٹ پراجیکٹ سات اضلاع میں شروع ہوگا 50دنوں میں نادرا سے مل کر جسٹریشن کا عمل مکمل ہوگا۔ وہ ایک پریس کانفرنس میں یہ سب تفصیلات بتا رہے تھے۔

وزیر اعظم کے اس اعلان پر فوری اور بروقت تبصرہ چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس میاں ثاقب نثار کی طرف سے آیا ہے انہوں نے ریمارکس دئے ہیں کہ پچاس لاکھ گھر بنانا خالہ جی کا گھر نہیں صرف اعلان سے پچاس لاکھ گھر نہیں بنیں گے ان کے لئے وقت اور پیسہ چاہئے کبوتروں کا پنجرہ بنایا جائے تو بھی دیکھا جاتا ہے حالات بہت خراب ہیں ڈالر اوپر جارہا ہے جس حساب سے مہنگائی بڑھ رہی ہے لوگ بہت پریشان ہیں، پٹرولیم مصنوعات پر ٹیکسز بہت بڑھ گئے ہیں، کچی آبادیوں کی حالت بہتر بنائیں وزیراعظم خود جاکر حالات دیکھیں بطور چیف ایگزیکٹو وزیر اعظم کو معلومات ہونی چاہیں کہ کچی آبادیوں میں کتنے مسکین رہتے ہیں چیف جسٹس نے کچی آبادیوں سے متعلق وفاقی اور صوبائی حکومتوں سے پالیسی طلب کرلی، چیف جسٹس کا کہنا تھا معلوم نہیں پچاس لاکھ گھر کب بنیں گے لیکن فوری طور پر ان لوگوں کے لئے کچھ کرنا ہوگا۔

حکومتِ پاکستان کے اعلان کے مطابق رجسٹریشن کے لئے درخواست فارم 22اکتوبر سے جمع ہونا شروع ہوجائیں گے اور 21دسمبر تک یہ سلسلہ جاری رہے گا رجسٹریشن فیس 250 روپے مقرر کی گئی ہے۔ وزیر اعظم نے انکشاف کیا ہے کہ بیرون ملک مقیم ایک صاحب کی کمپنی اس شعبے میں 20۔ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کرنا چاہتی ہے اگرچہ انہوں نے نام نہیں بتایا لیکن قرائن سے اندازہ ہوتا ہے کہ یہ صاحب انیل مسرت ہیں جو مانچسٹر میں جناب چیف جسٹس کی موجودگی میں ڈیم فنڈریزنگ کی تقریب بھی منعقد کرنا چاہتے ہیں اور جو کابینہ کے اجلاسوں میں بھی دیکھے جاتے رہے ہیں، اگر وہ واقعی 20۔ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کر گزرتے ہیں تو یہ اُن کا ایسا اقدام ہوگاجوقابلِ تعریف ہوگا کیونکہ عمومی طور پر دیکھا گیا ہے کہ اتنی بھاری سرمایہ کاری کمپنیاں (یا افراد) ایک ہی وقت میں شاذونادر ہی کرتے ہیں آج تک پاکستان میں ایک وقت میں سب سے بھاری سرمایہ کاری ہمارے دوست ملک چین نے کی ہے جس کا مجموعی حجم 60۔ارب ڈالر کے لگ بھگ ہے جس میں کم و بیش نصف سرمایہ کاری پانچ سال میں ہوبھی چکی ہے اور اس سے جومنصوبے مکمل ہوئے ہیں وہ فنکشنل بھی ہوگئے ہیں اگر سی پیک میں مجموعی سرمایہ کاری 60۔ ارب ڈالر ہے تو اس کا ایک تہائی سرمایہ اگر ایک ہی کمپنی یا ایک ہی شخص پاکستان میں انوسٹ کردیتا ہے تو یہ اقدام قابلِ تعریف ہی ہوگا اور اس شخص کا منہ موتیوں سے بھر دینا چاہئے، لیکن اس سلسلے میں بعض سوالات اہمیت کے حامل ہیں جن کا جواب تلاش کرنا بہت ضروری ہے۔

دنیا میں کوئی بھی سرمایہ کار اپنی سرمایہ کاری اس لئے کرتا ہے کہ وہ اس کے ذریعے منافع کمانا چاہتا ہے، آج تک کوئی ایسا شخص اس میدان میں دریافت نہیں ہوا جو سرمایہ تو اپنے پلے سے لگائے اور اس کے نتیجے میں کسی بھی قسم کے منافع سے لاتعلق ہو جائے، دوسری بات یہ ہے کہ سرمایہ منافع کے لئے لگایا جاتا ہے، خسارے کے لئے نہیں دنیا کاکوئی سرمایہ کا ربقائمی ہوش و ہواس ایسی سرمایہ کاری کرنے پر تیار نہیں ہوتا جس سے اسے منافع حاصل ہونے کا امکان کم ہو اور خسارے کا زیادہ، یہ الگ بات ہے کہ دنیا کے ارب پتی سرمایہ کاروں نے اربوں ڈالر کے خیراتی ادارے بھی قائم کئے ہوئے ہیں ان خیراتی اداروں کے بھی اپنے اصول اور اپنے ضابطے ہیں جن کے تحت یہ کام کرتے ہیں دنیا کے امیر ترین شخص بل گیٹس نے اپنے اور اپنی اہلیہ کے نام پر خیراتی ادارے قائم کئے ہوئے ہیں وہ بھی پہلے کسی خیراتی پراجیکٹ کا باریک بینی سے جائزہ لیتے ہیں اور پھر اس کے لئے چیرٹی کی رقم ادا کرتے ہیں کبھی ایسا نہیں ہوا کہ بل گیٹس کا کوئی نامزد نمائندہ کسی اٹیچی کیس میں ڈالر بھر کر غریب بستیوں میں صدا دینے کے لئے نکلا ہو کہ ضرورت مند لوگ آ کر خیرات لے جائیں ادارہ جاتی خیرات بھی اداروں کی ورکنگ کے مطابق ہی ملتی ہے۔

پاکستان میں جو کمپنی یا جو شخص بھی ہاؤسنگ کے شعبے میں سرمایہ کاری کرے گا وہ بھی منافع کی امید پر کرے گا ہاں وہ اگر کوئی انیل مسرت کی طرح کا نیک آدمی ہے تو وہ یہ کر سکتا ہے کہ منافع کی شرح کم سے کم رکھے، بدقسمتی سے ہاؤسنگ سیکٹر میں جو بڑی شخصیات اس وقت پاکستان میں سر گرم عمل ہیں وہ سب نہ صرف منافع کماتی ہیں بلکہ اتنا زیادہ کماتی ہیں کہ چند برسوں ہی میں ان کی دولت ہزاروں گنا بڑھ گئی ہے، خود تحریک انصاف کے اندر ایسے سرمایہ کار ہیں جن کی ہاؤسنگ سیکٹر میں اربوں روپے کی سرمایہ کاری ہے اور انہوں نے اربوں روپے کمائے بھی ہیں معلوم نہیں ان میں سے کسی نے بل گیٹس کی پیروی کرتے ہوئے کوئی خیراتی ادارہ بھی قائم کیا ہے یا نہیں لیکن ایسے سرمایہ کار عام مل جائیں گے جو غریبوں کی رقوم اکٹھی کر کے ڈکار گئے اور یہ غریب دربدر ٹھوکریں کھاتے پھرتے ہیں ایسے سرمایہ کار بھی ہیں جنہوں نے زمین پر موجود پلاٹوں سے زیادہ پلاٹ بیچ دیئے اور جن لوگوں نے رقوم جمع کرائیں انہیں نہ پلاٹ ملے نہ ان کی رقوم واپس ہوئیں۔ اربوں روپے کی یہ رقوم انوسٹرز کے پاس جمع ہیں اور جب با امر مجبوری لوگوں کو ان کی جمع شدہ رقوم واپس کی جاتی ہیں تو ان میں سے بھی کٹوتی کرلی جاتی ہے۔ حالانکہ دس دس سال تک غریبوں کی رقوم استعمال کرنے والوں کو یہ رقوم منافع کے ساتھ واپس کرنی چاہئیں۔بعض سرمایہ کار غریبوں کی دبائی ہوئی اس رقم سے کھانے بھی کھلاتے ہیں لیکن ان غریبوں کی بد دعاؤں کی انہیں کوئی پروا نہیں جن کی رقوم دبا کر وہ خیرات کا نمائشی کام کرتے ہیں۔

جو سرمایہ کار پاکستان میں 20 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کرے گا وہ اگر پاکستان پر بہت مہربان بھی ہو تو اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ وہ اس پراجیکٹ سے کتنا کمائے گا کیا ایسی صورت میں غریب لوگ ان مکانوں کی قیمت ادا کرنے کے قابل ہوں گے، جن کے لئے مکان بنانا مقصود ہے پرائیویٹ سیکٹر میں تو ایک بھی انویسٹر ایسا نہیں جو غریبوں کے لئے مکان بناتا ہو وہ تو ایسے امیروں کے مکان بنانے کو ترجیح دیتا ہے جو جائز و ناجائز طریقے سے دولت کما کر امیر ہو گئے ہوں اور اب اپنی دولت سے پر آسائش زندگی گزارنے کے متمنی ہوں۔ اس ماحول میں دیکھنا ہوگا کہ نیا پاکستان ہاؤسنگ اتھارٹی غریبوں کے لئے گھر بناتی ہے یا ہاوسنگ کا ایک اور کاروباری ادارہ ثابت ہوتی ہے جو غریبوں کے نام پر امیروں کے لئے گھر بنانے کے لئے قائم کیا گیا ہو، فی الحال تو پچاس لاکھ گھروں کے منصوبے پر بہترین اور جامع تبصرہ جناب چیف جسٹس نے کر دیا ہے اس میں کوئی اضافہ ممکن نہیں ’’پچاس لاکھ گھر بنانا خالہ جی کا گھر نہیں‘‘

مزید : رائے /اداریہ


loading...