غیر سیاسی پولیس

غیر سیاسی پولیس
غیر سیاسی پولیس

  



ناصر درانی مستعفی ہو گئے۔۔۔ وہی ناصر درانی جن کے نام پر عمران خان نے خیبر پختونخوا میں دوبارہ الیکشن جیتا۔ اپنی ہر انتخابی تقریر میں عمران خان نے جو نام سب سے زیادہ لیا وہ ناصر درانی کا ہی تھا، جس طرح ایک سیلز مین خوبیاں گنوا کر اپنی پراڈکٹ بیچتا ہے، عمران خان نے پراڈکٹ بیچنے کے لئے سب سے زیادہ یہی نام استعمال کیا ۔ ہر تقریر میں وہ کہتے کہ انہوں نے خیبرپختونخوا کی پولیس کو غیر سیاسی بنا دیا ہے اور یہ کام ناصر درانی نے کیا ہے،کیونکہ انہیں سیاسی مداخلت سے پاک فری ہینڈ دیا گیا اور انہوں نے ڈلیور کرکے بتا دیا کہ ایک قابل، محنتی، فرض شناس اور ایماندار پولیس سربراہ اپنے صوبے کو جنت کا نمونہ بنا سکتا ہے۔ پراڈکٹ کی فروخت یقینی بنانے کے لئے عمران خان اپنی ہر تقریر میں کہتے کہ اگر ان کی پنجاب میں حکومت آئی تو وہاں بھی ناصر درانی کو لے کر آئیں گے اور پنجاب پولیس کو سیاسی مداخلت سے پاک کرکے عوام کی خادم بنائیں گے۔ پاکستان تحریک انصاف کا الیکشن جیتنے کے لئے اہم نعروں میں سے ایک نعرہ غیر سیاسی پولیس کا تھا۔

پھر الیکشن ہوئے تو خیبرپختونخوا کے ساتھ ساتھ وفاق اور پنجاب میں بھی پاکستان تحریک انصاف کی حکومت آگئی۔ عمران خان نے غیر سیاسی پولیس کی ٹیپ چونکہ اتنی زیادہ چلائی ہوئی تھی کہ یہاں پولیس اصلاحات کمیشن بنانا اور ناصر درانی کو اس کا سربراہ بنانا ان کی ضرورت تھی، لیکن الیکشن جیتا جا چکا تھا اس لئے کب تک عمران خان غیر سیاسی پولیس والا ڈرامہ کرتے۔اس لئے موقع ملتے ہی ایسے حالات پیدا کر دئیے گئے کہ ناصر درانی گھر چلے جائیں اور پنجاب پولیس کو پاکستان تحریک انصاف کی حکومت اپنے سیاسی مقاصد کے لئے استعمال کر سکے۔ کچھ قسمت نے بھی عمران خان کی اس خواہش کی لاج رکھی اور پے درپے ایسے واقعات ہوتے رہے کہ ناصر درانی جیسے پروفیشنل نے عزت سے گھر چلے جانے میں ہی عافیت سمجھی کہ کئی واقعات برپا ہونے کے بعد آخری وار ناصر درانی کے قابل اعتماد پی ایس پی افسر آئی جی پولیس پنجاب محمد طاہر کو ان کے عہدے سے ہٹا کر کیا گیا، جس کے فورا بعد ناصر درانی نے بھی خرابی صحت کا جواز بنا کر استعفیٰ دے دیا۔

پنجاب پولیس میں اصلاحات کے لئے بنائے گئے کمیشن کے چیئرمین ناصر درانی کا استعفیٰ وزیراعظم عمران خان کے لئے لمحہ فکریہ ہے۔ انہیں چاہئے کہ کچھ دیر کے لئے خوشامدیوں اور درباریوں سے ذرا دور بیٹھ کر غور و فکر کریں کہ کیا وجہ ہے حکومتی معاملات ان کے ہاتھ سے پھسل رہے ہیں۔ اگر کسی کو اس بات میں شک تھا تو وہ بھی ناصر درانی کے استعفیٰ سے دور ہو جانا چاہئے۔ جب سے پنجاب میں موجودہ حکومت بر سراقتدار آئی ہے، لگاتار پولیس کے معاملات میں سیاسی مداخلت کئے جا رہی ہے۔ پنجاب پولیس میں سیاسی مداخلت کا آغاز وزیراعلیٰ عثمان بزدار نے خود کیا جب انہوں نے ڈی پی او پاکپتن رضوان عمر گوندل کا سیاسی وجوہات پر تبادلہ کرا دیا۔ یہ تبادلہ سیاسی سے زیادہ حکمران خاندان کے دباؤ پر کیا گیا، کیونکہ اس وقت پاکستان میں حکمران خاندان نہ صرف وزیراعظم عمران خان سے لے کر ان کی تیسری اور موجودہ اہلیہ محترمہ بشری بی بی عرف پنکی پیرنی اور وہاں سے ان کے سابق شوہر نامدار خاور فرید مانیکا تک پھیلا ہو ا ہے،

بلکہ اس میں مانیکا خاندان کے دوسرے قریبی رشتہ دار، مریدین اور دوست احباب وغیرہ بھی شامل ہیں۔ یہ پاکستان کی پہلی حکومت ہے، جس میں حکمران خاندان میں اتنی وسعت دیکھنے میں آ رہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ خاور فرید مانیکا کے ایک دوست احسن جمیل گجر نے ایک ضلع کے سربراہ پولیس افسر سے سرکاری دفتر میں بیٹھ کر نہ صرف تفتیش اور ڈانٹ ڈپٹ کی،بلکہ انہیں ’مجرم‘ قرار دے کر تبادلہ کی سفارش بھی کی،جس پر اس وقت کے آئی جی پنجاب کلیم امام نے من و عن اس لئے عمل کیا،کیونکہ ایک پرائیویٹ آدمی کو عدالت لگانے کی اجازت صوبائی وزیراعلیٰ نے دی تھی، ظاہر ہے معاملہ خاتون اول کے شوہر اول کا تھا، اس لئے پولیس کا سیاسی استعمال تو بنتا تھا۔ اب یہاں ناصر درانی بے چارہ کیا کرتا، کیونکہ عمران خان کے لئے ان کی حیثیت ایک الیکشن سلوگن سے زیادہ نہیں تھی اور الیکشن وہ جیت چکے تھے۔

اس کے بعد منشا بم کا واقعہ پیش آیا جس کا نوٹس سپریم کورٹ کے چیف جسٹس نے لیا کہ لاہور کے اس بدنام قبضہ مافیا ہیڈ کے لئے پاکستان تحریک انصاف کے ایم این اے ملک کرامت کھوکھر اور بارا نامی ایم پی اے پولیس پر دباؤ ڈالتے رہے۔ ناصر درانی پولیس میں اصلاحات کمیشن کے چیئرمین بنائے گئے تھے اور ان کے ذمہ بنیادی کام پولیس کو غیر سیاسی بنانا بتایا گیا تھا، لیکن ڈی پی او پاکپتن اور منشا بم والے واقعات کے بعد یہ چیز واضح ہونی شروع ہوگئی کہ غیر سیاسی پولیس کا نعرہ صرف ایک ٹوپی ڈرامہ تھا اور الیکشن جیتنے کے بعد پاکستان تحریک انصاف کو غیر سیاسی نہیں بلکہ ایک ایسی پولیس چاہئے،جو ان کے تمام جائز اور ناجائز احکامات کی تکمیل کرے۔ ابھی یہ سب ہو ہی رہا تھا کہ ایک ہیوی ویٹ صوبائی وزیر میاں محمود الرشید کے بیٹے کا واقعہ پیش آ گیا،

جس میں اسے مبینہ طور پر غیر اخلاقی حرکات کرتے ہوئے ایک لڑکی کے ساتھ پکڑا گیا، لیکن اس کے ساتھیوں نے نہ صرف اسے چھڑا لیا،بلکہ پولیس کے اہلکاروں کو یرغمال بھی بنا لیا۔ پنجاب کی صوبائی حکومت نے پولیس پر دباؤ ڈالا کہ وہ نہ صرف وزیر صاحب کے صاحبزادے کو بلکہ اپنے اہلکاروں کے ساتھ ہونے والی بدمعاشی اور یرغمال بنائے جانے کو بھی بھول جائے اور سارے معاملے پر مٹی پائے۔ اوپر تلے ان واقعات میں پولیس پر ڈالے گئے سیاسی دباؤ نے ثابت کر دیا تھا کہ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت میں پولیس میں سیاسی مداخلت بھی ہو گی، اسے سیاسی مقاصد کے لئے استعمال بھی کیا جائے گا اور اس میں اصلاحات کے نام پر ٹوپی ڈرامے کی کوئی ضرورت بھی نہیں ہے، بلکہ سب کچھ دھڑلے سے ہو گا۔ پھر اس ڈرامے کے تابوت میں آخری کیل اپنے ہی ہاتھ سے لگائے گئے آئی جی پنجاب محمد طاہر کو ان کے عہدے سے ہٹا کر ٹھونک دیا گیا۔

آئی جی پنجاب جب سیاسی دباؤ کو خاطر میں نہ لائے تو ان کے ہٹائے جانے کا پروانہ جاری ہو گیا جو فی الحال الیکشن کمیشن نے روک لیا ہے، لیکن ضمنی الیکشن کے بعد اس پر عمل ہو جائے گا۔ جب ناصر درانی خیبر پختون خوا میں آئی جی تھے تو محمد طاہر ان کے ساتھ ایڈیشنل آئی جی اسٹیبلشمنٹ تھے ان دنوں عمران خان ہر جلسے، ہر انٹرویو اور ہر فورم میں ان کے گن گاتے تھے۔ اب عمران خان کو ان فرض شناس اور اعلیٰ پروفیشنل افسروں کی ضرورت نہیں رہی تھی، کیونکہ وہ الیکشن کمپین میں بطور سلوگن استعمال ہو چکے تھے اور اب آگے پولیس کوسیاسی مقاصد کے لئے استعمال کرنا مطلوب تھا اس لئے ان کے منظر سے ہٹنے کا بہت طریقہ سے اس طرح اہتمام کیا گیا کہ آئی جی کو ہٹایا تو ناصر درانی حسب توقع خود ہی ہٹ گئے۔ آگے کیا ہے؟ کچھ نہیں ہے بلکہ راوی چین ہی چین لکھتا ہے۔

مزید : رائے /کالم


loading...