12اکتوبر، ملک کی سیاسی تاریخ کا سیاہ دن

12اکتوبر، ملک کی سیاسی تاریخ کا سیاہ دن

  



12اکتوبر 1999ء کی شب پاکستان کی سیاسی تاریخ کی سیاہ ترین شب تھی، جب ملک چوتھی مرتبہ مارشل لاء کا نشانہ بنا۔ اقتدار پر ملازمت سے فارغ ہونے والے آرمی چیف پرویز مشرف نے اپنے چند رفقاء کے تعاون سے قبضہ کیا، عوام سے ووٹ لے کر منتخب ہونے والے وزیر اعظم میاں نواز شریف کو ہتھکڑیاں پہنائیں، اسمبلیاں توڑ دیں۔ 12جج صاحبان کو رخصت کردیا، فلور کراسنگ کو زندہ کرکے اپنا اُلو سیدھا کیا ملک کے وزیر اعظم کوذاتی ملازم کی حیثیت دی سینکڑوں افراد اس دور میں غائب ہوئے، طاقت کے زور پر سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کو بلا کر دھمکیاں دی، جس سے فوج اور قوم کا رشتہ کمزور ہوا۔ ایک طالع آزما کی حکمرانی کی خواہش اور حرص نے فوج اور عوام کے درمیان فاصلہ پیدا کیا،

7نکاتی ایجنڈا پیش کرنے والا ڈکٹیٹر اپنے دور اقتدار میں ایک نکتے پر بھی عمل درآمد نہ کراسکا، ملک کے سیاست دانوں کو ملک بدر کرنے اور جلا وطنی کی زندگی گزارنے پرمجبور کرنے والا جنرل پرویز مشرف آج خود باہر بیٹھا ہے اورمیاں نواز شریف اور ان کی فیملی ملک کے اندر حالات کا مقابلہ کررہی ہے۔ محترمہ بے نظیر بھٹو ان کے دور اقتدار میں وطن واپس آئیں اور انہوں نے ملک میں ہونے والے عام انتخابات کی مہم میں حصہ لیا او اپنی جان ملک پر قربان کرکے دخترمشرق اور شہیدجمہوریت کہلائیں۔ سیاست دان اور آمر میں یہی فرق ہے کہ وہ عوام کے ساتھ جینا مرنا چاہتا ہے، جبکہ ڈکٹیٹر اور آمر کی ساری بھاگ دوڑ اپنے اقتدار کو طول دینے کے لئے ہوتی ہے، 12 اکتوبر کا دن مسلم لیگ (ن) ہی نہیں، بلکہ ملک کی دوسری چھوٹی بڑی سیاسی جماعتیں بھی اسے یوم سیاہ کے طور پر مناتی ہیں۔

سابق وزیر اعظم نواز شریف کے مطابق 10ستمبر 2007ء کے بعد انہیں تین بار پرویز مشرف سے ملاقات کی پیش کش ہوئی، ملاقات کے لئے وہ چل کر سرور محل (جدہ) سعودی عرب آنے کے لئے بھی تیار تھے، لیکن انہوں نے خود ملنے سے معذرت کرلی اور بتایا میرا کوئی ذاتی ایجنڈا نہیں، جس پر بات ہو، میرا سیاسی ایجنڈا ساری دنیا کو معلوم ہے۔ ہم سیاسی لوگ ہیں اور ملک میں جمہوریت کی بحالی چاہتے ہیں، جبکہ جنرل مشرف کا ایجنڈا اپنے اقتدار کو دوام دینا تھا، اس کے لئے انہیں آئین پاکستان کا بھی احترام نہیں تھا، وہ بات سب سے پہلے پاکستان کی کرتے تھے، جبکہ 12اکتوبر 1999ء کا اقدام صرف ان کی اپنی ذات کے لئے تھا۔3 نومبر کو ایک بار پھر ماورائے آئین ایمرجنسی کا نفاذ اور پی سی او بھی ان کی اپنی ذات کے لئے تھا، میاں نواز شریف نے 3فروری 1997ء کے قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے انتخابات میں بھاری اکثریت سے کامیابی حاصل کی اور پیپلز پارٹی اپوزیشن بنچوں پر بیٹھی نواز شریف نے اقتدار سنبھالنے کے بعد آئین میں 13ویں ترمیم کے لئے جدوجہد کی اور اپوزیشن کو اعتماد میں لے کر کامیابی حاصل کی۔ جنرل ضیاء الحق کے دور سے سیاسی حکومتوں کے سر پر لٹکنے والی 58ٹو (بی) کی تلوار کو ہمیشہ ہمیشہ کے لئے نیام میں بند کردیا۔ نواز شریف نے آئینی ترمیم کے حوالے سے ایک اور اقدام ارکان اسمبلی کی وفاداری تبدیل نہ کرنے کے حوالے سے کیا اور ممبران کو 14ویں ترمیم کے ذریعے پابند کیا کہ اسمبلی کا فلور کراس کرنے کی صورت میں رکن صوبائی و قومی اسمبلی نااہل ہو جائے گا۔

میاں نواز شریف نے اپنے دوسرے دو حکومت میں 28مئی 1998ء کوامریکی صدر کی 5بار ٹیلی فون کالز کے باوجود جوہری دھماکے کرکے ملک و قوم اور فوج کا مورال بلند کیا، میاں نواز شریف کا بیان ریکارڈ پر موجود ہے، انہوں نے یہ بیان دہشت گردی کی عدالت میں اپنے خلاف دائر مقدمے میں ریکارڈ کراتے ہوئے عدالت کو بتایا تھا کہ ان کی حکومت کو برطرف کرنے کے لئے چیف آف آرمی سٹاف نے بلیو پرنٹ تیار کرکے رکھا تھا اور وہ اپنے حلف سے بھی مخلص نہیں رہے تھے۔ جس پر انہوں نے ایک موثر حکم کے ذریعے 12اکتوبر 1999ء کی شام 4بجے جنرل پرویزمشرف کوآرمی چیف کے عہدے سے ہٹا دیا، جس کے جواب میں ملک کے منتخب وزیر اعظم کے قانونی فیصلے کو قبول کرنے کی بجائے پہلے سے تیار شدہ فوجی بغاوت کے منصوبے پر عمل کیا گیا۔ وزیر اعظم کے پاس قابل اعتماد اطلاعات موجود تھیں کہ جنرل پرویز مشرف غیر آئینی طریقوں سے ان کی منتخب قانونی حکومت کوبرطرف کرنے کی تدبیریں کررہے ہیں اور اس مقصد کے لئے وزیر اعظم کی حرکات وسکنات کی نگرانی کے اقدامات کررہے ہیں۔ ان حالات اور اس صورت حال میں ان کے پاس انہیں ان کے عہدے سے فارغ کرنے کے سوا دوسرا کوئی راستہ نہیں تھا، فوج کے چند جرنیل مکمل تیاری میں تھے۔

وزیر اعظم ہاؤس کے مختلف کمروں اور وزیر اعظم کے دفتر میں جاسوسی کے آلات نصب کردیئے گئے تھے، وزیر اعظم کو اپنی باتیں سنے جانے سے بچنے کے لئے ٹی وی کی آواز اونچی کرکے میٹنگز اور حساس معاملات پر بات چیت کے لئے احتیاط کرنی پڑتی تھی۔ سابق وزیر اعظم کے مطابق آرمی چیف کی برطرفی کی خبر پی ٹی وی نے شام 5بجے نشر کی، جس کے چند منٹ کے بعد فوج نے اسلام آباد ٹی وی سنٹر کا کنٹرول سنبھال لیا اور شام 6بج کر 30منٹ سے پہلے پہلے وزیر اعظم ہاؤس پر فوج نے قبضہ کرلیا۔ کئی کچھ ہونے کے بعد سابق وزیر اعظم جلاوطنی کے دن گزار رہے تھے۔

ملک میں عام انتخابات کی تیاریاں ہو رہی تھیں کہ 18اکتوبر 2007ء کی شب سابق وزیر اعظم محترمہ بے نظیر بھٹو 9سالہ خود ساختہ جلا وطنی ختم کرکے کراچی پہنچ گئیں، طائع آزماء جنرل مشرف نے ایک بار نواز شریف کی وطن واپسی کے بارے میں کہا تھا کہ میری موجودگی میں وہ واپس نہیں آسکتے، لیکن ایک وقت آیا کہ طالع آزما خود سعودیہ جاکر پاکستان آنے کی دعوت دینے کے لئے تیار ہوگیا تھا، مگر میاں نواز شریف نے ملاقات کرنے سے معذرت کرلی اور ان کی موجودگی میں وہ پاکستان تشریف لائے اور تیسری بار وزیر اعظم پاکستان بنے، اس وقت نواز شریف اگرچہ زیرعتاب ہیں، لیکن لندن سے واپس آکر اپنے مقدمات کا سامنا کر رہے ہیں، لیکن ایک جنرل مشرف ہیں جو اپنے خلاف مقدمات کا سامناکرنے سے گھبرا رہے ہیں، سیاست دان کی زندگی اورڈکٹیٹر کے روز و شب کا یہی فرق ہے جو ہمیشہ قائم رہے گا۔

مزید : رائے /کالم


loading...