معیشت اور ہنگامے،کمبل عوام کا!

معیشت اور ہنگامے،کمبل عوام کا!
معیشت اور ہنگامے،کمبل عوام کا!

  



ملک کی معاشی حالت بدستور خراب ہے اور عوامی سطح پر لوگ پریشان بھی ہیں، ایسے میں ملک کے اندر جس استحکام کی ضرورت ہے وہ بھی نہیں ہے اور سیاسی محاذ آرائی بڑھتی جا رہی ہے، مسلم لیگ(ن) کی طرف سے قائد حزبِ اختلاف قومی اسمبلی کی گرفتاری کے خلاف احتجاج کیا جا رہا ہے۔ اس احتجاج پر نظر ڈالیں تو بہت کچھ یاد آ جاتا ہے کہ صوبائی اسمبلی میں حزبِ اختلاف کی بنچوں پر بیٹھے مسلم لیگ(ن) کے اراکین اسمبلی نے بدھ کو ’’عوامی اجلاس‘‘ کیا اور اسمبلی کی سیڑھیوں کے باہر تقریریں کیں، نعرہ بازی بھی ہوئی۔

یہ کوئی پہلا موقع نہیں، پنجاب اسمبلی کے اس تاریخی ہال نے ایسے کئی مظاہرے دیکھے ہوئے ہیں۔گزشتہ روز جب مسلم لیگ(ن) کے اراکین صوبائی اسمبلی آئے تو سڑک پر لگایا گیا دروازہ بند تھا،ان حضرات نے دھکے دے کر کھولنے کی کوشش کی،ناکامی پر خار دار تاروں کو پھلانگ کر اندر چلے گئے اور ہال کی طرف روانہ ہوئے،لیکن یہاں مرکزی دروازہ بند کر دیا گیا تھا،جو بہت مضبوط ہے اور اسے دھکا لگا کر تو کھولا ہی نہیں جا سکتا،چنانچہ میدان باہر سیڑھیوں پر لگا لیا گیا،جہاں تقریریں ہوئیں اور نعرہ بازی کی گئی۔

ہمیں بار بار یاد آ رہا تھا کہ اس نوعیت کے احتجاج پہلے بھی ہو چکے، مسلم لیگ(ن) کے اراکین پارلیمینٹ آج اسلام آباد میں پارلیمینٹ ہاؤس کے سامنے بھی جمع ہوئے ہیں،ذہن پر زور دیا تو یاد آیا کہ جنرل ضیاء الحق کے دور میں تو منہاج برنا اور نثار عثمانی کی قیادت میں ہم بھی پارلیمینٹ کے سامنے مظاہرے کرتے رہے ہیں اور یہاں اسلام آباد پولیس سے ڈنڈے بھی کھائے اور بعض دوست گرفتار بھی ہوئے،اِسی طرح جنرل(ر) پرویز مشرف کے زمانے میں حامد میر نے اپنا ٹی وی پروگرام اسلام آباد کی سڑکوں پر کیا تھا،اس سے بھی پہلے ٹریڈ یونین کی تاریخ میں شاہد محمود ندیم نے یہ طرح ڈالی اور آج اسی کی بدولت ان کا اجوکا تھیٹر فعال اور شہرت لئے ہوئے ہے، پی ٹی وی سے برطرفیوں کے خلاف احتجاج سڑکوں پر تمثیل کی صورت میں کیا گیا تھا۔

لاہور میں تو تحریک پاکستان کے دوران سول نافرمانی کی تحریک شروع ہوئی تو باغ بیرون موچی دروازہ میں جلسہ ہوتا اور پھر جلوس ریگل چوک سے ہوتا ہوا اسمبلی ہال کے سامنے آتا تھا، ان دِنوں یہ سمٹ مینار نہیں ہوتا تھا،یہاں برگد کے بڑے بڑے درخت تھے اور دور دراز کے سائلین اراکین اسمبلی سے ملنے آتے تو ان درختوں کے سائے میں انتظار کرتے تھے، پھر وہ دور آیا جب ذوالفقار علی بھٹو کی ہدایت پر اسی اسمبلی ہال میں ہونے والی اسلامی کانفرنس کی یاد میں ’’سمٹ مینار‘‘ تعمیر کیا گیا تو برگد کے وہ قدیم درخت کٹ گئے، ہمارے استاد مکرم سید اکمل علیمی نے ان پر ایک درد بھرا کالم لکھا، جو ہمارے والے عنوان ہی کے تحت شائع ہوا کہ وہ روزنامہ ’’امروز‘‘ میں ہر بدھ کو ’’یہ لاہور ہے‘‘ کے عنوان ہی سے شائع ہوتا تھا۔اس کے بعد بھی ایسا سلسلہ جاری رہا کہ مظاہرے ہوتے تو مظاہرین اسی اسمبلی ہال کے باہر آتے تھے، مگر اب وہ وقت ہے جب ’’دہشت گردی‘‘ کی لہر کے باعث دیواریں کھینچ گئیں اور سڑک سے اسمبلی کو جانے والے راستے پر دروازے لگا دیئے گئے ہیں۔

بار بار یاد آ رہا تھا کہ اس اسمبلی ہال کے باہر پیپلزپارٹی نے بھی مظاہرے کئے تھے، اور شاید ایسا ہی کوئی اجلاس بھی کیا تاہم ذہن کے کسی گوشے سے یاد نہ ابھری۔ برادرم اشرف ممتاز، نوید چودھری اور بعض دوسرے دوستوں سے بھی رجوع کیا، ہر کسی کو مظاہرے ہی یاد آتے تھے،پھر یاد آیا کہ ایک دور وہ بھی آیا تھا،جب سپیکر کی ہدایت پر قائدِ حزب اختلاف قاسم ضیاء کا ایوان میں داخلہ بند ہوا، اگلے روز پیپلزپارٹی والوں نے احتجاج کیا تو اسمبلی ہال کے دروازے بند کر دیئے گئے،قاسم ضیاء سمیت کسی کو اندر نہ جانے دیا گیا،پھر یہاں مظاہرہ ہوا تھا اور بالآخر قاسم ضیاء نے عدالت سے رجوع کیا، جہاں سے ان کو قائد حزبِ اختلاف کے دفتر تک جانے کی باقاعدہ اجازت ملی کہ سپیکر کے حکم کے بعد وہ ایوان میں تو نہیں جا سکتے،لیکن قائد حزب اختلاف والے دفتر اور اسمبلی کی عمارت میں جا سکتے ہیں اور ان کو روکا نہیں جا سکتا۔

اب بھی سابقہ تاریخ ہی دہرائی جا رہی ہے، بلکہ اگر کہا جائے تو خود مسلم لیگ(ن) کے دورِ اقتدار میں بھی احتجاج ہوتا رہا ہے، ان اراکین اسمبلی کا مطالبہ تو یہ تھا کہ ایوان کا اجلاس بُلا کر اس میں سابق وزیراعلیٰ محمد شہباز شریف کی گرفتاری پر بحث کرائی جائے،اس کے لئے ریکوزیشن بھی دی گئی،قومی اسمبلی کا اجلاس تو بہرحال 17اکتوبر کو طلب کیا جا چکا اور قائدِ حزب اختلاف کے پروڈکشن آرڈر بھی جاری ہو گئے اور وہ17اکتوبر کے اجلاس میں شرکت کریں گے۔اس تمام تر صورتِ حال میں اگر یہ کہا جائے کہ ’’بیلوں کی لڑائی میں گھاس ہی اجڑتا ہے‘‘ تو کچھ غلط نہیں کہ اس سیاسی جنگ میں عوام کا نام لیا جا رہا ہے،

لیکن شاید یہ احساس پیدا نہیں ہو پایا کہ جن کا نام استعمال ہو رہا ہے وہ بلبلا رہے ہیں،ان کے دُکھوں میں اضافہ ہوتا چلا جا رہا ہے،مہنگائی نے پہلے ہی بُرا حال کر رکھا ہے کہ اب مزید اضافہ ہوا اور اس کے بعد بھی متوقع ہے،اب تو سبزی دال پکانا بھی مشکل ہو چکا ہے۔ان حالات میں ضرورت وسیع تر ڈائیلاگ(مذاکرات) کی ہے، فریقین کے درمیان کسی کو ثالث کے طور پر کوشش کرنا چاہئے کہ پارلیمان اور پارلیمان سے باہر مذاکرات کر کے سکون اور امن کا فارمولا طے کر لیا جائے تاکہ توجہ معیشت کی بحالی پر مرکوز ہو سکے۔توقع ہے کہ پیپلزپارٹی والے ہی یہ کردار ادا کر سکیں گے۔ اگرچہ وہ بھی سخت دباؤ میں ہیں۔

مزید : رائے /کالم