کیا پاکستان آئی ایم ایف کا قرضہ کبھی اتار بھی سکے گا؟( 2 )

کیا پاکستان آئی ایم ایف کا قرضہ کبھی اتار بھی سکے گا؟( 2 )
کیا پاکستان آئی ایم ایف کا قرضہ کبھی اتار بھی سکے گا؟( 2 )

  



اس بات پر سب ہی متفق ہیں کہ پاکستان کو آئی ایم ایف کے قرضوں سے نجات حاصل کرنا چاہئے۔ ان قرضوں کے بارے میں سب ہی بیک وقت تشویش میں بھی مبتلا ہیں۔ ماضی کی حکومتوں نے پاکستان پر یہ۔۔۔’’ احسان ‘‘ کیا کہ اپنی اپنی حکومتوں کو چلانے کے لئے قرضے لینے میں کبھی ہچکہچاہٹ محسوس نہیں کی ۔ اپنا وقت گزارنا مقصود تھا۔ یہ نہیں سوچا گیا کہ قرضوں کی واپسی کیوں کر ممکن ہے اور کس طرح ہوگی۔ جہاں سے بھی جتنے سود پر قرضہ ملا، لیا جاتا رہا۔ ایک وقت ایسا آیا کہ قرضوں پر واجب الاادا سود کی ادائیگی کے لئے بھی قرضہ لینا پڑرہا ہے۔ موجودہ حکومت نے شد و مد سے کہا تھا کہ آئی ایم ایف کے پاس نہیں جائیں گے ، لیکن وقت پر سود کی ادائیگی کے بغیر معاملات کا حل موجود نہیں تھا۔ پاکستان میں مالیاتی اور معاشی نظام کے بارے میں ماہرین اپنی اپنی رائے رکھتے ہیں۔ حکومت نے بھی جو ٹاسک فورس قائم کی ہے، یقیننا اسے بھی تشویش ہوگی کہ مختلف طریقوں پر غور کیا جائے تاکہ ان پر عمل میں اس بات کو حتمی بنایا جائے کہ آئی ایم ایف سے اربوں ڈالر کا پروگرام لینا قومی مفاد میں نہیں ہے۔

ایک اخبار میں وفاقی وزارت خزانہ کے غیرملکی قرضوں کی مینجمنٹ کرنے والے دو سابق ڈائریکٹر جنرلوں ڈاکٹر اشفاق اور ظفر شیخ نے اپنی تجاویز دی ہیں جس کے ساتھ انہوں نے خبردار کیا ہے کہ آئی ایم ایف کے چنگل میں پاکستان کے دوبارہ پھنسنے کی ضرورت نہیں ہے۔ آئی ایم ایف سے اربوں ڈالر کا پروگرام لینا قومی مفاد میں نہیں کیوں کہ آئی ایم ایف پاکستان کے مفاد کے منافی شرائط منوائے گا۔ ۔ وفاقی وزارت خزانہ کے سابق ڈائریکٹر جنرل قرضہ مینجمنٹ ڈاکٹر اشفاق حسن اور اْنکے پیشرو ڈائریکٹر جنرل ظفر شیخ نے بقول ان کے موجودہ اقتصادی بحران سے باوقار انداز میں نکلنے کے لئے اپنی تجاویز پر گفتگو کی ہے۔ دونوں کا کہنا تھا کہ سابقہ حکومتوں کے بددیانت کرداروں کی وجہ سے ملک گھمبیر مشکلات میں گھر چکا ہے جس کا فوری مداوا ضروری ہے، لیکن اس کا حل آئی ایم ایف سے قرضہ لینے میں نہیں ہے۔

ان حضرات کی رائے ہے کہ اس وقت ہمیں فوری طور پر مندرجہ ذیل اقدامات لینے ہوں گے۔ (۱) قومی بچت کو فعال کیا جائے اور اس کی تمام سکیموں کو امریکی اور یورو کرنسی میں نافذ کیا جائے، اس کے علاوہ قلیل رقم کے ڈالر بانڈ قومی بچت کے ذریعہ جاری کئے جائیں جس میں کم از کم 200ڈالر کی سرمایہ کاری ہوسکے۔ (۲)گھروں میں موجودہ کیش ڈالر کے لئے بونس روپیہ میں ادا کئے جائیں اور جس کی کوئی جانچ پڑتال نہیں ہوگی۔ (۳)گھروں میں موجود سونے کو استعمال میں لانے کے لئے گولڈ بانڈ کا اجراء کیا جائے جس کی ضمانت اسٹیٹ بینک پاکستان دے ۔ بھارت یہ کامیاب تجربہ کر چکا ہے۔ (۴) پر تعیش سامان پر فوری پابندی اور غیرملکی دوروں پر بلاوجہ ڈالرز کے اخراجات پر پابندی ہو۔(۵)غیرملکی کمپنیوں سے بھاری فیس/سرچارج ڈالرز میں وصول کئے جائیں۔

یہ نا انصافی ہے کہ بیرون ملک پاکستان سے ڈالر ہر قسم کی ادا ئیگی لی جاتی ہے ، جبکہ لوکل چارجز مقامی کرنسی میں ادا کرتے ہیں۔ (۶) پٹرول کی بچت کے لئے ریلوے پر زیادہ انحصار کیا جائے جو 30فیصد سستی ہے۔ ( میں تو تواتر کے ساتھ لکھ رہا ہوں کہ سر دست پیٹرول کی راشننگ کی جائے۔ پیٹرول کے ہر طرح کے غیر ضروری استعمال پر پابندی عائد کی جائے ۔ تمام بازار قبل از مغرب بند کئے جائیں، تاکہ جنریٹر میں استعمال ہونے والے پیٹرول کی بچت ہو سکے۔ پیٹرول کی بیرون ملک سے خریداری پر آنے والا خرچہ اس وقت کم کرنے کی اشد ضرورت ہے۔ دنیا بھر کے کئی ممالک میں بازار سر شام بند ہوجاتے ہیں۔ حد تو یہ ہے کہ میڈیکل اسٹور بھی بند ہوتے ہیں ۔ اسپتالوں میں موجود فارمیسی کام کرتی ہیں۔ پاکستان میں کاروباری حضرات نے دوکانیں دوپہر کے وقت کھولنے کی کاروباری بدعت شروع کی ہوئی ہے۔

اسی طرح ہر قسم کے سامان کی اسمگلنگ کی مکمل روک تھا م کی جائے۔ آخر اس میں کیا قباحت ہے) (۷)ایکسپورٹرز کو فوری طور پر پابند کیا جائے کہ وہ اپنی ایکسپورٹ سے حاصل شدہ رقم کا کم از کم 60سے 70فیصد اسٹیٹ بینک پاکستان کو دیں۔ (۸)تمام کمرشل بینکوں کو پابند کیا جائے کہ وہ عام آدمی سے ڈالر‘ پاؤنڈ‘ یورو کیش لیکر اسٹیٹ بینک پاکستان کے حوالے کریں، یہ نظام دوبئی جیسے ملک میں کامیابی سے چل رہا ہے۔ (۹)غیرملکی فضائی کمپنیوں کی جگہ ہماری ائرلائنز کو فعال کیا جائے‘ اور اوپن سکائی پالیسی پر نظرثانی کی جائے۔حکومت کے پاس وقت کم ہے، اسے سخت اور کڑوے فیصلے کرنا ہوں گے۔ جن سے ہچکچانے کی ضرورت نہیں ہے۔ دوسری صورت تو وہ ہے کہ پاکستان مزید سے مزید مقروض ہوتا جائے گا۔

مزید : رائے /کالم


loading...