فوری انصاف: ہنوز دلی دور است

فوری انصاف: ہنوز دلی دور است
فوری انصاف: ہنوز دلی دور است

  

مَیں جب بھی چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کے فیصلوں اور عدلیہ کی فعالیت پر تعریفی کالم لکھتا ہوں تو مجھے یہ باتیں ضرور سننے کو ملتی ہیں کہ کاش چیف جسٹس اپنے ادارے پر بھی اتنی ہی توجہ دیتے جتنی انہوں نے دیگر حکومتی محکموں پر دی۔میری کوشش تو ہوتی ہے کہ انہیں باور کراؤں کہ چیف جسٹس کے فعال کردار کی وجہ سے ملک کے کتنے مسئلے حل ہوئے ہیں،کتنے محکموں کی اصلاح ہوئی ہے، کتنے ظلم آشکار ہوئے ہیں اور کس کس طرح کی کرپشن کا پردہ چاک ہوا ہے،مگر وہ یہ بات نہیں مانتے، اُن کی سوئی اِسی نکتے پر اَڑی رہتی ہے کہ لاکھوں مقدمات عدالتوں میں زیر التواء پڑے ہیں،برسوں بیت جاتے ہیں، لوگوں کو انصاف نہیں ملتا۔ لوئر جوڈیشری میں نااہلی اور کرپشن کی شکایات عام ہیں،جو ذرا اونچا بولنے والا وکیل ہے وہ اپنے حق میں فیصلہ کرا لیتا ہے۔

کسی جج کی جرأت نہیں کہ وہ وکلاء کے سامنے اپنے موقف پر ڈٹا رہے، وکیل اگر تاریخ لینا چاہے تو کسی سول جج کی جرأت نہیں ہوتی کہ انکار کرے اور کیس کو جلد مکمل کرنے کی راہ پر ڈالے۔وکلاء بھری عدالت میں باوردی پولیس انسپکٹر کو جج صاحب کے سامنے پیٹ دیں تب بھی کوئی ایکشن نہیں ہوتا، گویا نچلی عدالتوں اور کچہریوں میں اندھیر نگری چوپٹ راج کا سماں ہے،مگر چیف جسٹس نے کبھی اِس طرف توجہ نہیں دی۔ان سب باتوں کے جواب میں بہت کچھ کہا جا سکتا ہے اور مَیں حتی الامکان کوشش بھی کرتا ہوں کہ زیریں عدلیہ کے مسائل بتاؤں اور دیگر حوالوں سے یہ ثابت کروں کہ چیف جسٹس اپنے ادارے پر بھی نظر ر کھے ہوئے ہیں، تاہم یہ اتنا بڑا ادارہ ہے اور اس کے اس قدر گو ناگوں مسائل ہیں ، جن پر وہ فوری قابو نہیں پا سکتے،مگر ظاہر ہے یہ ایک کمزور دلیل ہوتی ہے۔چیف جسٹس جہاں ہر محکمے کو ٹھیک کر رہے ہیں، حالانکہ وہ بھی کچھ کم بڑا اور کم بگڑا ہوا نہیں ہوتا تو انہیں اس پہلو پر بھی ضرور توجہ دینی چاہئے، تاہم جیسا کہ کچھ عرصہ پہلے خود چیف جسٹس ثاقب نثار تسلیم کر چکے ہیں کہ ان کے پاس وقت کم رہ گیا ہے اور انہیں ہمیشہ یہ افسوس رہے گا کہ وہ پاکستان میں عدالتی نظام کو آئیڈیل نہیں بنا سکے۔اب اس کے بعد کیا گنجائش رہ جاتی ہے کہ اس پہلو پر تنقید کی جائے۔

ایک زمانے میں جب افتخار محمد چودھری چیف جسٹس تھے، تو مَیں اُن کے حوالے سے آئیڈیلزم کا شکار ہو گیا تھا۔ مجھے یوں لگا تھا کہ وہ عوام کے لئے نجات دہندہ بن کر آئے ہیں اور اب ملک میں فوری اور سستے انصاف کو یقینی بنا دیا جائے گا۔مَیں نے اُن کے لئے بھی بہت لکھا۔ اُس زمانے میں بھی میرے بعض وکلاء دوست اور لوئر جوڈیشری کے جج صاحبان مجھے کہتے تھے کہ اس وقت ہم انصاف کے حوالے سے بدترین حالات کا شکار ہیں،مجھے اُن کی یہ بات سمجھ نہیں آتی تھی، کیونکہ بظاہر تو چیف جسٹس افتخار حمد چودھری نوٹس پر نوٹس لیتے تھے۔ ایک تھرتھلی سی مچا رکھی تھی۔ ایک جج صاحب جو اُس وقت سول جج اور آج ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج ہیں، مجھے کہتے تھے ہمارے اِس چیف جسٹس (افتخار محمد چودھری) نے ہمیں ہاتھ پاؤں باندھ کر وکیلوں کے آگے ڈال رکھا ہے، اس زمانے میں کوئی دن ہی جاتا تھا جب کسی جج کو وکیلوں کے تھپڑوں اور مکوں کا سامنا نہ کرنا پڑتا ہو،

لیکن ستم بالائے ستم یہ ہوتا کہ جج صاحب کو معافی بھی مانگنا پڑتی اور اس کا تبادلہ بھی کر دیا جاتا۔ یہ بدعت افتخار محمد چودھری کے دور سے عام ہوئی اور اس کی وجہ یہ تھی کہ انہیں اپنے عہدے کو برقرار رکھنے کے لئے وکلاء کی مدد درکار تھی۔اس دور میں نظام انصاف کی جو دھجیاں اڑائی گئیں وہ اب ایک سیاہ تاریخ ہے،جتنی بار ایسوسی ایشنوں کے عہدیدار تھے، انہیں یہ کلین چٹ مل گئی تھی کہ وہ جو مقدمہ لیں گے، اُس کا فیصلہ اُن کے حق میں ہو گا۔بات یہاں تک پہنچ گئی کہ بار عہدیداروں کے وکالت نامے لاکھوں روپے میں بکنے لگے ،جو سول جج فیصلے سے انکار کرتا اُسے نشانِ عبرت بنا دیا جاتا۔

اُس کی نہ تو چیف جسٹس سنتے اور نہ بار کونسل اُس کی داد رسی کرتی۔یہی وجہ ہے کہ چیف جسٹس ثاقب نثار نے جب عہدہ سنبھالنے کے کچھ عرصے بعد لاہور ہائی کورٹ بار میں جج صاحبان اور بار عہدیداران کی ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے یہ کہا کہ آج سے آپ وعدہ کریں کہ وکالت نامے نہیں بیچیں گے اور اپنے منصب کو ججوں پر دباؤ ڈالنے کے لئے استعمال نہیں کریں گے تو ایک سناٹا طاری ہو گیا تھا۔ چیف جسٹس نے یہ بھی کہا تھا کہ مَیں اب خود ایسے کیسوں کو دیکھوں گا، جن میں بار عہدیداروں کے وکالت نامے لگے ہوں گے۔یہ بات تو بہت بڑی تھی،مگر اس پر عملدرآمد نہیں ہو سکتا تھا۔ آخر چیف جسٹس ثاقب نثار کو بھی اس تقریب میں یہ کہنا پڑا کہ وکلاء میری ڈھال ہیں،میرا دست و بازو ہیں، جو عدلیہ کے اختیارات کم کرنے کا سوچے گا، میرا یہ ہر اول دستہ اسے سبق سکھا دے گا۔

اب یہ ہے وہ بنیادی کمزوری،جس نے ہمارے نظام انصاف کو نظام استحصال بنا رکھا ہے۔ میرا ایک مالی ہے، اُس کا بھانجا کالونی میں گارڈ کی فائرنگ سے قتل ہو گیا،غریب لوگ ہیں، بہن بھی بیوہ ہے، جو لوگوں کے گھروں میں کام کر کے اپنے بچوں کا پیٹ پالتی ہے، پہلے ایک وکیل کِیا اس نے،ایک لاکھ روپیہ فیس لی۔ کچھ عرصے بعد پتہ چلا کہ وہ تو دوسرے وکیل کا دوست ہے اور کیس کو آگے نہیں بڑھنے دے رہا۔ مرتا کیا نہ کرتا کے مصداق اپنا گھر بیچ کر دوسرا وکیل کھڑا کیا، چند روز پہلے وہ بیوہ مائی میرے گھر آئی۔اُس نے بتایا کہ ہم چار مرتبہ گواہ لے جا چکے ہیں، ہمارا وکیل بہانے کر کے پیشی پر نہیں آتا، اب گواہ بھی تنگ آ چکے ہیں، اس کا کوئی حل بتائیں، اب مَیں اُسے کیا حل بتاتا۔ یہ تو کہہ نہیں سکتا تھا کہ وہ تیسرا وکیل رکھ لے،

وہ تو پہلے ہی گھر بار بیچ کر بھائی کے پاس رہ رہی تھی۔اُس نے کہا آپ چیف جسٹس صاحب کو میری اپیل پہنچائیں، وزیراعظم سے فریاد کریں جنہوں نے کہا تھا کہ چیف جسٹس بیواؤں کے کیس سب سے پہلے سننے کا حکم جاری کریں۔مَیں نے کہا بی بی کچھ نہیں ہو گا، جب تک تمہارا وکیل کیس میں دلچسپی نہیں لیتا۔سب مل کر اُس کے پاس جاؤ اور قدموں میں گر کر فریاد کرو کہ اُس نے فیس لی ہے خدارا ہمارا کیس تو لڑے۔سو یہ تو ایک کہانی ہے نجانے ایسی کتنے ہزار کہانیاں ملک کی عدالتوں میں روزانہ اُبھرتی اور دم توڑتی ہیں۔ اب اگر کوئی یہ کہتا ہے کہ ججوں کی تعداد بڑھا دی جائے، فوری انصاف شروع ہو جائے گا یا مزید کچہریاں قائم کرنے سے عوام کو انصاف ملنے لگے گا تو یہ اس کی خام خیالی ہے۔

یہاں معاملہ اور ہے انصاف دینے کے لئے ہمیشہ بار اور بنچ کا ذکر آتا ہے۔ چیف جسٹس صاحبان بھی جب خطاب کرتے ہیں تو یہی نکتہ اٹھاتے ہیں کہ بار اور بنچ کے درمیان ہم آہنگی ہی انصاف کو یقینی بنا سکتی ہے، مگر کبھی اس بات کی وضاحت نہیں کی جاتی کہ یہ ہم آہنگی کس نوعیت کی ہونی چاہئے ؟اگر تو یہ ہم آہنگی یہی ہے،جو ہمارے عدالتی نظام میں نظر آتی ہے تو معاف کیجئے اس سے بڑی اور رکاوٹ کوئی نہیں، منجھے ہوئے جج اور اتھرے وکلاء کی یہ ہم آہنگی ایک مذاق نظر آتی ہے، جہاں جج کو کسی فیصلے کے ردعمل میں عدالت چھوڑ کر بھاگنا پڑے اور اسی فیصلے کی پاداش میں اس کی عدالت کو تالے لگ جائیں، وہاں دشمنی کا تاثر تو جنم لیتا ہے، ہم آہنگی کا نہیں۔

جہاں تک مَیں معاملے کی نزاکت سمجھ سکا ہوں اس کا لبِ لباب یہ ہے کہ کوئی بھی چیف جسٹس عدلیہ کے ادارے کو ٹھیک کرنے کے لئے اس لئے ہاتھ نہیں ڈالتا کہ آگے سے جو مزاحمت ہو گی وہ خود اس کے پر جلا دے گی۔ کوئی بھی سربراہ ادارہ اپنے ماتحتوں کو تو کسی پالیسی کا پابند بنا سکتا ہے، لیکن وہ ان پر کیسے کنٹرول کرے جو اس کے ادارے میں کلیدی اہمیت تو رکھتے ہیں، مگر اس کے کنٹرول میں نہیں۔ افتخار محمد چودھری کے دور میں جوڈیشل پالیسی بنی اور مقدمات کی تکمیل کے لئے مدت کا تعین بھی کیا گیا، لیکن ہوا کیا؟ جج صاحبان رگڑے میں آتے رہے، مگر عمل درآمد نہ کرا سکے، کیونکہ وکلاء تعاون نہیں کرتے۔

وہ جب چاہتے ہیں چھٹی کر لیتے ہیں اور جتنی مرضی لمبی چاہے پیشی لے لیتے ہیں۔ بعض جج ہمت کر کے جرمانہ کر دیتے ہیں،لیکن یہ رسکی کام ہے،ہر جج نہیں کر سکتا، کیونکہ آگے سے کوئی گالی کوئی جوتا یا کوئی تھپڑ اُس کا مقدر بن سکتا ہے۔ آج تک کسی وکیل کو کسی جج پر ہاتھ اٹھانے کی سزا نہیں ملی، معاملہ دو چار دِنوں میں صلح صفائی پر ختم ہو جاتا ہے۔ سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ کی سطح پر حالات بہتر نظر آتے ہیں،تاہم ملتان میں لاہور ہائی کورٹ بنچ کے ایک جج کو ایسی ہی صورتِ حال سے گزرنا پڑا تھا، اُن کے نام کی تختی بھی توڑ دی گئی تھی اور اُن کے چیمبر میں داخل ہو کر نعرے بھی لگائے گئے تھے، تاہم اِن کمزوریوں کے باوجود مَیں اِس بات کے حق میں ہوں کہ چیف جسٹس کو آئین نے ازخود نوٹس کا جو اختیار دے رکھا ہے، وہ اُسے عوام کو ریلیف دینے کے لئے استعمال کریں۔ انصاف کے شعبے میں نہ سہی دیگر شعبوں کے عذاب سے تو بچانے والا کوئی ہو۔ وگرنہ یہاں تو ہر طرف ظلم کی حکمرانی ہے اور درمیان میں عوام مظلومیت کی تصویر بنے ہوئے ہیں۔

مزید : رائے /کالم