کچھ #Me Tooتحریک کے بارے میں!

کچھ #Me Tooتحریک کے بارے میں!
کچھ #Me Tooتحریک کے بارے میں!

  

کچھ زیادہ عرصہ نہیں گزرا بعض انگریزی اخباروں میں جب میں نے پہلی بار ایک علامت (سمبل) کے ساتھ Me Tooکے دو لفظ لکھے دیکھے تو ان پر توجہ نہ دی۔ یہ مکمل طغریٰ (# Me Too) کچھ ایسا پُرکشش بھی نہیں تھا کہ اس کی طرف توجہ دیتا۔ لیکن جب اس کے ساتھ کئی نامور اور اہم شخصیات کے نام بھی آنے شروع ہوئے تو معلوم ہوا یہ جھگڑا تذکیر و تانیث کی جنسی بے راہ روی کا ہے۔Me Too کا اردو ترجمہ ’’میں بھی تو ہوں‘‘ کیا جاتا ہے لیکن اس ترجمے کا مفہوم اول اول اس وقت واضح ہوا جب اس کی ادائیگی کا سہرا ایسی خواتین کے سرباندھا گیا جن کی عمر شریف 50اور 70 برس کے درمیان تھی۔ اس عمر میں رخِ زیبا کے خد و خال تقریباً بگڑ جاتے ہیں۔ عورت ہو کہ مرد، چہرے پر جھریاں نمودار ہونے لگتی ہیں۔ خواتین کی آنکھوں سے شوخی اور دلبری غائب ہو جاتی ہے اور میک اپ کی لیپا پوتی افزائشِ حسن کی بجائے نمائشِ بد صورتی کا روپ دھارنے لگتی ہے۔

اگر کوئی خاتون اس عمر میں اپنے شوہر کے ہوتے ہوئے اور جوان اولاد کی موجودگی میں بھی یہ ڈھنڈورہ پیٹنے لگے کہ فلاں مرد نے اس کو ایامِ جوانی میں جنسی ہراسانی کا شکار بنایا تھا تو اس سے فلاں مرد کی صحت پر کوئی خاص اثر نہیں پڑنا چاہیے۔۔۔ لیکن جب یکے بعد دیگرے اس Me Tooکو پرنٹ میڈیا میں دیکھا تو پتہ چلا کہ یہ پس از مرگ واویلا ہے۔Me Tooٹکڑے کا اردو ترجمہ بہت پہلے کبھی ایک ٹی وی کمرشل میں ایک بچے کی توتلی زبان سے ادا کیا جاتا تھا(میرا بھی تو ہے)۔ لیکن آج برسوں بعد اس کا اتنا شہرہ ہونے لگا ہے کہ یقین نہیں آتا کہ ادھیڑ عمر کی بعض مستورات اپنے ایامِ جوانی کی لغرشوں کو بے نقاب کرنے پر کیوں تلی ہوئی ہیں۔

اب تو یہ ’می ٹو‘ باقاعدہ ایک تحریک بن چکی ہے۔ ماضی قریب میں اس الزام کی پاداش میں کئی ممتاز مشاہیر کو عدالتوں میں گھسیٹا جا چکا ہے۔ کوئی بی بی، کسی تھانے میں جا کر ایف آئی آر (FIR) درج کروا دیتی ہے کہ آج سے چوتھائی صدی پہلے جب میں کمسن تھی تو مجھے فلاں مرد نے اپنی ہوس کا نشانہ بنایا تھا(یا بنانے کی کوشش کی تھی)۔ اس طرح کا کوئی کیس جب عدالت میں پہنچتا ہے تو باقاعدہ فریقین کو طلبی کے نوٹس جاری ہونے لگتے ہیں اور میڈیا پر کوریج بھی شروع ہو جاتی ہے۔ مرد تو پنجابی محاورے کے مطابق ’’نہایا ہوا گھوڑا‘‘ ہوتا ہے لیکن ’مُنی‘ بدنام ہونے سے نہیں بچتی۔ ۔۔۔لیکن مزے کی بات یہ ہے کہ مُنّی نے بدنام ہونے کی غرض سے ہی یہ مقدمہ دائرکیا ہوتا ہے۔

یہ جہاں دیدہ اور مردم گزیدہ خواتین سوچ سمجھ کر اپنے شکار کا انتخاب کرتی ہیں۔ مثلاً امریکی صدر ٹرمپ کے بارے میں کس کو خبر نہیں کہ وہ خوبصورت جسم و جاں والی حسیناؤں پر لٹّو ہونے کی ایک طویل تاریخ رکھتے ہیں۔ جب پہلی بار کسی بوڑھی خاتون نے یہ خبر بریک کی کہ 50برس پہلے ٹرمپ نے کسی ہوٹل کے کمرے میں اس سے دست درازی کی کوشش کی تھی اور وہ بال بال بچ گئی تھی تو اس نے ثبوت کے لئے جس شہر میں یہ ’وقوعہ‘

رونما ہوا تھا، نہ صرف اس میں واقع ایک معروف ہوٹل کا نام بھی بتایا بلکہ کمرہ نمبرتک بھی بریک کر دیا۔ہوٹل ریکارڈ چیک کیا گیا تو اس سے یہ بات تو ثابت ہو گئی کہ ٹرمپ واقعی 1970ء میں ایک رات کے لئے وہاں ٹھہرے تھے لیکن یہ تصدیق نہ ہو سکی کہ ان سے ملنے کون کون آیا یا آئی تھی۔ اس معمر خاتون نے جب ٹرمپ کی چھیڑخانی کی بعض ناگفتنی تفصیلات بھی میڈیا کو ’جاری‘ کر دیں تو لوگ کہتے ہیں کہ امریکہ کی خاتون اول اپنے شوہر کی اس جنسی ڈرل کی صحت کی توثیق کرنے میں پیش پیش تھیں۔ ہمیں معلوم نہیں کہ اس نجی راز سے مسز ٹرمپ نے پردہ کیوں اٹھایا لیکن اتنا معلوم ہے کہ اس کے بعد درجنوں خواتین نے # Me Too تحریک میں شامل ہو کر شہادتوں کی بھرمار کر دی۔

یہ معاملہ امریکہ سے باہر نکل کر کئی اور ملکوں میں بھی پھیل گیا۔ ایسے میں انڈیا بھلا کیسے پیچھے رہ سکتا تھا؟ بالی وڈ نے ’’میں بھی تو ہوں‘‘ کی قطاریں لگا دیں۔ کئی خاتون صحافیوں اور اداکاراؤں نے بے باکانہ جرات کا مظاہرہ کیا اور اس تحریک میں شامل ہو کر بڑے بڑوں کی قلعی کھول دی۔ اب یہ سلسلہ چل نکلا ہے تو بہت سی فنکارائیں سامنے آنا شروع ہو گئی ہیں۔

میں کل کے نیویارک ٹائمز میں ایک تصویر دیکھ رہا تھا جس میں ایک مشہور بھارتی لکھاری ساندھیا مینن اور ایک معروف ایکٹریس تنوشری دتہ کسی ٹاک شو میں بیٹھیں یہ راز اگل رہی تھیں کہ فلاں سال جب میں فلاں مرد کے ساتھ کام کر رہی تھی تو اس نے دامے ’ چامے‘ اور سخنے کئی بار اس سے ایسی ایسی دست درازیاں کی تھیں جو بڑی آسانی سے قابلِ دست اندازی ء پولیس ہو سکتی تھیں لیکن میں اپنے ’بے عزتی‘ کی تشہیر سے خوف زدہ تھی اس لئے صدائے احتجاج اندر ہی اندر پی گئی لیکن آج جب میں نے دیکھا ہے کہ میری طرح اس ’’می ٹو تحریک‘‘ میں بہت سی اور بھارتی مہلائیں بھی ملوث ہونے پر مجبور ہوتی رہی ہیں تو میری ہمت بندھی ہے اور میں یہ ساری تفصیلات آپ حضرات و خواتین کے ساتھ شیئر کر رہی ہوں‘‘۔

ضرور پڑھیں: بے ادب بے مراد

نیویارک ٹائمز کی یہ خبر، آدھے صفحے کو گھیرے ہوئے ہے۔ جی تو چاہتا تھا کہ وہ ساری تفصیلات بھی نذرِ قارئین کردوں لیکن سوچتا ہوں کہ ایک تو کالم میں اتنی گنجائش نہیں ہو گی اور دوسرے تنگیء دامانِ کالم کے علاوہ سارا کچا چٹھا جس انگریزی محاورے میں ادا کیا گیا ہے اس کو اردو کا لباس پہنانے کی کوشش کی گئی تو برہنہ نویسی کا لیبل لگ جائے گا۔۔۔۔ اور یہ کام سعادت حسن منٹو مرحوم ہی کرنا جانتے تھے۔۔۔ میں کہاں اور منٹو صاحب کہاں!

لیکن میں یہ بھی سمجھتا ہوں کہ میڈیا پر اس موضوع کو ڈسکس کرنا تحصیلِ حاصل ہو گا۔اُردو اور فارسی شعراء کے سارے دواوین پڑھ جایئے، عصر حاضر کے شعراء اور شاعرات کی مطبوعہ بیاضوں کو بھی دیکھ لیجئے۔ آپ کو معلوم ہو گا کہ ان ’’دفاتر‘‘ کی شاعری کے خلاصے کو صرف ایک چھوٹے سے جملے میں سمویا جا سکتا ہے۔ اور وہ فقرہ یہ ہے :’’ ہر شاعر یا شاعرہ اپنے صنفِ مخالف سے مخاطب ہو کر کہتی ہے کہ آپ بہت خوبرو ہیں‘‘۔۔۔ یہ خلاصہ اقرار باللسان اور تصدیق ’‘ بالقلب کے علاوہ اور کچھ بھی نہیں۔ میں نے خود کئی شعراء کے کلام کا مطالعہ کیا ہے اور مرزا غالب کے اس دعوے کا ہمنوا ہوں کہ:

اُسی کو دیکھ کر جیتے ہیں، جس کافر پہ دم نکلے

اِس جہانِ رنگ و بو میں فطرت نے ہر مخلوق کا جوڑا جوڑا پیدا کیا ہے جس کے اندر باہمی کشش و دیعت کر دی گئی ہے۔ انسان چونکہ اشرف المخلوقات ہے اس لئے اس کی اخلاقی ٹریننگ کی غرض سے ہر دور میں اللہ کے ایسے بندے پیدا ہوتے رہتے ہیں جو ان جوڑوں کے باہمی ربط و ارتباط اور اختلاط کی غرض و غائت بیان کرتے رہے ہیں۔ سارے پیغمبروں، ولی اولیاؤں، رشی مہاراجوں، اوتاروں، جوگیوں، حواریوں ،بھکشوؤں ، پادریوں اور رابیوں نے بڑے واشگاف الفاظ میں مرد و زن کے اس باہمی تعلق پر وہ تمام تصریحات بیان کر دی ہیں جو آسمانی کتابوں اور صحیفوں میں مختصر انداز میں بیان کی گئی تھیں یا محتاجِ تفصیل تھیں۔

اس کرۂ ارض پر جہاں جہاں بھی مستورات پائی جاتی ہیں وہ تب تک معرض خطر (Vulnerable) میں رہتی ہیں جب تک وہ کہیں نہ کہیں اپنا ’’بندوبست‘‘ نہ کر لیں۔ غالب نے تو یہاں تک کہہ دیا تھا کہ جب تک سانس ہے تب تک آس ہے۔ اور ان کے مرنے کے بعد ہی صنفِ مخالف کو چین نصیب ہوا تھا:

حُسن غمزے کی کشا کش سے چھٹا میرے بعد

بارے آرام سے ہیں اہلِ جفا میرے بعد

مقتدمین شعراء میں سے شائد میر تقی میر کا شعر ہے:

یہ جو خوباں چاہنے کا ہم پہ رکھتے ہیں گناہ

ان سے بھی پوچھے کوئی یہ اتنے کیوں پیارے ہوئے

لیکن یہی بات عصرِ جدید کی شاعرہ کشور ناہید نے بھی کہی ہے:

وہ اجنبی تھا غیر تھا کس نے کہا تھا

دِل کو مگر یقین کسی پر ہوا نہ تھا

کچھ اس قدر تھی گرمی ء بازارِ آرزو

دل جو خریدتا تھا اسے دیکھتا نہ تھا

حیرانی اس بات کی بھی ہوتی ہے کہ ’’می ٹو‘‘(Me Too) کے نیلام گھر میں شامل ہونے والیوں کو اپنے گناہِ بے لذت یا با لذت کی یاد اس وقت ہی کیوں آتی ہے جب کوئی عام سا مردVIP بن جاتا ہے یا بننے کے پراسس میں ہوتا ہے۔

حال ہی میں امریکہ میں ایک ایسا ہی واقعہ پیش آیا۔ وہاں کی سپریم کورٹ میں جو دس جج ہوتے ہیں، وہ مرتے دم تک جج رہتے ہیں اور اپنی باری پر چیف جسٹس بن جاتے ہیں۔اس سپریم کورٹ میں کسی نئے جسٹس کی نامزدگی حاضر سروس صدر کرتا ہے اور اس کی تائید باقاعدہ کانگریس سے لی جاتی ہے۔ کچھ روز پہلے ایک امریکی ماہر قانون جس کا نام کاوانو (Kavanaugh) ہے جب اس کی نامزدگی کا مرحلہ آیا تو ٹرمپ نے اس کی سفارش کر دی۔تاہم ایک خاتون جس کا نام ڈاکٹر بلاسی(Blasey) ہے اچانک سامنے آئیں اور الزام لگایا کہ برسوں پہلے جب ہم دونوں کمسن (Teenagers) تھے تو کاوانو نے اس پر ’’جنسی دھاوا‘‘ (Sexual Assault) بول دیا تھا ۔لیکنجب کاوانو سے پوچھ گچھ کی گئی تو اس نے کہا کہ مجھے تو ایسا کچھ یاد نہیں اور اگر بلاسی یہ الزام لگا رہی ہے تو اس کو ثبوت بھی دینا چاہئے۔ صرف زبانی الزام لگانے سے تو کوئی شخص مجرم نہیں بن جاتا۔

یہ معاملہ کافی دنوں تک کانگریس میں چلتا رہا۔وہاں ڈیمو کریٹس کی اکثریت ہے اور ٹرمپ کا تعلق ری پبلکن پارٹی سے ہے۔ طرفین کی طرف سے بڑی گرما گرم تقریریں ہوئیں،کئی خواتین اراکین نے اپنی صنف کی ہاں میں ہاں ملائی لیکن آخر میں قرار پایا کہ کاوانو بے قصور ہیں اور بلاسی جھوٹ بول رہی ہے۔۔۔ اب کاوانو سپریم کورٹ کے جج کے منصب پر فائز ہو چکے ہیں!

#ME TOO کی اس وبا نے ابھی تک پاکستان میں کوئی زور نہیں پکڑا۔ میرا خیال ہے کہ پاکستان کی آب و ہوا میں کسی خاتون کی طرف سے اصل وقوعے کے برسوں بعد لگایا گیا الزام کوئی پھل پھول نہیں لا سکے گا۔ایک دوست سے وجہ پوچھی تو اس نے جواب دیا: ’’بھائی جان! عورت اور مرد کا ملاپ تو فطری ہے۔یہ کوئی انہونی نہیں۔ کیا آپ نے انڈین فلم کا وہ گیت نہیں سنا جس کا مکھڑا ہے:

سب کچھ لٹا کے ہوش میں آئے تو کیا کیا

دن میں اگر چراغ جلائے تو کیا کیا

ہاں اگر کوئی استثنیٰ ہے تو وہ صرف خواجہ سراؤں کو حاصل ہو سکتا ہے، کسی صحت مند مرد یا عورت کو نہیں!‘‘

مزید : رائے /کالم