منصفانہ ، شفاف احتساب ضرور ، سیاسی انتقام کی بھرپور مخالفت کرینگے ،پیپلز پارٹی

منصفانہ ، شفاف احتساب ضرور ، سیاسی انتقام کی بھرپور مخالفت کرینگے ،پیپلز ...

  



کراچی (سٹاف رپورٹر) پاکستان پیپلز پارٹی کا کہنا ہے وہ منصفانہ و شفاف احتساب کیخلاف نہیں لیکن احتساب کے نام پر اگر کسی کو سیاسی طور پر انتقام کا نشانہ بنایا گیا تو وہ اس کی بھر پور طریقے سے مخالفت کرے گی، پیپلز پارٹی نے اس خدشے کا بھی اظہار کیا ہے کہ پارلیمنٹ اور اس کے باہر مختلف سیاسی جماعتوں کے مابین بڑھتی ہوئی کشیدگی اورلفظی جنگ جمہوری عمل کیلئے نیک شگون نہیں ۔ پاکستان پیپلز پارٹی کی سینئر لیڈ ر شپ کا ایک غیر معمولی اجلاس جمعرات کی شام بلاول ہاؤس کراچی کے بجائے پارٹی کے رکن قومی اسمبلی سید نوید قمر شاہ کی قیام گاہ پر ہوا جس کی مشترکہ طورپر صدارت سابق صدر آصف علی زرداری اور پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کی۔ پیپلز پارٹی کے قریبی حلقوں سے معلوم ہوا ہے اجلاس کا مقصد ملک میں جاری موجودہ سیاسی صورتحال ، احتساب کے نام پر پیپلز پارٹی کی اعلیٰ قیادت اور پارٹی کی سینئر لیڈر شپ کے گرد منڈلانے والے خطرات اور اس کے نتیجے میں مرتب ہونیوالے ممکنہ سیاسی وانتظامی اثرات کا جائزہ لیا گیا۔ذرائع کا کہنا ہے پیپلز پارٹی اسوقت انتہائی دشوار اور صبر آزما صورتحال سے گزررہی ہے ایک طرف اسکی اعلی قیادت اور سینئر پارٹی لیڈر شپ کو منی لا نڈرنگ اور کرپشن کے سنگین الزامات کا سامنا ہے اور دوسری جانب اسکی صوبائی حکومت سے اسکی گزشتہ دس سالہ حکومت کے مالی معاملات کا حساب کتاب مانگا جارہا ہے، اس صورتحال نے پوری پیپلز پارٹی کو ایک انجانے خوف، اور پریشانی میں مبتلا کردیا ہے، پیپلز پارٹی کو صورتحال کی سنگینی کا پوری طرح اندازہ ہے اور غالبا اسی سبب غیر رسمی مشاورتی اجلاس بلاول ہاؤس کے بجائے سید نوید قمر کی رہائش گاہ پر منعقد کیا گیا تا کہ اجلاس میں زیر بحث آنیوالے امور کی راز داری کو برقرار رکھا جاسکے۔اجلاس میں شریک بعض قانونی ماہرین نے اعلی قیادت کیخلاف جے آئی ٹی کی جانب سے شروع کی جانیوالی تحقیقات، سندھ حکومت کے درجن سے زائد انتظامی محکموں سے طلب کردہ ریکارڈ کے بارے میں بھی اپنا قانونی نقطہ نظر پیش کیا اور ممکنہ طور پر مرتب ہونیوالے قانونی ، انتظامی اور سیاسی مضمرات پر اظہار خیال کیا۔اجلاس سے قبل پیپلز پارٹی سندھ کے ایک سینئر رہنما اور سابق صوبائی وزیر منظور حسین وسان نے کہا ہم جیلوں سے ڈرنے والے لوگ نہیں ، میں نیب کا مہمان بننے کو تیار ہوں ، پہلے ہی کہا تھا سندھ کی جیلیں صاف کرادی ہیں، وہاں کھانا بھی اچھا ملے گا، مشرف کے دور میں بھی ہم نے جیلیں کاٹی ہیں اورہماری قیادت بھی گرفتاریوں سے نہیں ڈرتی، اس قسم کی کارروائیوں سے کچھ نہیں ہونیوالا ملک اسی طرح چلتا رہے گا تاہم سندھ میں انتقامی کارروائی کی گئی تو یہاں احساس محرومی جو پہلے ہی موجود ہے اور زیادہ بڑھے گا۔ پیر پگارا کیخلاف بھی نیب کا کیس ہے لیکن انہیں کیوں نہیں بلایا جاتا؟

پیپلز پارٹی

مزید : صفحہ آخر