کرنسی سمگلنگ کی روک تھام کیلئے ایئرپورٹوں پر چیکنگ سخت

کرنسی سمگلنگ کی روک تھام کیلئے ایئرپورٹوں پر چیکنگ سخت

  



لاہور(کرائم رپورٹر) وفاقی تحقیقاتی ادارے ایف آئی اے کے سر براہ نے کرنسی سمگلنگ کی روک تھام کے لئے ملک بھر کے ایئرپورٹ پر چیکنگ کے انتظامات سخت کردیئے ہیں کیونکہ،ڈالر کے مقابلے میں روپے کو مصنوعی طور پر نقصان پہنچایا جا رہا ہے جبکہ کرنسی کا غیر قانونی کاروبار کرنے والوں کے خلاف کریک ڈاون کے لیے ٹیمیں تشکیل دے دی گئی ہیں ۔ڈی جی ایف آئی اے بشیر میمن نے روز نا مہ پاکستان سے خصوصی گفتگو کر تے ہو ئے بتایا ہے کہ غیر قانونی منی چینجر، ایئرپورٹ پر ایمرجنسی آپریشن کر نے کا فیصلہ کیا گیا ہے ۔ جس سے ایک ہفتے میں ڈالر کی قیمت میں مصنوعی اضافہ ختم ہوجائے گا۔ گزشتہ روز ان کی زیر صدارت ایک خصوصی اجلاس منعقد کیا گیا۔اجلاس میں روپے کی قدر میں استحکام پر غورکیا گیا۔اجلاس میں صدر فارن کرنسی ایسوسی ایشن کے علاوہ دیگر افسران نے بھی شرکت کی ۔اجلاس میں کہا گیا کہ غیر لائسنس کرنسی کا کاروبار کرنیوالے غیر قانونی طور پر روپے کی قدر غیر مستحکم کر رہے ہیں۔ ذرائع نے دعوی کیا ہے کہ پاکستان کے وفاقی تحقیقاتی ادارے ایف آئی اے نے غیرقانونی طور پرکرنسی بیرون ملک منتقل کرنے کے الزام میں ایک فارن ایکسچینج کمپنی کے دفر پر چھاپہ بھی مارا ہے ، ایف آئی اے کو کچھ شواہد ملے ہیں کہ ان ڈیلروں نے بھاری مقدار میں غیرملکی کرنسی غیر قانونی طریقے سے ملک سے باہر بھجوائی ہے۔ قومی احتساب بیورو کے اختیارات ایف آئی اے کو تفویض کیے گئے ہیں جس کے بعد ملک سے تسلسل کے ساتھ غیرملکی زرمبادلہ بیرون ملک منتقل ہونے کی وجہ سے حکومتی ہدایت پر ایف آئی اے کے کرائم ونگ نے اس کی تحقیقات شروع کردی ہیں۔ مطابق صوبہ بھر اور قبائلی اضلاع میں بھی اس دھندے کی روک تھام کے لئے بڑے پیمانے پر اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ڈائریکٹر ایف آئی اے کا کہنا ہے کہ ان لوگوں کے مطابق یہ کاروبار ان کے باپ دادا کے وقت سے چلا آرہا ہے اور یہ پیسہ کسی بھی طریقے سے ٹریس نہیں ہوتا۔ وزارت داخلہ کے مطابق ہنڈی اور حوالہ کے خلاف مہم صرف پاکستان کو گرے لسٹ سے نکال سکتی ہے ۔بلکہ اس کاروبار سے کرنسی کے غیر قانونی لین دین سے پاکستان قیمتی زر مبادلہ سے بھی محروم رہ جاتا ہے جبکہ ہنڈی اور حوالہ کی رقم ٹیکس چوری سے لے کر غیر قانونی مال تجارت اور سمگلنگ کے لئے بھی استعمال ہوتی ہے جس کا ملکی معیشت اور خزانے دونوں پر برا اثر پڑتا ہے۔

مزید : صفحہ آخر