وحدت امت و تحفظ حرمین شریفین کانفرنس

وحدت امت و تحفظ حرمین شریفین کانفرنس

  



سعودی عرب اور پاکستان کا مضبوط اتحاد عالم اسلام کے لیے ضروری ہے ،حرمین شریفین کے تحفظ کے لیے جان بھی حاضر ہے

مولانا مجیب الرحمن انقلابی

hmujeeb786@hotmail.com

عالم اسلام کے اتحاد اور سعودی عرب کے 88ویں قومی دن کی مناسبت سے انٹرنیشنل ختم نبوت موومنٹ کے مرکزی امیر فضیلۃ الشیخ حضرت مولانا ڈاکٹر سعید احمد عنائیت اللہ حفظہ اللہ کی زیر سرپرستی پریس کلب لاہور میں عالمی اتحاد اہل سنت والجماعت اور پاکستان علماء کونسل کے زیر اہتمام’’ وحدت امت و تحفظ حرمین شریفین کانفرنس‘‘ منعقد ہوئی جس میں علمائے کرام سمیت تمام شعبہ ہائے زندگی سے وابستہ افراد نے بڑی تعداد میں شرکت کی، ’’ وحدت امت و تحفظ حرمین شریفین کانفرنس ‘‘سے پاکستان علماء کونسل کے مرکزی چیئرمین علامہ حافظ محمد طاہر محمو د اشرفی ،عالمی اتحاد اہل سنت والجماعت کے مرکزی امیر مولانا محمد الیاس گھمن، مولانا ندیم سرور جالندھری مولانا اسد اللہ فاروق نقشبندی، علامہ طاہر الحسن، مولانا اسید الرحمن سعید، مولا کلیم اللہ حنفی، مولانا عثمان بیگ فاروقی، مولانا محمد اسلم قادری سمیت دیگر نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ارض حرمین شریفین مسلمانوں کی وحدت اور اتحاد کا مرکز ہے اس کے لیے ہماری جان بھی حاضر ہے، امریکی صدر کا سعود ی عرب کے خلاف توہین آمیز بیان افسوسناک اور قابل مذمت ہے ، ارض حرمین شریفین سعودی عرب کے خلاف ہر سازش کو ناکام بنایا جائے گا۔ حرمین شریفین ٹرمپ سے پہلے بھی تھے اور ٹرمپ کے بعد بھی قیامت تک سلامت رہیں گے۔ انہوں نے کہا کہ مسلمان اپنے مقدسات کا دفاع کرنا جانتے ہیں، خادم الحرمین الشریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز امت مسلمہ کے قائد ہیں، امریکی صدر اپنے بیان پر معافی مانگیں انہوں نے کہا کہ امریکی صدر جان لیں کہ مملکت سعودی عرب کی قوم اور فوج ارض الحرمین الشریفین کا دفاع کرنا جانتے ہیں ، گذشتہ تین برسوں سے عالمی سازش کے تحت حوثی باغی سعودی عرب پر حملہ آور ہیں لیکن سعودی عرب کے عوام اور فوج نے جس طرح ان کو مکمل طور پر ناکام بنایا ہے اسی طرح دشمن کی ہر سازش کو ناکام بنایا جائے گا ۔

شاہ سلمان بن عبد العزیز امت مسلمہ کے قائد ہیں اور امت مسلمہ کسی کو بھی اپنے اکابر کی توہین نہیں کرنے دے گی ، انہوں نے کہا کہ سعودی عرب مسلمانوں کے اتحاد کا اصل مرکز ہے ،سعودی عرب کی حکومت ہر قسم کے مسلکی تعصب کے بغیر عمرہ زائرین اور حجاج کی خدمت کرتی ہے ، خادم الحرمین الشریفین شاہ سلمان بن عبد العزیز کی تعلیمات واضح ہیں کہ جس طرح اسلام سب کا اسی طرح سعودی عرب بھی سب مسلمانوں کامرکز ہے ، مقررین نے کہا کہ گذشتہ 88 برسوں سے آل سعود اسلام ، مسلمانوں اور ارض الحرمین الشریفین کی خدمت میں مصروف ہے۔ انہوں نے کہا کہ حرمین شریفین کی طرف بڑھنے والے غلط ہاتھ توڑ دیئے جائیں گے، انہوں نے کہا کہ وہ اس کانفرنس کے ذریعے خادم حرمین شریفین شاہ سلمان حفظہ اللہ اور محمد بن سلمان حفظہ اللہ کو یقین دلاتے ہیں حرمین شریفین کے تحفظ کے لیے ہم ان کے سپاہی ہیں اور حرمین کے تحفظ کے لیے اپنی جانیں قربان کرنے سے بھی گریز نہیں کریں گے، انہوں نے کہا کہ حرمین شریفین کی وجہ سے سعودی عرب کے ساتھ ہمارا تعلق عقیدت و محبت اور ایمان کا ہے ہم سعودی عرب کے قومی دن کے حوالے سے آزادی کی نعمت پر سعودی عرب کے عوام اور حکمرانوں کو مبارکباد دیتے ہوئے اس عزم کا اظہار کرتے ہیں کہ پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات کو مزید مضبوط کرنے کے لیے ہم ہر ممکن کوشش کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ دین کے تحفظ کے لیے علماء پر اعتماد اور ملک کے تحفظ کے لیے اداروں پر اعتماد کرنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ سعودی عرب اور پاکستان دونوں کلمہ کے نام پر اسلام کے عادلانہ نظام کے عملی نفاذ کے لیے معرض وجود میں آئے ہیں اس لیے ان دونوں کا آپس میں مضبوط اتحاد بھی عالم اسلام کے لیے ضروری ہے

علامہ طاہر محمود اشرفی نے اپنے خطاب کے دوران یہ بھی کہا کہ ان کی گذشتہ دنوں وزیر اعظم عمران خان سے تفصیلی ملاقات ہوئی جس میں دینی مدارس اور عقیدۂ ختم نبوت سمیت دیگر امور پر بات چیت ہوئی جس کے بعد میں یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ موجودہ حکومت سے دینی مدارس و مساجد اور عقیدہ ختم نبوت کو کوئی خطرہ نہیں ہے انہوں نے کہا کہ عمران خان نے جس جرأت مندانہ زبان میں ہندوستان کو جواب دیا وہ قابل تحسین ہے ’’وحدت امت و تحفظ حرمین کانفرنس‘‘ سے ،مولانا زبیر زاہد ، مولانا عبد القیوم فاروقی ، مولانا قاری عبد الحکیم اطہر ، مولانا عبد اللہ رشیدی نے بھی خطاب کرتے ہوئے کہا کہ علامہ طاہر محمود اشرفی اور مولانا محمد الیاس گھمن کی اسلام، ملک، ارض حرمین شریفین کے تحفظ اور اتحاد امت کے لیے کوششیں قابل فخر اور لائق تحسین ہیں، انہوں نے کہا کہ ہم حرمین شریفین کے تحفظ کے لیے بڑی سے بڑی قربانی دینے سے بھی گریز نہیں کریں گے۔ وحدت امت کانفرنس میں مولانا احمد یار لاہوری، مولانا نعمان حامد، مولانا مجیب الرحمن انقلابی اور دیگر علماء و مشائخ نے بھی شرکت کی۔ کانفرنس میں متفقہ طور پرمختلف قراردادیں منظور کی گئیں،جن میں سعودی عرب کی طرف سے حجاج کرام اور زائرین کے لئے خدمات کو سراہتے ہوئے خادم الحرمین الشریفین شاہ سلمان بن عبد العزیز اور ان کے ولی عہد امیر محمد بن سلمان کا شکریہ ادا کیا گیا،نیز سعودی عرب کی طرف سے سی پیک اور دیگر منصوبوں میں انویسٹمنٹ کے تاریخی فیصلے کو سراہتے ہوئے کہا گیا کہ سعودی عرب کے سی پیک میں شامل ہونے اور بلوچستان میں انویسٹمنٹ کرنے سے پاکستان معاشی اور اقتصادی طور پر مستحکم ہو گا اور سعودی عرب کے فرمانروا شاہ سلمان بن عبد العزیز اور ولی عہد امیر محمد بن سلمان کی طرف سے پاکستان کے لئے مثبت اقدام اٹھانے اور عمران خان کی حکومت سے بھرپور تعاون پرہم ان کا شکریہ ادا کرتے ہیں۔ ایک اورقرارداد میں وزیراعظم پاکستان عمران خان کی طرف سے مدارس عربیہ اور مساجد کو مضبوط بنانے اور مساجد اور مدارس کے خلاف کسی قسم کی کارروائی نہ کرنے کے اعلان کا خیر مقدم کیا گیا ۔

مزید : ایڈیشن 1