ہیلمٹ، چالان اور نیا پاکستان

ہیلمٹ، چالان اور نیا پاکستان
ہیلمٹ، چالان اور نیا پاکستان

  

آج کل تحریک انصاف کی موجودہ حکومت نئے کلین اور تبدیلی والے پاکستان کا عکس عوام الناس کی آنکھوں میں ظاہر کرنے کے لئے مختلف حیلوں بہانوں اور نت نئے طریقوں کا استعمال کر رہی ہے۔

چاہئے تو یہ تھا کہ یہ طریقے عوام الناس کو حکومت کے قریب کرتے، لیکن یہ عوامل حکومت اور عوام کے مابین دُوریوں کا باعث بن رہے ہیں اور دن بدن یہ فاصلے بڑھتے جا رہے ہیں۔

موجودہ حکومت کے وہ نعرے جو اس نے 2018ء کے قومی انتخابات میں لگائے تھے، وہ ابھی تک تو بالکل کھوکھلے ثابت ہوئے ہیں، بلکہ یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ انتخابات میں کئے گئے وعدوں کو یکسر بھلا دیا گیا ہے، موجودہ وزیر اعظم پاکستان عمران خان نے پاکستانی عوام سے ووٹ لیتے وقت کہا تھا کہ میں خودکشی کر لوں گا، لیکن آئی ایم ایف سے قرضہ نہیں لوں گا، اب جب موجودہ حکومت نے آئی ایم ایف کا دروازہ کھٹکھٹایا ہے تو سمجھ آ رہی ہے کہ تحریک انصاف کئے گئے کسی بھی وعدے کا پاس نہیں رکھے گی، جب تنقید کی گئی کہ قرضہ کیوں لیا جا رہا ہے تو جواب ملا کہ سابقہ حکومت کے لئے گئے قرضے کی قسط اُتارنے کے لئے قرضہ لیا جا رہا ہے، حالانکہ جب قومی انتخابات میں قرضہ نہ لینے کا بلند و بانگ دعویٰ کیا گیا تھا تو کیا اُس وقت تحریک انصاف کومعلوم نہیں تھا کہ ہمیں قرضہ لینا پڑے گا، یہ کہنا بھی غلط نہ ہوگا کہ وہ وعدے اور دعوے عوام سے صرف ووٹ لینے کے لئے کئے گئے تھے۔

وعدہ کیا گیا تھا کہ نئے پاکستان میں مہنگائی نہیں ہوگی، مگر موجودہ صورت حال میں دیکھا جا رہا ہے کہ غریب پاکستانیوں کے لئے روٹی اور نان کی قیمت کس قدر تجاوز کرچکی ہے، پٹرول، گیس، تیل اور بجلی کی قیمتوں میں ہوشرباء اضافہ پاکستان کی عوام کی نیندیں حرام کر رہا ہے، ڈالر کی قیمت تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہے، سونا اپنی قیمت سے 17سو روپے فی تولہ زیادہ ہوگیا ہے، یہ سب کچھ کم از کم پرانے پاکستان میں بالکل نہیں تھا، پاکستانی عوام نے ان حالات کو دیکھتے ہوئے سرگوشیوں کے انداز میں کہنا شروع کر دیا ہے کہ نئے پاکستان سے پرانا پاکستان کہیں زیادہ بہتر تھا۔ موجودہ حکومت نے شاہراہوں پر اپنی طاقت کا مظاہرہ کرتے ہوئے موٹر سائیکل سواروں کا چالان کرتے ہوئے فی کس 2ہزار روپے جرمانہ کرکے اُس رقم سے قومی خزانہ سیراب کرنے کا جو خواب دیکھا ہے، میں نہیں سمجھتا کہ وہ کبھی شرمندہ تعبیرہو۔

موٹر سائیکل سوار کا چالان اُس کے لئے وبال جان بن گیا ہے، لوگ موٹر سائیکلوں اور چنگ چی رکشوں کو آگ لگا رہے ہیں، اُن رکشوں کو آگ لگا رہے ہیں جن سے آنے والی کمائی سے اُن کے گھروں کا چولہا جل رہا تھا۔ حکومت پاکستان کو ہوش کے ناخن لینے ہوں گے اور اِن غرباء کو تنگ کرنے کی بجائے ڈاکٹر عاصم، شرجیل میمن، احد چیمہ، میاں نواز شریف، میاں شہباز شریف اور میاں برادران کے اہل خانہ سے پاکستان کی لوٹی ہوئی ایک ایک پائی واپس لینی ہوگی۔ موٹر سائیکل کا زیادہ تر چالان ہیلمٹ نہ پہننے کی وجہ سے کیا جا رہا ہے، حکومتی اداروں کا کہنا ہے کہ ہم عوام الناس کو کسی بڑے حادثے سے بچانے کے لئے ہیلمٹ کا استعمال ضروری قرار دے رہے ہیں، حالانکہ دیکھا جائے تو دوہزار کا چالان موٹر سائیکل سوار کے لئے کسی بڑے حادثے سے کم نہیں، حکومتی اداروں کو چاہیئے کہ وہ شاہراہوں پر چلنے والے موٹر سائیکل، چنگ چی رکشوں، بس، ٹرک، کار اور دوسری سواری استعمال کرنے والے ڈرائیورز سے لائسنس مانگیں، نہ ہونے کی صورت میں گاڑی کو بند کیا جائے اور جب تک وہ بندہ لائسنس نہ لائے گاڑی کو کسی قسم کی سیاسی مداخلت سے بالا تر ہوکر بند ہی رکھا جائے۔

حکومت کو چاہیئے کہ وہ دوہزار وصول کرنے کی بجائے عوام کو شعور دینے کی کوشش کرے کہ سواری کا استعمال کیسے کرنا ہے، ڈرائیونگ کی پہلی شرط لائسنس ہوتا ہے اور جب پہلی شرط ہی پوری نہیں ہوگی تو سوار اشارہ کیوں نہیں توڑے گا؟

وہ ہیلمٹ کیوں پہنے گا؟ وہ ٹریفک کے قوانین کی پابندی کیونکر کرے گا؟ حکومتی ادارے پاکستانی عوام میں ڈر پیدا کریں، اُن کا ڈر ختم نہ کریں، کیونکہ جہاں ڈر ختم ہو جاتا ہے، وہاں ڈرانے والا انتہائی کمزور ہو جاتا ہے اور حکومت کی کمزوری معیشت کی کمزوری ہوتی ہے، جس کا خمیازہ بھی بہرحال اُس عوام کو ہی بھگتنا ہوتا ہے، جس کا ڈر ختم ہوگیا ہوتا ہے۔ حکومت کو یہ مشورہ بھی دے رہا ہوں کہ ہیلمٹ پہننے یا نہ پہننے سے نیا پاکستان نہیں بنے گا۔

ہیلمٹ کی پابندی سے صرف ہیلمٹ بیچنے والوں کا فائدہ ہوگا، عوام کو نہیں، کیونکہ اگر نیا پاکستان بنانا ہے تو قومی انتخابات میں کئے گئے تمام وعدے اور دعوے پورے کرنے ہوں گے، حکومت کو آئی ایم ایف کے دروازے سے واپس آنا ہوگا، گورنر ہاؤسز کو گرانا ہوگا، جس طرح آج کل ناجائز تجاوزات گرائی جا رہی ہیں، اُسی طرح گورنر ہاؤسز کی دیواروں کو بھی ناجائز سمجھنا ہوگا، ڈالر، پٹرول، گیس، بجلی، روٹی اور نان غریب عوام کے روزمرہ کی استعمال میں آنے والی چیزوں کو سستا نہیں تو مہنگا ہونے سے روکنا ہوگا۔

تب کہیں سوچا جاسکے گا کہ شائد اب نیا پاکستان بن جائے، اگر ایسا نہ کیا گیا تو پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کے راہنماؤں کی جو ملاقات اسلام آباد کے سندھ ہاؤس میں ہوئی تھی اور جس کا بیانیہ رانا مشہود کی زبان سے رواں ہوا تھا، وہ بیانیہ سچ ہی ثابت نہ ہو جائے، ویسے تو رانا مشہود نے اس بیانیہ میں مختلف اداروں سے اپنی وابستگی کا اظہار کیا تھا جو غلط ہے، لیکن دو بڑی پارٹیوں کے نمائندوں کی ہونے والی ملاقات میں ترتیب دیئے گئے حکومت کے خلاف احتجاجی مہم چلانے کے پلان کی خوشی رانا مشہود سے برداشت نہیں ہوئی اور انہوں نے اعلان کر دیا کہ دو ماہ بعد پنجاب میں ہم حکومت بنانے آ رہے ہیں، سندھ ہاؤس اسلام آباد میں ہونے والی ملاقات میں خورشید شاہ، چودھری منظور اور قمر زمان کائرہ پیپلز پارٹی کی طرف سے جبکہ مسلم لیگ (ن) کے وفد میں رانا ثناء اللہ، رانا مشہود اور سردار ایاز سادق شامل تھے، اس ملاقات میں موجودہ حکومت کے خلاف بہت جلد دما دم مست قلندر کی فضاء قائم کرنے کا فیصلہ بھی کیا گیا، اب یہ دما دم مست قلندر کب ہوگا، اس کا انتظار کرنا ہوگا، لیکن اگر موجودہ حکومت کے لچھن یہی رہے تو دما دم مست قلندر ہونے میں زیادہ وقت نہیں لگے گا اور اُن حالات کی ذمہ دار اپوزیشن نہیں، بلکہ موجودہ حکومت خود ہوگی۔

مزید : رائے /کالم