پشاور سے شروع ہونے والے مصالحتی کونسلوں کا صوبہ کے باقی تمام اضلاع تک توسیع

پشاور سے شروع ہونے والے مصالحتی کونسلوں کا صوبہ کے باقی تمام اضلاع تک توسیع

  



پشاور(کرائم رپورٹر)خیبر پختونخوا میں تنازعات کے حل کی قائم کونسلوں کورواں سال مختلف قسم کے تنازعات سے متعلق اب تک 5487 شکایات موصول ہوئیں جن میں 3815 تنازعات خوش اسلوبی سے پُر امن طور پر حل کر لیے گئے جبکہ 605 تنازعات قانونی چارہ جوئی کے لیے متعلقہ فورم کو بھجوادیئے گئے۔ تفصیلات کے مطابق عام لوگوں کے چھوٹے چھوٹے تنازعات کا خوش اسلوبی سے مستقل حل نکالنے کے لیے پشاور کی سطح پر کونسل قائم کیا گیا۔ اس کی حوصلہ افزاء کامیابیوں اور تنازعات کے حل کے اس نظام میں عوام کے بڑھتے ہوئے اعتماد کی وجہ سے بعد ازاں اس کا دائرہ پورے صوبے تک بڑھادیا گیا۔اور آج صوبے کے تمام اضلاع میں تنازعات کے حل کی کونسلیں قائم ہیں اور عوام زیادہ تعداد میں اپنے چھوٹے چھوٹے مسائل وتنازعات کے حل کے لیے ان کونسلوں کو رجوع کررہے ہیں۔ کونسل برائے تنازعات کے حل کے قیام کا نبیادی مقصد عام آدمی کوفوری اور مفت انصاف دلانا ہے اور معاشرے کے مختلف افراد کے مابین ہونے والے چھوٹے چھوٹے جھگڑوں ؍ تنازعات کا ایسا پُرامن حل تلاش کرنا ہے کہ سرے سے جرم ہی نہیں ہوا ہو۔ تاکہ معاشرے میں امن و آشتی، باہمی ہم آہنگی اور بھائی چارے کے جذبے کو فروغ حاصل ہو اور دوسری طرف عوام بالخصوص غریب اور بے بس لوگ تھانوں اور کچہریوں کے چکروں سے چھٹکارا حاصل کرکے اپنی صلاحتیں اور وسائل مثبت اور تعمیری کاموں پر لگا کر معاشرے کو ترقی اور خوشحالی کی راہ پر گامزن کر سکیں۔ کونسل برائے تنازعات کے حل کا منشور قران وسنت کی روشنی میں تشکیل دیا گیا ہے۔ جوکہ سورۃ الحجرات کی تعلیمات یعنی ’’صلح میں بھلائی ہے‘‘ سے ماخوذ ہے۔ ان کونسلوں میں پورے صوبے میں رواں سال کے دوران اب تک 5487 تنازعات موصول ہوئے جن میں سے 3815 تنازعات خوش اسلوبی سے پُر امن طریقے سے حل کرلیے گئے۔ 605تنازعات قانونی چارہ جوئی کے لیے متعلقہ فورم کو بھیجوادیئے گئے جبکہ 1067 تنازعات پر کاروائی جاری ہے۔ ان کونسلوں نے ضلع پشاور میں 286، مردان میں 721،نوشہرہ میں 4، چارسدہ میں 4، صوابی میں 1045 ،سوات میں 146، کوہاٹ میں 135، کرک میں 97،ہنگو میں 117،لکی مروت میں 90، بونیر میں 249 ، اپر دیر میں 74،لوئر دیر میں33 ،چترال میں 10، شانگلہ میں 133 ، تورغرمیں 3، ایبٹ آباد میں 84، ہری پور میں 104، مانسہرہ میں 61، بٹگرام میں 15، ڈی آئی خان میں130اور بنوں میں274 تنازعات خوش اسلوبی سے پرامن طور پر حل کرلئے ہیں۔تنازعات کے حل کے لیے بنائے گئے کونسل کی ذمہ داریوں میں تنازعات کا پُر امن حل، حقائق جاننے کے لیے تحقیق ( انکوائری) کرنا اورکی گئی تفتیش میں بطور جیوری کام کرنا شامل ہے۔واضح رہے کہ پورے صوبے کی عوام نے تنازعات کے حل کے کونسلوں کے کردار اور کارکردگی پر بھر پور اطمینان کا اظہار کیا ہے اور ان کو نسلوں کو لوگوں کو مفت اور فوری انصاف کی فراہمی کا ایک اہم ذریعہ قرار دیا ہے ۔ اس وقت پشاور ، مردان، نوشہرہ، صوابی اور سوات میں 4،4 ، چارسدہ میں تین ، چترال میں 2 اور صوبے کے باقی اضلاع میں ایک ایک تنازعات کے حل کی کونسلیں عوام کی خدمت میں مصروف ہیں۔

مزید : پشاورصفحہ آخر