نیا پاکستان ہاؤسنگ پروگرام! کام کرنے دیا جائے

نیا پاکستان ہاؤسنگ پروگرام! کام کرنے دیا جائے
نیا پاکستان ہاؤسنگ پروگرام! کام کرنے دیا جائے

  

وزیراعظم عمران خان نے غریبوں کے لئے پانچ برسوں میں50لاکھ گھروں کے منصوبے کا اعلان کر کے اپنے انتخابی نعرے اور منشور میں کئے گئے وعدے پر عمل درآمد کا آغاز کر دیا ہے، مرحلہ وار گھروں کی تعمیر کے لئے پلان بھی جاری کر دیا ہے، بڑے منصوبے کی تعمیر و ترقی، نگرانی، مانیٹرنگ کے لئے اتھارٹی بھی قائم کر دی ہے، جس کا نام ’’نیا پاکستان ہاؤسنگ پروگرام‘‘ رکھا گیا ہے۔ پہلے مرحلے میں سات اضلاع کا انتخاب کیا گیا ہے جن میں چاروں صوبوں سمیت کشمیر، گلگت کو بھی شامل کیا گیا ہے۔

22اکتوبر سے21 دسمبر تک 250روپے فیس کے ساتھ سکھر، کوئٹہ، گلگت، مظفر آباد، سوات، اسلام آباد، فیصل آباد کے ڈپٹی کمشنر کے دفاتر یا نادرا کے دفاتر میں فارم جمع کرانے کی سہولت فراہم کی گئی ہے،گھر سرکاری ملازمین کے علاوہ پرائیویٹ افراد بھی حاصل کر سکتے ہیں جن کا اپنا کوئی گھر نہیں ہے، ’’نیا پاکستان ہاؤسنگ پروگرام‘‘ کا رجسٹریشن فارم انتہائی سادہ تیار کیا گیا ہے،11سوالات پوچھے گئے ہیں، ہدایات میں بتا دیا گیا ہے، ایک خاندان میں ایک فرد، خاوند، بیوی، بیٹا کوئی بھی درخواست دے سکتا ہے، جس خاندان کا اپنا گھر یا پلاٹ مُلک میں کسی جگہ بھی موجود ہے وہ درخواست دینے کے اہل نہیں، موجودہ رہائش کے حوالے سے بھی سوال کیا گیا ہے، اپنا گھر ہے یا کرایہ کا گھر ہے، درخواست دینے والا سرکاری ملازم ہے یا پرائیویٹ ملازم ہے یا اپنا بزنس کرتا ہے،خاندان کی آمدن20ہزار سے اگر زیادہ ہے تو درخواست دینے کا اہل نہیں ہو گا۔

’’نیا پاکستان ہاؤسنگ پروگرام‘‘ میں ایک سوال یہ بھی پوچھا گیا ہے آپ گھر کہاں چاہتے ہیں اس کے لئے جگہ کا تعین کرنا ہو گا، سات اضلاع کی تفصیل دی گئی ہے، سات میں سے ایک کا انتخاب کرنا ہے، ماہانہ قسط کی حد بھی بتانا ہو گی، 10ہزار سے 15ہزار روپے قسط کی حد رکھی گئی ہے، جتنی آپ ادا کر سکتے ہیں اس پر نشان لگانا ہے، خاندان کے افراد کی تفصیل، ہر فرد کی آمدن کا بھی بتانا ہو گا، وزیراعظم پاکستان کی طرف سے اعلان کردہ منصوبے کا خیر مقدم کیا جانا چاہئے، بڑا انقلابی قدم ہے، غریبوں کے لئے اعلان کردہ منصوبے کو متنازعہ بنانے اور شروع سے پہلے ہی اس کی خامیاں نکالنے کی دوڑ میں شامل ہونے کی بجائے انتظار کرنا چاہئے، پانچ مرلہ گھر کی قیمت نہیں بتائی گئی، بتایا گیا ہے اس پر کام ہو رہا ہے۔ البتہ ایک بات ہمارے ذرائع نے بتائی ہے اس گھر کی تعمیر میں 90فیصد قرضہ شامل ہو گا، مالک مکان کو ڈیڑھ سے دو لاکھ روپے اپنے پّلے سے خرچ کرنا پڑے گا، حکومتی منصوبے کا خوش آئند پہلو یہ ہے کہ حکومت اس میں سہولت کار کا کردار ادا کرے گی، گھروں کے منصوبے میں نجی شعبے کو شامل کیا جا رہا ہے، ٹاؤن پلانز اس پر کام کر ر ہے ہیں، قارئین کی دلچسپی کے لئے بتاتا چلوں ہمارے ملک میں صرف پانچ سے دس فیصد افراد پکے گھروں میں رہتے ہیں،90فیصد افراد ابھی بھی کچے گھروں میں یا کھلے آسمان تلے رہتے ہیں، سوا سے ڈیڑھ کروڑ گھروں کی قلت بتائی جاتی ہے۔ اگر گھروں کی فراہمی کا عمل شروع نہ کیا گیا تو آئندہ پانچ برسوں میں مزید ایک کروڑ گھروں کی قلت کا سامنا کرنا پڑے گا۔

وزیراعظم عمران خان کی50لاکھ گھروں کے منصوبے کے لئے بلائی گئی پریس کانفرنس جاری تھی،اس دوران چیف جسٹس آف پاکستان میاں ثاقب نثار کچی آبادیوں کے کیس کی سماعت کر رہے تھے۔

اِس دوران سامنے آنے والے سخت ریمارکس جس میں وہ فرماتے ہیں 50لاکھ گھر بنانا خالہ جی کا گھر نہیں ہے، مشکل کام ہے، وزیراعظم کچی آبادیوں میں رہنے والوں کی کسمپرسی دیکھنے کے لئے کچی آبادیوں میں جائیں۔دلچسپ امر یہ ہے چیف جسٹس کے ریمارکس اور50 لاکھ گھروں کے منصوبے کی تفصیل ایک ساتھ شائع اور نشر ہوئی ہے، 50لاکھ گھروں کی خبر اگر لیڈ سٹوری ہے تو چیف جسٹس کے ریمارکس سپر لیڈ کے طور پر شائع ہوئے ہیں۔ چیف جسٹس کے سخت ترین کمنٹس میرے ذاتی خیال میں بڑے بروقت ہیں،کیونکہ غریبوں کو چھت کی فراہمی یا گھروں کی فراہمی کا عمل پہلی دفعہ شروع نہیں کیا جا رہا۔ پیپلز پارٹی کے منشور میں روٹی کپڑا کے بعد مکان ہی شامل تھا۔

تاریخ پر نظر دوڑائی جائے تو بھٹو دور میں شروع کئے گئے گھروں کے منصوبے بھی بُرے نہیں تھے، بھٹو کالونیاں مختلف ناموں سے آج بھی موجود ہیں۔ میاں شہباز شریف نے آشیانہ کے نام سے سکیمیں متعارف کریں۔

وفاقی حکومت وہ پیپلزپارٹی کی یا مسلم لیگ(ن) کی وفاقی وزارتِ ہاؤسنگ بھی وقتاً فوقتاً گھروں اور فلیٹس کے منصوبے دیتے چلے آ رہے ہیں،کمزوری جو رہی ہے وہ بڑھتی ہوئی آبادی کے تناسب سے بہت کم تھے۔گزشتہ حکومتوں کے منصوبوں میں حکمرانوں کی نیتوں پر شک نہیں کیا جا سکتا،نیک نیتی سے شروع کئے گئے افسوس اِن منصوبوں میں بیشتر اپنی شفافیت نہ رکھ سکے،کچھ منصوبوں کے لئے جگہ کے حصول میں کرپشن پکڑی گئی۔

کچھ منصوبوں کی تعمیر میں دو نمبری پائی گئی، آج کے کالم میں گزشتہ حکومتوں کے تعمیراتی منصوبوں کی کرپشن زیر بحث لانا مقصود نہیں ہے۔البتہ عبرت کے لئے موجودہ حکومت کو ان نکات کو سامنے رکھنا ہو گا،جس کی وجہ سے گزشتہ حکومتوں کے منصوبے ناکامی سے دوچار ہوئے،50 لاکھ گھروں کے منصوبے نیا پاکستان پروگرام جاری کرتے ہوئے بعض نکات کی وضاحت نہیں کی گئی،جس کی وجہ سے پہلے دن ہی سوال اُٹھنا شروع ہو گئے ہیں،گھر پانچ مرلہ ہو گا،7 مرلہ ہو گا، فلیٹ ہوں گے، قیمت کتنی ہو گی اس کی تفصیل آنا چاہئے تھی۔10سے15ہزار قسط پر ملک بھر میں درجنوں پرائیویٹ سوسائٹیوں میں پلاٹ کی فراہمی جاری ہے، سب سے اچھا اقدام جس کا ہاؤسنگ سیکٹر پر خیر مقدم کیا جا رہا ہے وہ ہے نجی شعبہ کو اِس میں شامل کیا جا رہا ہے،اس کے لئے بھی گزشتہ حکومتوں کے من پسند افراد کو شامل کرنے اور نذرانہ لے کر منصوبہ کا حصہ بنانے کی روایت ختم کرنا ہو گی، ملک بھر میں ڈویلپرز اور بلڈرز نے بڑا کام کیا ہے، ان کی شفاف انداز میں شمولیت کے لئے اوپن ٹینڈرز دینے کی ضرورت ہے۔50لاکھ گھروں کے نیا پاکستان پروگرام شروع ہونے سے ہاؤسنگ سیکٹر سے منسلک تین درجن سے زائد شعبوں کا فعال ہونا فطری عمل ہو گا، یقیناًاتنی بڑی سطح پر کام شروع ہونے سے روزگار ملے گا، بہت سی بند صنعتیں چلنا شروع ہوں گی اس کے لئے حکومتی سطح پر بہت سے کام کرنے ہوں گے۔ بلڈنگ میٹریل پر بے جا ٹیکسز، ہاؤسنگ سیکٹر پر بے جا ٹیکسز، رئیل اسٹیٹ سیکٹر پر بے جا ٹیکسز ختم کر کے ون ونڈو منصوبہ دینا ہو گا۔ پراپرٹی کی خرید و فروخت کے لئے زیادہ سے زیادہ دو فیصد ٹیکس کی حد مقرر کرنا ہو گی، نجی شعبہ پر خوف کے سائے ختم کرنا ہوں گے۔50 لاکھ گھروں کے منصوبے کو شفاف بنانے کے لئے زمین کے حصول سمیت تعمیراتی کام کی تکمیل تک ہر مرحلے کو شفاف بنانے کے لئے قائم کی گئی اتھارٹی کو بااختیار بنانا ہو گا، سارا کنٹرول بیورو کریسی کے سپرد کرنے کی بجائے پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ کے نظام کو لانا ہو گا۔اگر حکومت پہلے مرحلے کے سات اضلاع میں دیئے گئے منصوبے میں شفافیت برقرار رکھنے میں کامیاب رہی تو اگلے مرحلے خودبخود طے ہوتے چلے جائیں گے۔غریب عوام کو چھت بھی ملے گی اور روزگار بھی اس کے لئے ضروری ہے صبر کیا جائے اور کام کرنے دیا جائے۔

مزید : رائے /کالم