نشتر ہسپتال میں ادویات خریداری میں لاکھوں کی اضافی ادائیگی کا معاملہ

نشتر ہسپتال میں ادویات خریداری میں لاکھوں کی اضافی ادائیگی کا معاملہ

  



ملتان(وقائع نگار)نشتر ہسپتال کی انٹرنل اڈٹ افیسر اور اکاؤنٹنٹ کی ملی بھگت سے نجی فارماسوٹیکل کمپنی کو ادویات کی خریداری کی مد میں چار لاکھ روپے سے زائد رقم کی ادائیگی بارے(بقیہ نمبر42صفحہ7پر )

انکوائری کمیٹی کے دوبارہ اڈٹ کرنے کے احکامات کو جان بوجھ کر دبا لیا گیا ہے۔ تاکہ ری انکوائری میں اصل چہتے پھنس نہ جائے۔معلوم ہوا ہے کہ نشتر ہسپتال کی انٹرنل اڈٹ افیسر رضوان نے اپنی دیگر ساتھیوں کے ساتھ مل کر نجی سرین میڈیسن کمپنی کو چار لاکھ تراسی ہزار روپے سے زائد رقم کی ادائیگی کردی۔یہ ادائیگی چیک کے ذریعے کی اس پر اوور رائیٹنگ بھی کی گ?ی۔ معلوم ہونے پر سابق وائس چانسلر نے ایک انکوائری کمیٹی تشکیل دی۔ انکوائری کمیٹی کے چیرمین پرفیسر ڈاکٹر شکیل احمد کو مقرر کیا گیا۔اور ساتھ دیگر ممبران کو شامل کیا گیا۔ذرائع کے مطابق انکوائری کمیٹی نے اصل حقائق کو پس پردہ رکھ کر نشتر ہسپتال کے ایک اہم عہدے پر تعینات افیسر کے کہنے پر رضوان انٹرنل اڈٹ افیسر کو انکوائری سے ٹیکنیکل طریقے سے نکالیا گیا اور ملبہ دیگر پر ڈال دیا۔حالانکہ نجی فارماسوٹیکل کمپنی کو اضافی ادئیگی کرنے میں رضوان اور ظفراسلام اکاوٹنٹ ودیگر برابر کے ذمے دار ہیں۔لیکن واضح رہے انکوائری کمیٹی نے اپنی رپورٹ میں یہ ضرور ہدایت دی تھی کہ مئی اور جون 2018 کا دوبارہ اڈٹ کروایا جائے۔لیکن کچھ انتظامی افیسرز کی مداخلت پر انکوائری کمیٹی کے دوبارہ اڈٹ کروانے کے احکامات کو سرد خانے کی نذر کر دیا گیا۔

اضافی ادائیگی

مزید : ملتان صفحہ آخر


loading...