ضمنی الیکشن ، ن اور جنون میں کانٹے کا مقابلہ ،انتخابی مہم آج ختم ہوجائے گی

ضمنی الیکشن ، ن اور جنون میں کانٹے کا مقابلہ ،انتخابی مہم آج ختم ہوجائے گی

  



لاہور(شہزاد ملک) 14اکتوبر کو ہونے والے ضمنی الیکشن کی مہم آج جمعہ کی نصف شب ختم ہو جائے گی صوبائی دارلحکومت میں قومی اسمبلی کے حلقوں این اے 124 اور این اے 131کی انتخابی مہم اپنے آخری مرحلے میں داخل ہو چکی ہے ‘جمعرات کے روز ان حلقوں میں الیکشن لڑنے والے حکومتی و اپوزیشن کے امیدواروں نے اپنے اپنے حلقوں کی مختلف یونین کونسلوں میں بڑے بڑے جلسوں سے خطاب کیا اور یہ سلسلہ رات دیر تک بھی جاری رہا اور آج انتخابی مہم کے آخری روز بھی انہوں نے سارا دن مختلف مقامات پر جلسے طیکررکھے ہیں ۔ این اے 124میں حکمران جماعت کے غلام محی الدین دیوان اور مسلم لیگ (ن) کے امیدوار سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے حلقہ میں مستقل ڈیرے ڈال لئے ہیں اور اپنی انتخابی مہم کو عروج پر پہنچا دیا ہے شاہد خاقان عباسی نے گزشتہ روز رات شاد باغ ٹوکے والا چوک میں انتخابی جلسہ سے خطاب کیا جبکہ غلام محی الدین دیوان نے بھی اپنی انتخابی مہم کے دوران حلقہ کی مختلف یونین کونسلوں میں جلسوں سے خطاب کیا ہے ۔یہ حلقہ اندرون شہر لاہور کا حلقہ کہلاتا ہے اور اس حلقہ میں نئی حد بندیاں ہونے کے بعد اب یہ حلقہ پہلے سے بھی زیادہ بڑا حلقہ بن چکا ہے جس میں تقریبا چار صوبائی حلقوں کے امیدواروں کی مختلف یونین کونسلیں بھی شامل ہیں یہ حلقہ پرانی حلقہ بندیوں کے مطابق این اے 119کے نام سے جانا جاتا تھا لیکن اب این اے 124میں بدل چکاہے ۔یہ حلقہ مجموعی طور پر کشمیری برادری کے ووٹرز کے طور پر بھی جانا جاتا ہے اور مسلم لیگ (ن) کا گڑھ بھی کہلاتا ہے کیونکہ اس حلقہ میں ایک علاقہ گوالمنڈی بھی شامل ہے جہاں سے مسلم لیگی قیادت شروع دن سے ہی الیکشن لڑتی آئی ہے اور ہمیشہ کامیاب بھی ہوئی ہے اس حلقہ میں لگا تار میان حمزہ شہباز شریف ہی کامیاب ہوتے آئے ہیں 25جولائی 2018کو ہونے والے عام انتخابات میں اپنے مد مقابل نعمان قیصر کو ساٹھ ہزار سے زائد ووٹوں سے شکست دی تھی ۔ ان کے استعفے سے یہ نشست خالی ہوئی ہے کیونکہ وہ اس حلقہ کی صوبائی نشست اور قومی اسمبلی کی نشست دونوں سے ہی کامیاب ہو ئے تھے ۔مسلم لیگ (ن) نے جنرل الیکشن میں ناکام ہونے والے شاہد خاقان عباسی کو میدان میں اتارا ہے جن کی پوزیشن بظاہر اس لئے مضبوط ہے کہ اس حلقہ کی تمام یونین کونسلوں سے مسلم لیگی چیئرمین وائس چیئرمین اور کونسلرز کامیاب ہوئے ہیں ۔دوسری جانب پی ٹی آئی کی ٹکٹ پر الیکشن لڑنے والے غلام محی الدین دیوان اسی حلقہ کی کشمیری برادری کے ووٹوں سے آزاد کشمیر کی اسمبلی کے ایم ایل اے بھی منتخب ہو چکے ہیں اس طرح ان کے بارے میں اگر یہ کہا جائے کہ یہ بھرپور مقابلے کی پوزیشن میں ہیں تو یہ بھی بے جا نہ ہو گا ۔دوسری جانب وزیراعظم عمران خان کی خالی کردہ قومی اسمبلی کی نشست این اے 131کے ضمنی الیکشن کے لئے بھرپور میدان سج گیا ہے اور مجموعی طور پر اس ضمنی الیکشن میں مختلف 28امیدوار میدان میں ہیں لیکن اس حلقہ میں اصل مقابلہ عام الیکشن کی طرح (ن) اور جنون کے درمیان ہے۔پی ٹی آئی کے نامزد امیدوار ہمایوں اختر خان اور اپوزیشن جماعت مسلم لیگ (ن) کے نامزد امیدوار خواجہ سعد رفیق نے حلقے میں مکمل طور پر ڈیرے ڈال دئیے ہیں اور ڈور ٹو ڈور انتخابی مہم کا سلسلہ بھی دن رات شروع کردیا ہے دونوں جماعتوں کے مقامی رہنما بھی بڑے زوروں سے اپنے اپنے امیدوار کی انتخابی مہم چلا رہے ہیں اور دونوں جماعتوں کے حامی جیت کے لئے پر عزم بھی دکھائی دیتے ہیں ۔مسلم لیگ (ن) کو اس حلقہ کی دونوں صوبائی نشستوں سے کامیابی جنرل الیکشن میں مل چکی ہے اس لئے یہاں کی صوبائی نشستوں کے دونوں ایم پی اے اپنے امیدوار کی انتخابی مہم کو چلا رہے ہیں جبکہ ہمایوں اختر خان چونکہ وزیراعظم عمران خان کی جگہ پر الیکشن لڑ رہے ہیں اور اس حلقہ کو لاہور کا پوش حلقہ بھی کہا جاتا ہے اس لئے تاثر ہے کہ یہاں سے پی ٹی آئی کے ووٹرز (ن) لیگ کے مقابلے میں زیادہ ہیں لیکن یہاں یہ بات بھی قابل زکر ہے کہ اس کے باوجود جنرل الیکشن میں (ن) لیگ کے خواجہ سعد رفیق کو صرف ساڑھے چھ سو کے قریب ووٹوں سے ہی شکست ہوئی تھی اس لئے یہاں سے دونوں کے مابین ایک بھرپو ر اور کانٹے دار مقابلے کی توقع کی جارہی ہے۔

ضمنی الیکشن

مزید : صفحہ اول


loading...