نقیب اللہ قتل کیس کے مقدمات کی سماعت 31 اکتوبر تک ملتوی

نقیب اللہ قتل کیس کے مقدمات کی سماعت 31 اکتوبر تک ملتوی

  



کراچی (اسٹاف رپورٹر) انسدادہشت گردی عدالت نے نقیب اللہ قتل کیس کے مقدمات کی سماعت 31 اکتوبر تک ملتوی کرتے ہوئے راؤ انوار کو اندرون ملک جانے کی اجازت دے دی ہے ۔جمعرات کو نقیب اللہ قتل کیس کی سماعت انسداد دہشت گردی عدالت میں ہوئی جہاں سابق ایس ایس پی ملیر را ؤانوار سمیت دیگر ملزمان عدالت میں موجود تھے دوران سماعت تفتیشی افسرڈاکٹر رضوان نے مفرور ملزمان سے متعلق رپورٹ جمع کرائی جس میں ان کا کہنا تھا کہ عدالتی احکامات پر مفرور ملزمان کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جارہے ہیں،چھاپہ مار کارروائیوں میں کسی بھی مفرور ملزم کی گرفتاری عمل میں نہیں آئی،ملزمان روپوش ہوگئے ہیں، رپورٹ پر عدالت نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ کئی سماعت سے پیش نہیں ہوئے اور ابھی بھی مفرور ملزمان کو گرفتار نہیں کیا گیا تفتیشی افسر کا کہنا تھا کہ ایک مہلت اور دی جائے مفرور ملزمان کی گرفتاری کیلئے آئی عدالت نے اپنے حکم میں کہا کہ آخری بار مہلت دی جاری ہے آئندہ سماعت پر مفرور ملزمان کی حتمی رپورٹ دی جائے ،عدالت نے مفرور ملزمان کے ایک بار پھر ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کردیئے جس میں سابق ایس ایچ او امان اللہ مروت ، شعیب شوٹر سمیت دس سے زائد ملزمان شامل ہیں۔ تفتیشی افسر کا کہنا تھا کہ مقتولین نقیب اللہ ودیگر کے خلاف درج مقدمات میں بی کلاس کی رپورٹ پر بھی فیصلہ سنایا جائے عدالت نے کہا کہ ٓائندہ سماعت پر بی کلاس مقدمات پر دلائل سنے جائیں گے ،لیکن مقدمات منتقلی کی درخواست ہائی کورٹ میں زیر سماعت ہیں،جب تک ہائی کورٹ فیصلہ نہیں آجاتا عدالت بی کلاس پر فیصلہ نہیں دے سکتی عدالت میں سابق ایس ایس پی ملیر رؤا انوار کی اندرون ملک سفر کے لیئے عدالت میں درخواست دائر کی گئی جس میں کہا گیا کہ اہلخانہ سے ملاقات کرنی ہے اجازت دی جائے،عدالت نے سابق ایس ایس پی راؤ انوار کی درخواست منظور کرلی،عدالت کا کہنا تھا کہ پاکستان میں کسی بھی شہر جہاں پر ہوائی اڈا موجودہو وہاں ہو جاسکتے ہیں،ملاقات کے لیئے جائیں لیکن آئندہ سماعت پر پیش ہوں،سماعت کے بعد غیر رسمی گفتگو میں راو انوار کا کہنا تھا کہ تفتیشی افسر نے جو رپورٹ ہائیکورٹ میں پیش کی وہ جھوٹ پر مبنی ہے تفتیشی افسر غلط بیانی کر رہے ہیں میں اپنی رہائش گاہ پر موجود ہوں،عدالت جب بھی بلاتی ہے میں پیش ہوتا ہوں،اثاثوں کی چھان بین سے متعلق نیب انکوائری کا علم نہیں ہے

مزید : راولپنڈی صفحہ آخر


loading...