منگلا ڈیم کے پانی پر پنجاب کا حق مسترد کرتے ہیں ،محمد اسماعیل راہو

منگلا ڈیم کے پانی پر پنجاب کا حق مسترد کرتے ہیں ،محمد اسماعیل راہو

  



کراچی(اسٹاف رپورٹر)سندھ کے وزیر زراعت محمد اسماعیل راہو نے کہا ہے کہ منگلا ڈیم کے پانی پر پنجاب کے حق کے دعوے کو سندھ حکومت مسترد کرتی ہے۔ یہ بات انہوں نے ارسا اور پنجاب کے پانی والے بلائے گئے اجلاس پر ردعمل دیتے ہوئے کہی محمد اسماعیل راہو نے کہا کہ ارسا غیر جانبداری کا کردار ادا کرنے کے بجائے پنجاب کو سپورٹ کر رہا ہے، سندھ کو ہر سال پانی کم ملتا ہے اس کا ذمہ دار بھی ارسا ہے، ارسا کی جانب سے چشما جہلم اور تونسا پنجند کینال کو مستقل کینال قرار دینا دیگر صوبوں کے ساتھ ناانصافی ہے، منگلا کے پانی پر صرف پنجاب کا ہی نہیں بلکہ سندھ کا سب سے زیادہ حق ہے۔ انہوں نے کہا کہ ارسا اور پنجاب 91 کے پانی معاہدے کے خلاف سازش کرنا بند کریں،ارسا اور پنجاب کو سندھ کے پانی پر ڈاکہ ڈالنے نہیں دیں گے،ارسا ایک قومی ادارہ ہے وہ غیرجانبدار کردار ادا کرنے کے بجا قومی کردار ادا کرے، اس سال سندھ میں پانی کی قلت کے باعث 32 فیصد صوبے کی زرعی پیداوار متاثر ہوئی ہے،سندھ کو اپنے حصے کا پانی کم ملنے کی وجہ سے ٹھٹہ اور بدین کی چوبیس لاکھ ایکڑ زمین سمندر برد ہوچکی ہے۔انہوں نے کہا کہ پنجاب جان بوجھ کر سندھ کا پانی روک رہا ہے، تاکہ سندھ کی فصلوں کو نقصان پہنچے،ہمیشہ کی طرح پانی معاملے میں ارسا اپنا کردار ادا کرنے میں ناکام رہا ہے،سندھ اپنے حصے کا پانی نہ ملنے کا کیس سی سی آئی اجلاس میں اٹھائے گا۔محمد اسماعیل راہو نے کہا کہ پنجاب کی جانب سے کمیٹی میں ارسا ممبر کو شامل کرنے پر سندھ حکومت کو اعتراض ہے،اس سال پانی نہ ملنے کی وجہ سے سندھ میں سب سے زیادہ چاوہ اور کپاس کی فصل متاثر ہوئی ہے،پنجاب کی جانب سے کمیٹی کا ممبر راؤ ارشاد کو بنانے کی مخالفت کرتے ہیں، فیصلے کہ مطابق پنجاب ایڈوکیٹ جنرل کو ممبر بنائے اس کے حربے کو ہم کامیاب ہونے نہیں دیں گیں، وفاقی حکومت صوبوں کو آپس میں لڑانے کی سازش کررہی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ وزیراعظم صاحب ملک صوبوں کو حقوق دینے سے مضبوط ہوگا، سندھ کا عوام سندھ کو بنجر بنانے والی سازش کو ناکام بنائے گی۔

مزید : راولپنڈی صفحہ آخر