اکادمی ادبیا ت کے زیراہتمام ’’ ادبی بیٹھک‘‘ کا انعقاد

اکادمی ادبیا ت کے زیراہتمام ’’ ادبی بیٹھک‘‘ کا انعقاد

  



کراچی( اسٹاف رپورٹر) اکادمی ادبیا ت پاکستان کے زیراہتمام ’’ ادبی بیٹھک‘‘ کا انعقاد کیا گیا۔ جس کی صدارت معروف افسانہ نگار رضی الدین سید نے کی ۔ اس موقع پر نجیب عمر نے افسانہ پیش کیا اور جمیل ادیب سید نے بھی افسانہ پیش کیا ۔ جس پر گفتگو کرنے والوں میں علی اوسط جعفری، دلشاد احمد دہلوی، رفیق مغل، نصیر سومرو ، خالد انصاری، تاج عالی رعنا ،قادربخش سومرو نے حصہ لیا ۔ جبکہ نصیر سومرو نے نظامت کے فرائض انجام دیئے ۔ اس موقع پر رضی الدین سید نے صدارتی خطاب کرتے ہوئے کہا کہ نجیب عمر نے بہت سلہی اسلوب اور بہت ٹھہرے ہوئے انداز سے ایک خوبصورت افسانہ سنایایہ ایک خواب تھا جو وہ اپنے وطن اور اپنے شہر کے خوبصورت اور پُر امن ہونے کا تحریرہوتی ہے لیکن اس کے باوجود اسے حقیقت سے کافی قریب ہونا چاہئے تاکہ قاری اس سے ذاتی دلچسپی لے سکے ۔ دوسرے افسانہ نگار جمیل ادیب سید صاحب کے افسانے ’’بارش کی رات‘‘ بھی ایک بڑا اثر اور مختصر افسانہ تھا جس میں افسانہ نگار نے ایک ٹائیگرکا شور ہونے کے باوجود رات کے وقت سڑک پر بھیک مانگتی ہوئی ایک خوبصورت جواں سال عورت کو نعِ کسی بدنیتی اور بداخلاقی کے امداد کے طورپر پانچ ہزارروپے صدقہ کئے تاکہ اس کے مسائل حل ہوسکیں۔ تاہم صاحب صدرنے قراردیا کہ افسانہنگار کو صدقے کرنے والے نیک آدمی کو بھی کسی نیک خاتون سے شادی شدہ دکھانا چاہئے تھا۔! معروف شاور اور نقاد نصیرسومرو نے کہا کہ نجیب عمر کا افسانہ افسانوی اور حقیقی تسور کا امتزاج ہے یہ یوٹوپیائی تصوف کوئی نئی بات نہیں بلکہ انگریزی میں تھا جس مورکاکی کتاب یوٹو پیا جگ مشہور تجربہ ہے۔ ریزیڈنٹ ڈائریکٹرقادربخش سومرو نے کہا کہ خواب کا سھارا لیکر حقیقت کو بیان کرنا خواب سے بڑہ کر اچھا خواب ہے۔ قادربخش سومرو ریزیڈنٹ ڈائریکٹر نے آخر میں تمام مہمانوں کا اکادمی ادبیا ت پاکستان کے جانب سے شکریہ ادا کیاگیا۔

مزید : راولپنڈی صفحہ آخر


loading...