ہماری دعائیں قبول کیوں نہیں ہوتیں؟اللہ کریم سے مانگنے کا بہترین طریقہ کیا ہے اور اسکے لئے کون سی تسبیح پڑھنی چاہئے ؟آپ بھی یہ بابرکت عمل جانئے

ہماری دعائیں قبول کیوں نہیں ہوتیں؟اللہ کریم سے مانگنے کا بہترین طریقہ کیا ہے ...
ہماری دعائیں قبول کیوں نہیں ہوتیں؟اللہ کریم سے مانگنے کا بہترین طریقہ کیا ہے اور اسکے لئے کون سی تسبیح پڑھنی چاہئے ؟آپ بھی یہ بابرکت عمل جانئے

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

لاہور(نظام الدولہ)اکثر لوگ سوال کرتے ہیں کہ اللہ کریم ان کی دعائیں کیوں نہیں سنتے ،انکی دعائیں قبول کیوں نہیں ہوتیں؟ یہ ایسے سوالات ہیں جو سوالوں سے زیادہ ذہنی الجھنوں پر مبنی ہیں ۔سوال یہ نہیں کرنا چاہئے کہ اللہ ہماری دعائیں کیوں نہیں سنتے ؟ بلکہ خود سے یہ سوال کرنا چاہئے کہ کیا ہم دعا کرنے کا طریقہ جانتے ہیں ؟ دعا کا طریقہ ادب پر مبنی ہے ۔باادب ہی بامراد ہوتا ہے ۔ہم انسان جب اپنے سے معزز یا بڑے یا بااثر سے بات کرتے ہیں تو ادب ملحوظ رکھتے ہیں ،کسی دفتر میں جائیں تو اسکا پروٹوکول ملحوظ رکھتے ہیں۔یہ ادب خوف سے زیادہ اس بات کے پیش نظر بھی کیا جاتا ہے کہ میں اگر ادب کروں گا تو میرا بھی ادب ہوگا ،یہ بات دل میں بیٹھ جائے تو دعا کرنے کا سلیقہ بھی سیکھا جاسکتا ہے ۔اس میں کوئی شک نہیں کہ اللہ ہی خالق و مالک ہے اور اللہ ہی کا فرمان ہے کہ مجھ سے مانگا کرو،تمہاری دعائیں میں سنتا ہوں ۔

اب مسئلہ یہ ہے کہ ہم لوگ اللہ سے دعا کرنے کا سلیقہ نہیں اپناتے ۔اللہ تو اپنے بندے کو عزت دیتے ہےں ،جب کوئی اللہ کا ذکر کرتا ہے تو اللہ بھی فرشتوں کے سامنے اپنے حیا دار بندے کا ذکر فرماتے ہےں ۔اللہ یہ بھی فرماتے ہیں کہ جیسا اس ذات کبریا کے متعلق گمان کیا جائے گا ،وہ ذات اقدس اس کے گمان کے مطابق اسکو ملے گی۔اب سوچئے کہ ہم جب اللہ کریم سے دعا کرتے اور حاجت کشائی کا مدعا لیکر عرض کرتے ہیں تو ہمارے دل کی کیفیت کیا ہوتی ہے ،وہاں عیاری ،انا،تکبر سے نہیں،سعاد ت ،خلوص،شکر ،عجز سے مانگیں گے تو ان شا اللہ دعا اور حاجت پوری ہوگی۔

اگر کوئی بندہ چاہتا ہے کہ وہ جو دعا مانگا کرے اسکی دعائیں قبول ہوجایا کریں ،وہ مستجاب الدعوات بن جائے تو ایسے بندوں کو سب سے پہلے شکر گذار بندہ بننا چاہئے ۔وہ اللہ کا شکر ادا کرتا اور توبہ استغفار کرتا رہے تاکہ دل و دماغ سے تکبر نخوت ،عیاری ،فساد کینہ کا زنگ اترتا رہے۔روزانہ بہت سے وظائف کرنے والوں کو بھی یہی انداز اپنانا چاہئے۔ روزانہ ”یاشکوریا کریم یا غفور“کی تسبیح ایسا عمل ہے کہ جو بندہ روزانہ تین سو بار پڑھتا رہے گا ،اللہ کے قریب ہوجائے گا اور اسکی دعاوں میں تاثیر پیدا ہوگی ۔اللہ اس پر مہربان ہوگا اور جس پر وہ ذات کبریا مہربان ہوجائے ،اسے اور کیا چاہئے ۔بندے کو یہ یقین رکھنا چاہئے کہ اللہ سے وہ جو جائز بات عرض کرے گا وہ لازمی قبول ہوگی،اسکا گمان جتنا اچھا اورمضبوط ہوگا ،اتنا ہی اسکی دعا میں اثر ہوگا ۔ (اپنے مسائل کے حل کے لئے اسما الحسنٰی کی روحانی تسبیح حاصل کرنے کے لئے اس ای میل پر ،اپنا پورا نام ،کاروبار،شہر اور مسئلہ لکھ کر بھیجیں nizamdaola@gmail.com )

مزید : روشن کرنیں