جب ایک صحابی ؓ کے چہرے کا نور دیکھ کر پورا قبیلہ مسلمان ہوگیا

جب ایک صحابی ؓ کے چہرے کا نور دیکھ کر پورا قبیلہ مسلمان ہوگیا
جب ایک صحابی ؓ کے چہرے کا نور دیکھ کر پورا قبیلہ مسلمان ہوگیا

  

نورایمان سے دلوں کے ساتھ ساتھ چہرہ بھی منورہ ہوجاتا ہے ۔صحابہ کرامؓ کی سیرہ مبارکہ پر لکھی جانے والی مقبول و مستند کتاب رحیق المختوم میں حضرت سیدنا سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کے ایمان لانے کا واقعہ بیان کیا گیا ہے کہ آپ طیش کی حالت میں تھے لیکن اسلام قبول کیا تو دل و دماغ کی ساری کیفیات تبدیل ہوگئیں۔ حضرت سعد ؓجب نورایمان سے سرفراز ہوئے تو چہرہ پر نور پھیل گیااور انکے قبیلہ والے انکے چہرے کی نورانیت دیکھ کر ایمان لے آئے تھے۔

حضرت سیدنا سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ ایمان لانے سے پہلے سیدنا مصعب رضی اللہ عنہ کو مدینہ منورہ میں اسلام کی دعوت دینے سے باز رکھنے کے لیے ان کے پاس گئے تاکہ وہ انہیں دین حق کی دعوت نہ دیں ۔سیدنا اسعد بن زرارہ رضی اللہ عنہ کو علم ہوا تو آپؓ نے سیدنا مصعب رضی اللہ عنہ کو آگاہ کیا کہ تمہارے پاس ایک ایسا سردار آرہا ہے، جس کے پیچھے اس کی پوری قوم ہے۔ اگر اس نے تمہاری بات مان لی توپھر ان میں سے کوئی بھی پیچھے نہ ہٹے گا ۔سیدنا سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ نیزہ ہاتھ میں لئے جب پہنچے تو حضرت سیدنا مصعب رضی اللہ عنہ نے انکی بات سنی اورپھر کہا ” کیوں نہ آپ تشریف رکھیں اور سنیں کہ ہم کیا کہتے ہیں۔ اگر کوئی بات پسند آگئی تو قبول کرلیں اور اگر پسند نہ آئی تو ہم آپ کی ناپسندیدہ بات کو آپ سے دور ہی رکھیں گے“

سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نے کہا ” انصاف کی بات کہتے ہو“ اس کے بعد اپنا نیزہ گاڑ کر بیٹھ گئے۔سیدنا مصعب رضی اللہ عنہ نے ان پر اسلام پیش کیا اور قرآن کی تلاوت کی۔ ان کا بیان ہے کہ ہمیں سیدنا سعد رضی اللہ عنہ کے بولنے سے پہلے ہی ان کے چہرے کی چمک دمک سے ان کے اسلام کا پتہ لگ گیاتھا۔ اس کے بعد انہوں نے زبان کھولی اور فرمایا” تم لوگ اسلام لاتے ہو تو کیا کرتے ہو ؟ “

انہوں نے کہا ”آپ غسل کرلیں، پھر حق کی شہادت دیں ، پھر دورکعت نماز پڑھیں“

سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نے ایسا ہی کیا۔اس کے بعد اپنا نیزہ اٹھا یا اور اپنی قوم کی محفل میں تشریف لائے۔ لو گوں نے دیکھتے ہی کہا ” واللہ! سعد (رضی اللہ عنہ ) جو چہرہ لے کر گئے تھے اس کے بجائے دوسراہی چہرہ لے کر پلٹے ہیں۔،اسقدر روشن “ پھر جب سیدنا سعد رضی اللہ عنہ اہل مجلس کے پاس آکر رکے تو بولے” اے بنی عبد الاشہل ! تم لو گ اپنے اندر میرا معاملہ کیسا جانتے ہو ؟ “

انہوں نے کہا” آپ ہمارے سردار ہیں۔ سب سے اچھی سوجھ بوجھ کے مالک ہیں اور ہمارے سب سے بابرکت پاسبان ہیں“

انہوں نے کہا ” اچھا تو سنو ! اب تمہارے مردوں اور عورتوں سے میری بات چیت حرام ہے جب تک کہ تم لوگ اللہ اور اس کے رسول ﷺ پر ایمان نہ لاو“۔ ان کی اس بات کا یہ اثر ہواکہ شام ہوتے ہوتے اس قبیلے کا کوئی بھی مرد اور کوئی بھی عورت ایسی نہ بچی جو مسلمان نہ ہوگئی ہو۔ صرف ایک آدمی جس کا نا م اصیرم تھا اس کا اسلام جنگِ احد تک موخر ہوا۔ پھر احد کے دن اس نے اسلام قبول کیا اور جنگ میں لڑتا ہو ا کام آگیا۔ اس نے ابھی اللہ کے لیے ایک سجدہ بھی نہ کیا تھا۔ نبیﷺ نے فرمایا کہ اس نے تھوڑا عمل کیا اور زیادہ اجر پایا ہے۔سبحان اللہ کیا درجہ اور مقام حاصل کیا۔یہی اسلام کی فضیلت اور حق کی علامت ہے۔

مزید : روشن کرنیں