ڈی ایچ اے نے گھریلو ملازموں کے ساتھ ایسا شرمناک سلوک شروع کر دیا کہ سن کر آپ کی آنکھوں میں آنسو آ جائیں گے ، افسوسناک خبر آ گئی

ڈی ایچ اے نے گھریلو ملازموں کے ساتھ ایسا شرمناک سلوک شروع کر دیا کہ سن کر آپ ...
ڈی ایچ اے نے گھریلو ملازموں کے ساتھ ایسا شرمناک سلوک شروع کر دیا کہ سن کر آپ کی آنکھوں میں آنسو آ جائیں گے ، افسوسناک خبر آ گئی

  



لاہور ( ڈیلی پاکستان آن لائن )سوشل میڈیا پر حسین ندیم نامی ایک ٹویٹر صارف نے ڈی ایچ اے میں ملازموں کے ساتھ کیے جانے والے ناروا سلوک سے پردہ ہٹا دیاہے جس سے تمام پاکستانیوں کا سر شرم سے جھک گیاہے ۔

تفصیلات کے مطابق سوشل میڈیا پر حسین ندیم نامی ٹویٹر صارف نے اپنا تعارف ، پبلک سیکٹر ایڈوائزر ، پی ایچ ڈی سکالر اور ڈائریکٹر ساوتھ ایشیا سٹڈی گروپ سڈنی یونیورسٹی کے طور پر کروایا ہے جبکہ ان کے تعارف میں یہ بھی لکھاہے کہ وہ معروف جریدے ’ فوربز ‘ کیلئے بھی اپنے خدمات انجام دیتے رہے ہیں ۔

حسین ندیم کا ٹویٹر پر جاری پیغام میں کہناتھا کہ ” میرا ڈرائیور روزانہ صبح میر ے گھر کے قریب واقع پارک میں چہل قدمی کیلئے جاتا ہے اور آج صبح جب وہ پارک میں گیا تو انتظامیہ نے اسے اندر جانے سے روک دیا اور وجہ یہ بیان کی کہ ” وہ ایک ملازم ہے اور اس کی وجہ سے پارک میں آنے والے دیگر افراد کو اچھا محسوس نہیں ہوتا ۔“ حسین ندیم کا کہناتھا کہ ”آج میں بہت زیادہ شرمندہ ہوں ، ہمارے اندر کتنا زیادہ امتیاز ہے کہ ہم عوامی جگہوں پر بھی لوگوں کو داخل نہیں ہونے دیتے ، آج میں ڈی ایچ اے کو بھوننے جار ہاہوں ۔“

حسین ندیم کے اس ٹویٹ پر سینیٹر اور پیپلز پارٹی کی مرکزی رہنما شیریں رحمان میدان میں آ ئیں اور اپنے رد عمل کااظہار کرتے ہوئے کہا کہ ” آپ کو ایسا ہی کرنا چاہیے ، کیونکہ یہ بہت ہی ہیبت ناک ہے ۔“

جمیل اے خواجہ نامی صارف بھی ڈی ایچ اے انتظامیہ کی اس حرکت پر برہم نظر آ ئے اور انہو ں نے کہا کہ ”ایک دوسرا پہلو یہ بھی ہے کہ ڈی ایچ اے والے پارک میں جانے کے بھی پیسے لیتے ہیں ، پوری دنیا میں گراونڈز اور پارکس رہائشیوں کیلئے بطور سہولت دیا جاتاہے ۔

دانیکا کمال نامی صارف کا کہنا تھا کہ ” یہ بہت ہی شرمناک ہے تاہم ڈی ایچ اے کراچی کے زمزمہ پارک میں سب کو جانے کی اجازت ہے ، ہمیں ضرورت ہے کہ ہم اپنے معاشرے سے ’ ملازم ‘ کا لفظ ختم کریں اور انہیں ان کے کام سے بلائیں یعنی ڈومیسٹک سٹاف ، ہاوس کیپرز ۔“

اسد عارف نامی شخص کا کہناتھا کہ ” مسئلہ یہ نہیں ہے کہ لوگ انہیں کس نام سے بلاتے ہیں بلکہ یہ ہے کہ ان کے ساتھ سکوک کیا کیا جاتاہے ، یہ ایک نوکری ہے بالکل اسی طرح جیسے سرکاری نوکری کرنے والے کو سرکاری ملازم کہا جاتاہے ۔لوگوں کو اپنی ذہنیت تبدیل کرنے کی ضرورت ہے ۔“

حمادآصف کا کہناتھا کہ ” یہ کلونیل ذہنیت پاکستان کی ترقی کی راہ میں رکاوٹ ہے ۔“

سویرا گل کا کہناتھا کہ ” یہ سن کر مجھے بہت غصہ آیا کیونکہ یہ بہت ہی زیادہ انسانیت سوز ہے ۔“

مزید : قومی


loading...