الیکشن نتائج کی ترسیل کے نظام آر ٹی ایس سسٹم کا ٹھیکہ دراصل کن ہیکرز کی کمپنیوں کو دیا گیاتھا؟ الیکشن کمیشن آف پاکستان نے بالآخر اعتراف کرلیا، ایسی بات بتادی کہ اراکین سینیٹ بھی ایک دوسرے کا منہ دیکھتے رہ گئے

الیکشن نتائج کی ترسیل کے نظام آر ٹی ایس سسٹم کا ٹھیکہ دراصل کن ہیکرز کی ...
الیکشن نتائج کی ترسیل کے نظام آر ٹی ایس سسٹم کا ٹھیکہ دراصل کن ہیکرز کی کمپنیوں کو دیا گیاتھا؟ الیکشن کمیشن آف پاکستان نے بالآخر اعتراف کرلیا، ایسی بات بتادی کہ اراکین سینیٹ بھی ایک دوسرے کا منہ دیکھتے رہ گئے

  



اسلام آباد (ویب ڈیسک)سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے پارلیمانی امور میں الیکشن کمشن آف پاکستان نے نا صرف آر ٹی ایس سسٹم میں خرابیوں کو تسلیم کیا ہے بلکہ آر ٹی ایس کا ٹھیکہ دو بھارتی ہیکرز کی کمپنی کو دینے کا بھی انکشاف ہوا ہے۔

روزنامہ 92 نیوز کے مطابق ماضی میں فرانس، برطانیہ اور امریکہ کے انتخابی عمل میں مداخلت کا روس پر الزام لگایا جاتا رہا ہے۔ یہاں تک کہ امریکہ میں یہ تنازع امریکہ اور روس کے تعلقات میں تناﺅ اور سفارتی عملہ میں کمی پر متنج ہوا ہے اور اس حوالے سے امریکہ میں اعلیٰ سطحی تحقیقات بھی ہو رہی ہیں۔ ان ناپسندیدہ واقعات کے بعد کم و بیش تمام جمہوری ممالک اپنے اپنے انتخابی عمل کو فول پروف بنانے اور سوشل میڈیا کی مانیٹرنگ کا بھی موثر طریقہ کار کے تجربات کر رہے ہیں۔ ان حالات میں چاہیے تو یہ تھا کہ پاکستان میں بھی انتخابات کو شفاف اور غیر ملکی مداخلت سے ہر ممکن حد تک محفوظ بنانے کیلئے اقدامات کیے جاتے مگر بد قسمتی سے انتخابی عمل کے نتائج مرتب کرنے والے سسٹم کا ٹھیکہ ہی بھارتی کمپنی کو دے دیا گیا۔

بھارت پر یہ پہلی بار مہربانی نہیں کی گئی بلکہ سابق حکمرانوں کی بھارت نوازی کے باعث میاں برادران کی شوگر ملز میں بھارتی انجینئر بغیر ویزا کا م کرنے کے چرچے رہے ہیں۔سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف نے ایک انگریزی اخبار کو 12مئی کو انٹرویو میں بھارتی زبان بولتے ہوئے یہاں تک کہا تھا کہ ہم نے غیر ریاستی عناصر کو بھارت جانے اور ممبئی حملہ کر کے 150افراد کو مارنے کی اجازت دی۔

اس تناظر میں دیکھا جائے تو بھارتی کمپنی کو آر ٹی ایس کا ٹھیکہ دینے کے معاملہ کی تحقیقات از حد ضروری ہیں۔ بہتر ہو گا حکومت نہ صرف آر ٹی ایس کے استعمال کو فوری طور پر ترک کر دے بلکہ ٹھیکہ دینے والے ذمہ داروں کا بھی تعین کرے، تا کہ بھارت نوازوں کے چہرے بے نقاب کیے جا سکیں۔

مزید : علاقائی /اسلام آباد


loading...