اہرام مصر سے فرار۔۔۔ہزاروں سال سے زندہ انسان کی حیران کن سرگزشت‎۔۔۔ قسط نمبر 55

اہرام مصر سے فرار۔۔۔ہزاروں سال سے زندہ انسان کی حیران کن سرگزشت‎۔۔۔ قسط ...
اہرام مصر سے فرار۔۔۔ہزاروں سال سے زندہ انسان کی حیران کن سرگزشت‎۔۔۔ قسط نمبر 55

  

ہم جس شمالی ہند کے جنگلوں وادیوں اور میدانوں میں سرگرم سفر تھے۔ وہ آج سے تین پونے تین ہزار برس پہلے کا ہند اور آج کے پاکستان کا شمالی علاقہ تھا۔ ہم کشمیر کے خوبصورت پہاڑی سلسلے میں سے گزرتے ہوئے آج کے کاغان کی حسین وادی میں داخل ہوگئے۔ اس زمانے میں یونانی مقبوضات کی حدیں کاغان تک پھیلی ہوئی تھیں۔ آبادیاں نہ ہونے کے برابر تھیں ۔ کئی کئی روز سفر کے بعد کوئی چھوٹی سی بستی دکھائی دیتی تھی۔ اگرچہ یونانی رسم و رواج بھی یہاں کی ثقافت میں اثرپذیر ہو رہے تھے لیکن قدیم آریائی مذہب کی بنیادیں بڑی گہری تھیں اور لوگ درختوں ، خود ساختہ بتوں اور پہاڑوں دریاؤں اور آگ کی پوجا کرتے تھے۔

کاغان سے نکل کر جب ہم آج کے اتری بھارت کے میدانوں میں داخل ہوئے تو کوہ ہمالیہ میں دیکھا کہ لوگ سانپوں اور بندروں کے بت بنا کر ان کی پرستش کرتے تھے ۔ پہلے اس سارے شمالی علاقے میں کول اور دراوڑ قبیلے کے لوگ آباد تھے لیکن آریاؤں نے حملہ کرکے انہیں جنوب کی طرف بھگا دیا اور دریاؤں کے کنارے اپنی بستیاں اور چھوٹے چھوٹے شہر بنا کر اپنی الگ الگ قبائلی حکومتیں قائم کرلیں۔ ہر شہر کا ایک راجہ تھا اور یہ آپس میں اکثرلڑتے رہتے تھے ۔ یہ قلعہ بند شہری حکومتیں ایک دوسرے سے سینکڑوں کوس کے فاصلے پر واقع تھیں اور گھڑ سوار ہر کارے دنوں کے سفر کے بعد ایک شہر سے دوسرے شہر میں پہنچتے تھے۔ ہم اسی طرح کے ایک شہر کے قریب پہنچے تو دیکھا کہ شہر پناہ کے سات دروازے ہیں جن پر چوکی پہرہ لگا ہے اور ہر داخل ہونے والے کی پڑتال کی جاتی ہے۔ فصیل شہر پر جھکی ہوئی گول چھتوں والے برج بنے تھے۔ جن میں تیر انداز دستے متعین تھے۔ شہر پناہ کے ساتھ گہری کھائی کھدی ہوئی تھی جو پانی سے لبالب بھری تھی۔ ہم سیاحوں کی حیثیت سے شہر میں داخل ہوئے اور ایک سرائے میں جا کر اتر گئے۔ یہ ایک چھوٹا سا شہر تھا او بیچ میں راجہ کا محل تھا جس کے کلس سونے کے تھے۔ یہاں جگہ جگہ ایسے معبد دیکھے کہ جہاں مظاہر فطرت کے بت بنا کر ان کی پوجا کی جاتی تھی۔

اہرام مصر سے فرار۔۔۔ہزاروں سال سے زندہ انسان کی حیران کن سرگزشت‎۔۔۔ قسط نمبر 54پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

دراصل ہندی آریا اپنے ساتھ دیوتاؤں کی ایک فوج لائے تھے۔ وہ ان کی خوشنودی کے لئے یگ اور ہون بھی کرتے تھے۔ اس شہرکے لوگ ان ہی ہندی آریاؤں کی اولاد تھے اور ان کی زبان سنسکرت تھی جو ایرانی مقدس کتاب اوستا کی زبان سے ملتی جلتی تھی۔ یہاں بھی میں نے اندر دیوتا اور اگنی دیوی کے مندر دیکھے اس زمانے میں ہر شہر پر ، ہر راجہ کا اپنا سکہ ہوتا مگر جواہرات او سونا ہر جگہ قبول کیا جا تا تھا۔ ہمارے پاس نہ سونا تھا اور نہ جواہرات تھے کہ انہیں فروخت کر کے سرائے میں ٹھہرنے کی اجرت ادا کر سکتے۔ کھانے پینے سے ہم دونوں آزاد تھے۔ قنطور چونکہ بنیادی طور پر ایک سانپ تھا اس لئے وہ معمولی سی ہوا اور تھوڑے سے دودھ یا گوشت پر کئی دن تک گزر اوقات کر سکتا تھا۔ جہاں تک میرا تعلق تھا مجھے نہ بھوک ستاتی تھی نہ پیاس۔ ہاں اپنی مرضی سے میں کھا پی سکتا تھا اور سو بھی لیتا تھا لیکن سرائے کا کرایہ ادا کرنے کے لئے ہمیں اس شہر کے سکے یا سونے یا جواہر کی ضرورت تھی جو ہمارے پاس نہیں تھا اور ابھی ہمیں اپنی آئندہ منزل کا تعین کرنے کے لئے چند ایک روز اس شہر میں رہنا تھا۔ میں نے قنطور سے کہا کہ میں یہاں کچھ محنت مزدوری کر کے کچھ سکے کماتا ہوں۔ قنطور ہنسا اور بولا۔

’’ اگر ہم دونوں عام انسانوں سے بلند تر ہیں تو پھر عام انسانوں کی طرح محنت مزدوری کیوں کریں؟‘‘

میں نے کہا ۔ ’’ لیکن میں چوری نہیں کر سکتا اور سرائے والے کے پیسے بھی نہیں مار سکتا۔ ہمیں ہر حالت میں یہاں ٹھہرنے کی قیمت ادا کرنی ہوگی۔ ‘‘

قنطور بولا۔’’ بس اتنی سی بات ہے ؟ میرے ساتھ آؤ۔ ‘‘

یہ پہلا موقع تھا کہ میں نے پہلی بار اپنے سانپ دوست قنطور کی ایک ایسی کرامت دیکھی جس کے بعد مجھے یہ باور کرنے میں ذرا سی بھی کسرباقی نہ رہی کہ قنطور واقعی سانپوں کا دیوتا ناگ ہے۔ میں قنطور کے ساتھ سرائے سے باہر نکلا تو سرائے والے نے چبوترے پر کانسی کے دیگچوں کے درمیان بیٹھے ہمیں ٹیڑھی آنکھ سے دیکھا۔ قنطور اس کی آنکھوں کا مطلب سمجھ گیا ۔اس نے سرائے کے مالک کو تسلی دیتے ہوئے کہا کہ اسے بہت جلد کرایہ ادا کر دیا جائے گا۔ اصل بات یہ تھی کہ جب ہم سرائے میں اترے تو ہمارے پاس پھوٹی کوڑی بھی نہیں تھی اور ہم نے سرائے والے کے پاس ہی اپنے دونوں گھوڑے گروی رکھ دیئے تھے کہ پیسے کما کر گھوڑے چھڑوا لیں گے۔ قنطور اور میں پیدل ہی شہر کی کشادہ سڑک پر چلے جا رہے تھے۔ آج سے تین ہزار برس پہلے کے شہروں کی سڑکوں اور دکانوں کا آپ تصور نہیں کرسکتے ۔ آج سے تین ہزار سال پہلے کے شہروں میں ترقی یافتہ ٹیکنالوجی کی جدید سہولتیں نہیں تھیں۔ وہ لوگ ان سہولتوں کا تصور بھی نہیں کر سکتے تھے۔ مکان اک منزلہ ہوتے تھے۔ کہیں کہیں سہ منزلہ حویلیاں نظر آجاتی تھیں۔ سڑکیں کچی اور کشادہ ہوتی تھیں بعض شاہراہوں اور مندروں یاشاہی محل کی طرف جانے والی سڑکوں پر پختہ یاپتھر جوڑ کر انہیں پکا کر دیا جاتا تھا۔ ان پر سارا دن گھوڑے اور رتھ دوڑتے پھرتے تھے۔ دکانوں کا تقریباً سارا قابل فروخت سامان باہر لاکر دیا جاتا ھا۔ اگرچہ چوری کی سزا بڑی سخت تھی پھر بھی ہر جگہ چوریاں ہوتے دیکھتا رہا ہوں۔

میرا سانپ قنطور کسی پرانے کھنڈر کی تلاش میں تھا جو شہر کے اندر کسی جگہ نہیں تھا۔ ہم شہر کے باہر آگئے۔ میں نے اس سے پوچھا کہ وہ کھنڈر کس لئے تلاش کر رہا ہے۔ اس نے مسکراتے ہوئے کہا کہ قدیم خزانے عام طور پر کھنڈروں کے نیچے دفن ہوتے ہیں۔ میں نے کہا کہ کیا وہ کوئی دبا ہوا خزانہ کھودنا چاہتا ہے، اس نے جواب دیا کہ خزانہ ہم نہیں کھودیں گے۔ میں نے خیال کیا کہ ہو سکتا ہے اس شخص کو سانپ ہونے کی وجہ سے خفیہ خزانوں کا پتہ چل جاتا ہولیکن میرا دل نہیں مانتا تھا کہ قنطور کو زمین دوز خزانوں کا علم ہے کیونکہ اب وہ ایک سانپ کی نہیں بلکہ ایک عام انسان کی زندگی بسر کر رہا تھا۔

ایک جگہ خشک دار درختوں کے قریب ایک پرانا کھنڈر نظر آیا ۔ جس کی دیواریں گر چکی تھیں۔ سنگ سرخ کے صرف دو ستون سلامت تھے۔ قنطور ان ستونوں کے پاس جا کر رک گیا اور اس نے منہ اٹھا کر فضا میں کسی خاص قسم کی بو کو سنگھا اور مجھے ہدایت کی کہ میں اس کی ایک جانب زمین پر دوزانو ہو کر بیٹھ جاؤں اور نہ کوئی حرکت کروں اور نہ کسی چیز سے خوف کھاؤں۔ میں ایک بڑے سے پتھر پر دوزانو ہو کر بیٹھ گیا اور قنطور کو دیکھنے لگا۔ اس نے ہوا میں اپنا سانس زور سے چھوڑا اور خود بھی ایک پتھر پر آلتی پالتی مار کر بیٹھ گیا۔ چند سیکنڈ بعد مجھے پھنکار کی رونگٹے کھڑے کر دینے والی آواز سنائی دی اور پھر کھنڈر کے پتھروں اور ملبے کے درمیان سے ایک کافی موٹا اور لمبا سانپ جو اژدھا لگتا تھا بل کھاتا ، پھنکارتا نمودار ہوا اس کے جسم کا رنگ ہلکا سبز تھا اور گردن کے قریب سرخ دانے دانے سے نکلے ہوئے تھے۔ اژدھا نے اپنا بھاری سرتین بار اوپر اٹھا کر نیچے جھکایا جیسے قنطور یعنی ناگ دیوتا کی تعظیم کر رہا ہو اور پھر اس سے تین چار گز کے فاصلے پر کنڈلی مار کر بیٹھ گیا۔

اژدھا نے ایک بار میری طرف اپنی لال لال آنکھوں سے گھور کر دیکھا اور دو شاخہ زبان باہر نکال کر لہرائی۔ قنطور نے اپنا ہاتھ اوپر اٹھا دیا اور اس کے منہ سے سیٹی کی سی آوازیں نکلنے لگیں۔ اژدھا اپنا بھاری سر اوپر اٹھائے ہوئے تھا۔ ایسا لگتا تھا کہ قنطور سانپوں کی زبان میں اس سے کوئی مطالبہ کر رہا ہے جسے وہ پوری توجہ سے سن رہا ہے۔ قنطور کے منہ سے سیٹی کی آوازیں نکلنا بند ہوگئیں۔ اژدھا نے سرجھکایا اور زمین پر بل کھاتا لہرتا جدھر سے آیا تھا ادھر کو ہی چلا گیا۔ اس کے جاتے ہی میں نے قنطور سے پوچھا کہ کیا وہ اژدھا سے باتیں کر رہا تھا۔ قنطور نے کوئی جواب نہ دیا اور ہاتھ کے اشارے سے مجھے خاموش رہنے کی ہدایت کی۔

(جاری ہے۔۔۔اگلی قسط پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں)

مزید : کتابیں /اہرام مصرسے فرار