فلمی و ادبی شخصیات کے سکینڈلز۔ ۔ ۔قسط نمبر535

فلمی و ادبی شخصیات کے سکینڈلز۔ ۔ ۔قسط نمبر535
فلمی و ادبی شخصیات کے سکینڈلز۔ ۔ ۔قسط نمبر535

  

ہم نے منٹو صاحب سے اس فلم کا تذکرہ کیا اور مختصراً کہانی بھی سنائی۔ انہوں نے بھی اسے پسند کیا اور دیر تک اس قسم کے موضوعات کے بارے میں ان کہانیوں کا ذکر کرتے رہے جو وہ بنانا چاہتے تھے مگر انہیں پاکستان آنے کے بعد اس کا موقع نہیں ملا۔ وہ عصمت چغتائی کے معترف تھے حالانکہ وہ بہت کم ہی کسی اور کو خاطر میں لاتے تھے۔

’’بزدل‘‘ نے واقعی فلم بینوں کو چونکا کر رکھ دیا تھا۔

عصمت چغتائی نے اگلی فلم کے لئے بھی ایک مختلف موضوع کا انتخاب کیا۔ اس فلم کا نام ’’شیشہ‘‘ تھا۔ نرگس کے ساتھ سجن نے اس میں مرکزی کردار کیا تھا۔ یہ ایک امیر زادی اور اس کے ملازم کے پیار کی کہانی تھی جسے عصمت چغتائی نے بہت سلیقے سے بنا سنوار کر پیش کیا تھا۔ عصمت چغتائی کی فلموں کے بارے میں ایک عجیب بات یہ تھی کہ انہوں نے افسانوں کے برعکس فلمی مکالموں میں بہت احتیاط برتی تھی اور بے باکی سے پرہیز کیا تھا۔

اس فلم کے نغمہ نگار شکیل بدایونی کے علاوہ مجروح سلطان پوری بھی تھے۔ ایک اور شاعر نے بھی نغمات لکھے تھے جن کا نام یاد نہیں آ رہا۔ وہ زیادہ مشہور اور نمایاں شاعر نہیں تھے مگر وہ شریک فلم ساز بھی تھے۔ اس فلم کے موسیقار غلام محمد اور ہدایت کار شاہد لطیف تھے۔ یہ فلم 1952ء میں نمائش کے لئے پیش کی گئی تھی اور ایک کامیاب فلم ثابت ہوئی تھی۔ عصمت چغتائی نے بہت اچھی سیچویشنز بنائی تھیں اور مکالمے تو ظاہر ہے کہ برجستہ، چست اور معنی خیز تھے۔ اس فلم کی موسیقی بھی بہت اچھی تھی۔ غلام محمد نے راگ راگنیوں میں گانوں کو ڈھالا تھا۔ اس کے چند نغمے یہ تھے۔

جل جل کے مروں کچھ کہہ نہ سکوں

مجھ سا بھی کوئی ناکام نہ ہو (شاعر: شکیل بدایونی)

خوشی دل سے ہنسی ہونٹوں سے رخصت ہوتی جاتی ہے (عمر انصاری)

کسی کو بنانا کسی کو منانا

عجب ہے یہ دنیا عجب ہے زمانہ (مجروح سلطان پوری)

بے دردی نے درد مرا جانا نہیں

مرے دل نے جو کہا کبھی مانا نہیں

’’شیشہ‘‘ بھی ایک کامیاب اور مقبول فلم تھی۔

فلمی و ادبی شخصیات کے سکینڈلز۔ ۔ ۔قسط نمبر534پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

اگلی فلم ’’فریب‘‘ کی مصنفہ عصمت چغتائی تھیں مگر شاہد لطیف کے ساتھ مل کر انہوں نے ہدایت کاری میں بھی حصہ لیا تھا۔ اس حیثیت سے یہ ان کی پہلی اور آخری فلم تھی۔ اس فلم میں کشور کمار اور شکتلا نے رومانی کردار ادا کیے تھے۔ موسیقار انل بسواس تھے۔ نغمات مجروح سلطان پوری نے لکھے تھے۔ اس فلم میں بہت زیادہ گانے تھے مگر اتفاق سے اس کا میوزک ہٹ نہیں ہوا۔ صرف دو تین گانے ہی مقبول ہوئے۔ ’’فریب‘‘ کو زیادہ کامیابی بھی حاصل نہیں ہوئی۔ سچ تو یہ ہے کہ یہ فلم عصمت چغتائی اور شاہد لطیف کی پچھلی فلموں کے معیار کی نہیں تھی۔

ان کی اگلی فلم ’’دروازہ‘‘ تھی جس کی مصنفہ اور فلم ساز عصمت چغتائی تھیں۔ شیکھر اور شیلا نے مرکزی کردار کیے تھے۔ اس فلم کے موسیقار ناشاد تھے جو بعد میں پاکستان آ گئے تھے۔ اس کے نغمات مجروح سلطان پوری اور خمار بارہ بنکوی نے لکھے تھے۔ شاہد لطیف نے ہدایت کاری کی تھی۔ اس فلم کی موسیقی بہت اچھی تھی۔ ناشاد نے اس فلم میں ایک نئی گلوکارہ سمن کلیان پور کو متعارف کرایا تھا جنہوں نے بعد میں بہت زیادہ شہرت اور مقبولیت حاصل کی۔ ان کی آواز لتا سے مشابہ تھی اس لئے کئی بار سننے والوں کو یہ خیال گزرتا تھا کہ لتا ہی گا رہی ہیں۔ یہ ایک کامیاب فلم تھی۔ اس کی موسیقی بھی پسند کی گئی تھی۔

چند نغمات یہ تھے۔

ایک دل ہے دو ہیں طلب گار بڑی مشکل ہے

کشمکش میں ہے میرا پیار بڑی مشکل ہے (خمار بارہ بنکوی)

آگ لگے اس ساون میں

چبھ گیا کانٹا من میں (مجروح سلطان پوری)

کوئی کس لئے میری محفل میں آئے

بجھی شمع ہوں میں کوئی کیوں نہ جلائے (مجروح سلطان پوری)

چلے ہم تو مبارک ہو زمانے کو بتا دینا

بس اپنی آرزو ہے تم ہمیں دل سے بھلا دیا (مجروح سلطان پوری)

ناشاد کو موسیقار کی حیثیت سے اس فلم سے بہت شہرت ملی تھی۔ سمن کلیان پور بھی اس کے بعد صف اول کی گلوکارہ بن گئی تھیں۔

1958ء میں عصمت چغتائی نے بطور فلم ساز اور مصنفہ ’’لالہ رخ‘‘ بنائی۔ اس کے ہدایت کار اطہر سراج تھے جو شاہد لطیف کے معاون رہ چکے تھے۔ طلعت محمود اس کے ہیرو اور شیلا ہیروئن تھیں۔ یہ ایک گھریلو فلم تھی۔ خیام نے اس فلم کی موسیقی ترتیب دی تھی۔ محمد رفیع، طلعت محمود، آشا نے گلوکاری کی تھی۔ بدقسمتی سے یہ فلم فلاپ ہو گئی۔

جس سال ’’لالہ رخ‘‘ ریلیز ہوئی تھی اسی سال عصمت چغتائی کی ایک اور فلم ’’سونے کی چڑیا‘‘ بھی نمائش کے لئے پیش کی گئی تھی۔ طلعت محمود اور نوتن اس کے مرکزی کردار تھے۔ عصمت چغتائی اس کی فلم ساز اور مصنفہ تھیں۔ اس کی ہدایت کاری کے فرائض شاہد لطیف نے ادا کیے تھے۔ اوپی نیر اس کے موسیقار تھے۔ یہ فلم کامیاب نہیں ہو سکی تھی۔ عصمت چغتائی نے ایک فلم ’’سوسائٹی‘‘ بھی بنائی تھی جس میں نمی اور ناصر خاں نے مرکزی کردار ادا کیے تھے۔ شاہد لطیف اس کے ہدایت کار تھے۔ یہ ایک معاشرتی فلم تھی اور کامیاب ہوئی تھی۔ ایس ڈی برمن اس کے موسقار تھے نغمات ساحر لدھیانوی نے لکھے تھے۔

’’سونے کی چڑیا‘‘ کے بعد عصمت چغتائی اور شاہد لطیف فلمی صنعت سے دور ہو گئے تھے حالانکہع فلمیں تو ناکام اور کامیاب ہوتی رہتی ہیں۔ عصمت چغتائی نے بھی فلموں کی کہانیاں لکھنے کی طرف توجہ نہیں دی اور افسانہ نگاری کی طرف متوجہ ہو گئیں۔ شاہد لطیف کی مے نوشی میں کچھ اور اضافہ ہو گیا تھا جس کی وجہ سے ان کی ذہنی صلاحیتیں متاثر ہوئی تھیں۔

1966ء میں فلم ساز و ہدایت کار گورو دت نے اپنی فلم ’’بہاریں پھر بھی آئیں گی‘‘ کی ہدایت کاری شاہد لطیف کے سپرد کر دی۔ دھرمیندر اور تنوجا نے اس میں مرکزی کردار ادا کیے تھے۔ موسیقار اوپی نیر تھے۔

یہ فلم ناکام ہوئی جس نے شاہد لطیف کو ذہنی طور پر بہت متاثر کیا۔ اس فلم کے دو تین گانے بہت مقبول ہوئے تھے۔ کیفی اعظمی اس کے نغمہ نگار تھے۔ مے نوش تو وہ پہلے ہی تھے مگر غالباً عروج کے بعد زوال کا انہوں نے بہت زیادہ اثر لیا۔

کثرتِ شراب نوشی نے شاہد لطیف کے جسم کو کھوکھلا کر دیا تھا۔ ناکامیوں نے ان کے ذہن کو اور زیادہ منتشر کر دیا۔ ان کی شراب نوشی میں کچھ اور اضافہ ہو گیا مگر اب اس کا کوئی علاج نہ تھا۔ عصمت چغتائی بھی بے بس تھیں۔ وہ ان صدمات سے جانبر نہ ہو سکے اور انتقال کر گئے۔

شاہد لطیف اور عصمت چغتائی کی مشترکہ کاوشوں نے کچھ بہت اچھی فلموں کو جنم دیا تھا۔ کامیابیوں نے ان کے قدم چومے تھے۔ شہرت بھی حاصل ہوئی تھی اور دولت بھی۔ گویا مالی لحاظ سے وہ فکر مند نہ تھے۔ شاہد لطیف کی موت نے عصمت چغتائی کو تنہا اور غم زدہ تو کر دیا تھا مگر انہوں نے حوصلہ نہ ہارا اور کاموں میں مصروف رہیں۔ انہوں نے اس کے بعد بچوں کے لئے چند دستاویزی فلمیں بھی بنائی تھیں جو کامیاب بھی ہوئی تھیں مگر عملی طور پر وہ فلمی دنیا سے بے تعلق ہو چکی تھیں۔

عرصہ دراز کے بعد انہوں نے ایک بار پھر فلمی دنیا میں قدم رکھا۔ 1973ء میں انہوں نے فلم ’’گرم ہوا‘‘ کی کہانی اور مکالمے لکھے۔ اس فلم کی کہانی کا موضوع تقسیم ہند تھا۔ اسے بہت سے نقادوں نے ایک آرٹ فلم بھی قرار دیا تھا۔ موسیقی عزیز احمد خاں نے بنائی تھی اور نغمات کیفی اعظمی نے لکھے تھے۔

(جاری ہے۔۔۔ اگلی قسط پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں)

مزید : کتابیں /فلمی الف لیلیٰ