’سعودی عرب نے ترکی میں صحافی کو اس لئے قتل کیا کیونکہ اسے معلوم تھا کہ شاہی خاندان۔۔۔‘ خوفناک دعویٰ سامنے آگیا، پوری دنیا کو ہلا کر رکھ دیا

’سعودی عرب نے ترکی میں صحافی کو اس لئے قتل کیا کیونکہ اسے معلوم تھا کہ شاہی ...
’سعودی عرب نے ترکی میں صحافی کو اس لئے قتل کیا کیونکہ اسے معلوم تھا کہ شاہی خاندان۔۔۔‘ خوفناک دعویٰ سامنے آگیا، پوری دنیا کو ہلا کر رکھ دیا

  

جدہ(مانیٹرنگ ڈیسک) سعودی صحافی جمال خشوگی کی پراسرار گمشدگی کے معاملے پر ترکی اور سعودی عرب کے تعلقات بہت کشیدہ ہو چکے ہیں اور اب اس حوالے سے ایسا خوفناک دعویٰ سامنے آ گیا ہے کہ پوری دنیا ہل کر رہ گئی۔ میل آن لائن کے مطابق جمال خشوگی استنبول میں واقع سعودی سفارت خانے میں اپنی دستاویزات لینے گئے تھے لیکن ان کی اہلیہ اور ترک حکومت کے مطابق واپس باہر نہیں آئے۔ ترک پولیس قبل ازیں یہ دعویٰ کر چکی ہے کہ انہیں سفارتخانے کے اندر قتل کرکے ان کی لاش کے ٹکڑے کر دیئے گئے ہیں۔ جبکہ سعودی شاہی خاندان کے ذرائع اس دعوے کے برعکس یہ بتا چکے ہیں کہ جمال خشوگی زندہ ہے اور سعودی عرب میں قید ہے۔ اسے ایک نجی جہاز کے ذریعے خفیہ طور پر ترکی سے سعودی عرب منتقل کیا گیا۔

اب اس حوالے سے جمال خشوگی کے ایک ساتھی صحافی جان آر بریڈلے نے خوفناک دعویٰ کر دیا ہے کہ القاعدہ اور نائن الیون کے سانحے کے تانے بانے سعودی ولی عہد شہزادہ محمد سے ملتے ہیں اور جمال خشوگی شدت پسند تنظیم اور شہزادہ محمد کے روابط سے آگاہ تھا۔یہی وجہ تھی کہ سعودی حکومت ہر قیمت ہر جمال خشوگی کا خاتمہ چاہتی تھی۔اسے خدشہ تھا کہ کہیں جمال خشوگی شہزادہ محمد اور اسامہ بن لادن کے روابط کو منظرعام پر نہ لے آئے۔بریڈلے نے اپنے آرٹیکل میں مزید لکھا ہے کہ جمال خشوگی 1980ءاور1990ءکی دہائیوں میں اسامہ بن لادن کے دوست بنے اور افغانستان اور سوڈان میں ان سے ملتے بھی رہے۔ اس وقت وہ سعودی انٹیلی جنس سروسز نے ان کی خدمات حاصل کی تھیں تاکہ وہ اسامہ بن لادن اور سعودی شاہی خاندان کے درمیان امن قائم کرائیں اور رابطہ بحال کرائیں۔

مزید : عرب دنیا