لاپتہ افراد کیلئے بنچ قائم کردیا ،انصاف میں تاخیر بے انصافی ، ملک کے شہریوں کو بنیادی حقوق میسر نہیں، چیف جسٹس نے بابا رحمتے کے کردار کی تشریح کردی

لاپتہ افراد کیلئے بنچ قائم کردیا ،انصاف میں تاخیر بے انصافی ، ملک کے شہریوں ...
لاپتہ افراد کیلئے بنچ قائم کردیا ،انصاف میں تاخیر بے انصافی ، ملک کے شہریوں کو بنیادی حقوق میسر نہیں، چیف جسٹس نے بابا رحمتے کے کردار کی تشریح کردی

  

لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن)چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس ثاقب نثار نے کہاہے کہ لاپتہ افراد کیلئے بنچ قائم کردیا ،ان کے بارے میں ڈی جی آئی ایس آئی اور چاروں آئی جیز سے حلف نامے مانگے ہیں، حکمران اپنی ذمہ داری کریں تاکہ ہمیں مداخلت نہ کرنا پڑے ، ملک میں شہریوں کوبنیادی حقوق میسر نہیں ہیں ، پاکستان کسی نے بھیک یا تحفے میں نہیں دیا ، اس کے لئے قربانیاں دی گئیں، انصاف میں تاخیر بھی بے انصافی ہے ، بابا رحمتے کا کردار معاشرے کے بڑے اور منصف کا ہے ۔

تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ بار کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے چیف جسٹس ثاقب نثار نے کہا کہ پاکستان اللہ تعالی کی ایک بہت بڑی نعت ہے،پاکستان کسی نے خیرات یا تحفے میں نہیں دیا، پاکستان حاصل کرنے کیلئے بہت سی قربانیاں دی گئیں ،قربانیاں دینے والوں کو پاکستان کی قدر کا اندازہ ہے، یہ ایک آزاد ملک ہے اور آزاد ملک جیسی نعمت قسمت والوں کوملتی ہے ، آج میں ایک استاد سے مخاطب ہوں جس کی معاشرے میں قدر ہے، میں پہلے اپنے گریبان میں جھانک رہاہوں ۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے بطور پاکستانی شہری اپنا حق ادا نہیں کیا ۔ میں یقین سے کہہ سکتاہوں کہا آج یہ ملک نہ ہوتا تو میں کوئی چھوٹا موٹا وکیل ہوتا کیونکہ اس وقت جو تعلیم کامعیارتھا اس پر قبضہ کیا ہوا تھا اور مسلمان بہت کم تعلیم یافتہ تھے ۔انہوں نے کہا کہ میں سپریم کورٹ بار کا سب سے پراناممبر ہو ں جب میں بابا رحمتے کی بات کرتا ہوں تو مذاق میں لیا جاتاہے لیکن یہ نہیں پوچھا جاتا کہ بابا رحمتے کاکردار کیاہے ؟ بابا رحمتے کا کردار منصف اور بڑے کا کردار ہے ، یہ عدلیہ کا مقام ہے اور اس کی عزت و تکریم لازم ہے اور اس کے بغیر معاشرے میں تواز ن قائم نہیں رہ سکتا۔ انہوں نے کہا کہ جس معاشرے میں جھوٹ سرایت کرگیا ہو تو پھر کیا توقع کیا جا سکتی کہ اس سے ملک کے لئے کیا ڈلیور ہوگا ؟ انہوں نے کہا کہ ایک جج کوایماندار ی سے ان مقدمات کافیصلہ کرناہے جو اس کے سامنے آتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ آج جج کی تنخواہ سب سے زیادہ ہے اور ایک جج کوروزانہ 55ہزار روپے معاوضہ ملتاہے اور اب دیکھناہے کہ کیا وہ اتنے معاوضے کے مطابق کام کرتاہے ۔انہوں نے کہا کہ حضرت علی ؓ نے کہا تھا کہ کفر کا معاشرے تو قائم رہ سکتا ہے لیکن بے انصافی کا معاشرہ قائم نہیں رہ سکتااور انصاف میں تاخیر کرنا بھی بے انصافی کی ایک قسم ہے ۔ انہوں نے کہا کہ سوات میں جو ایک انقلاب آیا تھا وہ اس وجہ سے آیا تھا کہ صوفی محمد نے لوگوں سے کہا تھا کہ آﺅ ہم تم کوجلدی انصاف مہیا کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ججز کئی کئی ماہ تک شنوائی نہیں کرتے اور تاریخیں ڈال دی جاتی ہیں، ایک خاتون کو 61سال بعد گھر واپس ملا ، فیصلوں میں تاخیر عدالتی نظام کیلئے ناسور بن چکی ہے ۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم نے قانون کے مطابق انصاف کر ناہے ، وہ دور چلا گیا جب مقدمات چلتے کئی کئی پشتیں گزر جاتی تھیں، لوگوں کوجلد انصاف چاہئے ۔

انہوں نے کہا کہ قانون شہادت کا قانون آج کے تقاضوں کوپورانہیں کرتا ، ججوں کو قانون کے مطابق فیصلے کرنے ہونگے لیکن قانون کی تجدید بھی کرنی ہوگی ۔ انہوں نے کہا کہ جج جب اکیڈمی میں آتے ہیں تو میں ان سے سول قانون کے اصول پوچھتا ہوں جوان کونہیں آتے ، بڑے بڑے وکیل آج بھی موجود ہیں ان کوچاہئے کہ کوئی قانون کی کتاب ہی لکھ دیں۔ہم کو کھل کر اپنے گریبان میں جھانکنا پڑے گا پھر ہم اپنی آنیوالی نسل کو ایک مثبت معاشرہ دیکر جائیں گے ، اگر نہیں دیکر جائیں گے تو پھر وہی حال ہوگا جس کے بارے میں حضرت علیؓ نے کہا تھا ۔ انہوں نے کہا کہ دنیا کیوں اہم ہے ؟ کیا اس کا مطلب یہی ہے کہ ایک کیڑا پیدا ہو گیااور اس نے پیدا ہوکر چلا جانا ہے ۔انسان کے دو حقوق ہےں پہلا اس کا حق شخصیت کا حق ہے اور دوسرا حق جائیداد کاحق ہے ، یہ بنیادی حقوق ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایک ڈاکٹر میرے پا س آکر روتاہے کہ اس کے بیٹے کو جوڈاکٹر ہے اٹھا کرغائب کردیا گیا ہے جس پر میں نے کئی اجلاس بلائے ہیں لیکن کہا جاتاہے کہ یہ ہمارے پاس نہیں ہے ۔ ان کا کہنا تھا کہ ایک بیرون ملک پاکستانی کے مکان پر اس کا کرایہ دار قبضہ کرلیتا ہے اور وہ مقدمات کی طوالت سے کسی تیسری پارٹی سے تھوڑے سے پیسے لیکر راضی ہوجاتاہے ۔

ان کا کہنا تھا کہ سرکاری ہسپتالوں کے مریضوں کوسہولیات نہیں دی جارہیں ، کیا یہ ان کا بنیادی حقوق نہیں کہ ریاست ان کو صحت کی سہولیات فراہم کرے ، منشا بم جیسے لوگ دیگر افراد کی جائیدادیں کھا جاتے ہیں کیا یہ بنیادی حقوق کی خلاف ورزی نہیں ہے ، کیا صاف پانی کا ملنا اور بنیادی تعلیم سب کا بنیادی حق نہیں ہے ۔ تھر کے بچوں، وہ بچے جو غلط ادویات اور آپریشن کے دوران مرجاتے ہیں ہے کیا ان کے بنیادی حقوق نہیں ہیں ؟ انہوں نے کہا کہ یہاں پر سراسر بے انصافی ہورہی ہے ۔ ایک آدمی کا نقشہ فوری پاس کردیا جاتاہے اور دوسرے کے نقشے پر اعتراضات لگا لگا کر اس کی مت ماردی جاتی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ انصاف میں تاخیر عدلیہ کی نا اہلی ہوسکتی ہے ، یہ بے انصافی ہے ، انہوں نے حکمرانوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اپنے ذمہ داری پوری کرنا شروع کریں ، عدلیہ مداخلت نہیں کرے گی ، ہم تو خلا کو پر کرنے کیلئے آتے ہیں، آج شناخت اور ملکیت جیسے بنیادی حقوق بھی محفوظ نہیں ہے ۔ ہم نے جو بھی کیاہے وہ انسانی ہمدردی اور بنیادی حقوق کے تحت کیاہے اورہمارے حکمرانوں کوبھی اللہ توفیق عطا فرمائے کہ وہ اپنی ذمہ داری پوری کر یں ۔ انہوں نے کہا لاپتہ افراد کیلئے میں نے ایک بنچ مختص کردیاہے اور ڈی جی آئی ایس آئی اور چاروں صوبوں کے آئی جیزکو بلاکر کہاہے کہ لاپتہ افراد کے بارے میں معلومات دیں اور اگر آپ کوپتہ نہیں تو پھر آپ حلف نامے دیں تاکہ اگر بعد میں یہ غلط ثابت ہو تو آپ کے خلاف کارروائی کی جائے ۔ ان کا کہنا تھا کہ میں قوم کومایوس نہیں کرنا چاہتا بہت جلد اچھاوقت آئے گا ۔

مزید : اہم خبریں /قومی