’مجھے اس نے جنسی ہراسگی کا نشانہ بنایا ہے‘ خاتون کی پولیس کو کال، کس کی شکایت لگائی؟ دیکھا تو ہر کوئی دنگ رہ گیا کیونکہ۔۔۔

’مجھے اس نے جنسی ہراسگی کا نشانہ بنایا ہے‘ خاتون کی پولیس کو کال، کس کی ...
’مجھے اس نے جنسی ہراسگی کا نشانہ بنایا ہے‘ خاتون کی پولیس کو کال، کس کی شکایت لگائی؟ دیکھا تو ہر کوئی دنگ رہ گیا کیونکہ۔۔۔

  

نیویارک(نیوز ڈیسک) ایک وقت تھا کہ مغربی ممالک میں سیاہ فام لوگوں کی زندگی جانوروں سے بدتر تھی۔ چند دہائیاں پہلے کی بات ہے کہ ریستورانوں میں سیاہ فام افراد اور جانوروں کا داخلہ ممنوع قرار دیا جاتا تھا۔ اب بڑی حد تک حالات بدل گئے ہیں لیکن سیاہ فام لوگوں کو حقیر جاننے کی سوچ پوری طرح ختم نہیں ہوئی۔ کبھی پولیس کی جانب سے اُن کے ماورائے عدالت قتل کے واقعات پیش آتے ہیں تو کبھی عوامی مقامات پر انہیں نسلی امتیاز کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ اور یہ سفید فام خاتون تو شاید اب بھی ایک صدی قبل کے دور میں رہ رہی ہے، جس نے ایک سیاہ فام ماں اور اس کے بچوں کے ساتھ بدسلوکی کی انتہاءکر دی۔

سوشل میڈیا پر گزشتہ روز اس خاتون کی ویڈیو سامنے آئی ہے جس میں یہ پولیس کو کال کرتی دکھائی دیتی ہے۔ شاید آپ اس بات پر یقین نا کر پائیں لیکن یہ کہہ رہی ہے کہ ایک سیاہ فام بچے نے اُس پر جنسی حملہ کیا ہے اور اب اسے فوری طور پر پولیس کی مدد کی ضرورت ہے۔ اور قریب ہی وہ ’ملزم‘ موجود ہے جس نے ’جنسی حملہ‘ کیا ہے۔

یہ نو سالہ سیاہ فام بچہ کتنا خوفزدہ ہے آپ بآسانی دیکھ سکتے ہیں۔ وہ جانتا ہے کہ ایک خاتون اس کے لئے پولیس بلا رہی ہے اور بیچارہ زار و قطار روتے ہوئے اپنی ماں کے پیچھے چھپنے کی کوشش کر رہا ہے۔ اس کی چھوٹی بہن بھی اس صورتحال سے خوفزدہ ہے اور چیخ چیخ کر رو رہی ہے۔ بیچاری ماں دونوں بچوں کو سنبھالنے کی کوشش کر رہی ہے مگر وہ اتنے خوفزدہ ہیں کہ مسلسل روئے جا رہے ہیں۔

دریں اثناءکچھ لوگ وہاں جمع ہو جاتے ہیں، اور جب معلوم ہوتا ہے کہ سفید فام خاتون ایک بچے کے خلاف پولیس بلا رہی ہے تو لوگ واقعی بہت حیران ہوتے ہیں۔ ایک دو لوگ اُسے سمجھانے کی کوشش بھی کرتے ہیں مگر وہ پولیس بلانے پر بضد ہے۔

یہ ویڈیو جیسن لٹل نامی شہری نے سوشل میڈیا پر پوسٹ کی ہے۔ جیسن کا کہنا ہے کہ ”غالباً دکان میں داخل ہوتے ہوئے بچے کا ہاتھ اس خاتون کے جسم سے چھو گیا تھا جس پر وہ مشتعل ہو گئی۔ اس نے بچے کی ماں کو بھی برا بھلا کہا اور پھر پولیس کو بھی کال کر دی کہ اس بچے نے اُسے جنسی طور پر ہراساں کیا ہے۔ یہ واقعی ایک عجیب و غریب بات تھی۔ بیچارہ بچہ بہت خوفزدہ تھا اور مسلسل رو رہا تھا۔ یقیناً اس واقعے کا خوف اور منفی اثرات اُس کے ذہن سے محو نہیں ہو سکیں گے۔“

مزید : ڈیلی بائیٹس