پاکستان میں جج بننے کیلئے کیا ضروری ہے؟ معروف آئینی ماہر عارف چوہدری نے تہلکہ خیز دعویٰ کر دیا

پاکستان میں جج بننے کیلئے کیا ضروری ہے؟ معروف آئینی ماہر عارف چوہدری نے ...
پاکستان میں جج بننے کیلئے کیا ضروری ہے؟ معروف آئینی ماہر عارف چوہدری نے تہلکہ خیز دعویٰ کر دیا

  

اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) سابق صدر اسلام آباد ہائیکورٹ بار عارف چودھری نے کہاہے کہ برطرف جج شوکت عزیز صدیقی ہرپر طنز کرتے اور ہر مقدمے کوسیاسی بنا دیا کرتے تھے ، ہمارے ملک میں ججوں کی تقرری کا معیار یہ ہے کہ ہر جج کے بیٹے یا بھتیجے نے جج بنناہے یا اس نے جس کا کوئی عزیز سپریم کورٹ میں ہو۔

دنیا نیوز کے پروگرام ”ٹونائٹ ودھ معید پیر زادہ“ میں گفتگو کرتے ہوئے عارف چودھری نے کہا کہ جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے بطور جج اسلام آباد ہائیکورٹ میں جو کچھ کیا اس سے لگتا تھا کہ ہم عدالت میں نہیں بلکہ کہاں آگئے ہیں؟ ان کے لہجے میں طنز تھا جووہ ہر ایک پر کرتے تھے اور ان کے رویے سے ایسا ظاہر ہوتا تھا جیسے ان کے سامنے جوبھی کھڑا ہے اس کوکچھ پتہ نہیں اور وہ ہر مقدمے کوسیاسی بنادیا کرتے تھے ۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے ملک میں ججز کے تقرر کا معیار یہ ہے کہ جج کے بیٹے اور جج کے بھتیجے نے جج بننا ہے یا اس نے جج بننا ہے جس کا کوئی عزیز سپریم کورٹ میں ہے ۔ انہوں نے کہا کہ جج کی تقرری کے لئے شفاعیت ضروری ہے ، اس کے لئے کمیٹی بننی چاہئے اور ججوں کی نامزدگی صدر کرے اورپھر ان ناموں کو مشتہر کردیا جائے تاکہ کسی بھی ادارے کو ان ناموں پر کوئی اعتراض ہے تو وہ کرے کیونکہ ججوں نے زندگی اور موت کے فیصلے کرنے ہوتے ہیں۔

مزید : قومی