”بھارت اقلیتوں ا ور عورتوں کیلئے خطرناک ملک بن گیا“

”بھارت اقلیتوں ا ور عورتوں کیلئے خطرناک ملک بن گیا“

لاہور(پ ر)شوبز کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والی شخصیات کا کہنا ہے کہ بھارت اقلیتوں و عورتوں کیلئے خطرناک ملک بن گیا ہے۔گزشتہ دنوں بھارتی ریاست بہار میں آر ایس ایس شدت پسند ہندوؤں نے عیسائی عورت کو برہنہ کرکے شہر میں گشت کرایا۔ واقعے کے حوالے سے شوبز شخصیات نے کہاہے کہ بھارت اقلیتوں و عورتوں کیلئے خطرناک ملک بن گیاہے۔فنکاروں نے سماجی رابطے کے ویب سائٹ ٹوئٹر پر بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا ہے۔ ریاست بہارکے شہر میں آر ایس ایس کے شدت پسندوں نے پہلے عیسائی خاتون کا گھر جلایا۔ بعد میں اسے مارا پیٹا اور برہنہ کرکے شہر میں گشت کرایا جب سے موودی نے دوبارہ اقتدار سنبھالا ہے اس وقت سے اب تک ہر روز مسلمانوں اور دیگر اقلیتوں مظالم کے پہاڑ توڑے جا رہے جس کی وجہ سے علیحدگی پسند تحریکیں زور پکڑتی جا رہی ہیں۔شاہد حمید،شان،معمر رانا،شاہدہ منی،میگھا،ماہ نور،مسعود بٹ،اچھی خان،جرار رضوی،نادیہ علی،ہانی بلوچ،مایا سونو خان،عامر راجہ،آغا قیصر عباس،سہراب افگن،حاجی عبد الرزاق،یار محمد شمسی صابری،بینا سحر،ثناء بٹ،سدرہ نور،بی جی، عباس باجوہ،ندا چوہدری،ہنی شہزادی،اسد نذیر،نادیہ جمیل،عقیل حیدر،گلفام،طاہر انجم،طاہر نوشاد،ڈاکٹر اجمل ملک،ملک طارق،ارشد چوہدری،ڈیشی راج،آفرین خان،آشا چوہدری،احسن خان،نیلم منیر،رز کمالی،وہاج خان،اسد مکھڑا،گڈوکمال،جہانزیب علی،صوبیہ خان،ثمینہ بٹ،ناصر چنیوٹی،تابندہ علی،بابرہ علی،قیصر لطیف،ذیشان جانو،سلیم بزمی، لاڈا،ظفر عباس کھچی،مومنہ بتول،عائشہ جاوید،عارف بٹ،عاصم جمیلِ،آغا حیدر اور رضی خان نے کہا کہ جہاں بھارت نہ صرف اقلیتوں بلکہ خواتین کیلئے بھی خطرناک ملک بنتاجارہاہے۔وہیں پر بہارہو یا اتر پردیش بیشتر ریاستوں میں ہندو شدت پسند مسلمانوں سمیت دیگر اقلیتوں کو واپس ہندو بننے پر مجبور کررہے ہیں۔ انکار پر ان کی املاک جلاکر ان پر تشدد کرکے انہیں مار دیا جاتا ہے۔بھارتی وزیر اعظم موودی ایک درندہ ہے اور اس کی سرپرستی میں جو کچھ ہورہا ہے وہ تاریخ کا سیاہ باب ہے۔

اقوام عالم کو بھارت میں ڈھائے جانے والے مظالم کا فوری نوٹس لے کر تششد کے واقعات کو رکوانا چاہیے۔جو بھی اس بارے میں آواز اٹھاتا ہے اس کو انتہاء پسندوں کی جانب سے دھمکیاں ملنا شروع ہوجاتی ہے۔یاد رہے کہ کچھ عرصہ قبل بالی ووڈ کے فنکاروں نے اپنے وزیر اعظم کو خط لکھا تھا لیکن اس پر کارروائی کی بجائے الٹا فنکاروں کو ہی چپ کروادیا گیا۔

مزید : کلچر


loading...