پاک افغان ٹرانزٹ ٹریڈ میں حائل رکا وٹو ں کو دورکیا جائے ، ضیاءالحق سرحدی 

        پاک افغان ٹرانزٹ ٹریڈ میں حائل رکا وٹو ں کو دورکیا جائے ، ضیاءالحق ...

پشاور(سٹی رپورٹر)فرنٹیئر کسٹمز ایجنٹس ایسوسی ایشن (FCAA)کے صدر ضیاءالحق سرحدی نے افغانستان پاکستان ٹرانزٹ ٹریڈایگریمنٹ (APTTA) کے نئے معاہد ے پربات چیت کرتے ہوئے کہا کہ بزنس کمیونٹی کے تحفظات دور کئے جائیں تاکہ دونوں ممالک کے درمیان باہمی تجارت اور ٹرانزٹ ٹریڈ کو فروغ حاصل ہو۔انہوں نے افغان حکام کو طورخم بارڈرپر سہولیات نہ ہونے اور عملہ کے فقدان پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ دونوں ممالک بزنس کمیونٹی،ایکسپورٹرز، امپورٹرز،کسٹم کلیئرنگ ایجنٹس کو سہولیات کی فراہمی کے لئے اقدامات اٹھائیں۔ ایک اخباری بیان میں ضیاءالحق سرحدی جو کہ پاک افغان جائنٹ چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (PAJCCI) اور سرحد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری(SCCI)کے سابق سینئر نائب صدربھی ہیں نے کہا کہ گذشتہ دنوں پاکستان میں تعینات افغان سفیر شکر اللہ عاطف مشعال ودیگر حکام سے افغان قونصلیٹ پشاور میں ملاقات کے دوران افغان ٹرانزٹ ٹریڈ کی راہ میں حائل رکاوٹوں، آئے روز خوڑ میدان میں خالی کنٹینرز وٹرکوں کا کھڑا رہنا، 24گھنٹے پاکستان طورخم بارڈرزکو کھلا رکھنے کے علاوہ دیگر پاک افغان باہمی تجارت کے راہ میں مشکلات کا تفصیلی ذکر کیا ۔ افغان سفیر نے اس معاہدے میں دونوں جانب کی بزنس کمیونٹی کو درپیش مسائل سے مکمل طور پر اتفاق کیا اور یقین دہانی کرائی کہ افغان حکومت کی جانب سے افغان ٹرانزٹ ٹریڈ معاہدے میں درپیش مشکلات کے حل کیلئے اقدامات اٹھانے سمیت حکومت پاکستان سے بھی اعلیٰ سطحی بات چیت کی جائے گی۔ ضیاءالحق سرحدی جو کہ فیڈریشن آف پاکستان چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (FPCCI)کے ڈپٹی کنوینئر پاکستان ریلوے اور ممبر ایڈوائزری کمیٹی ریلوے بورڈ بھی ہیں نے مزیدکہا کہ افغانستان کی بڑی درآمدی منڈی اور وسط ایشیائی ریاستوں کی تیزی سے ترقی کرتی منڈیوں سے بھرپور استفادہ کےلئے ایک جامع پالیسی کی ضرورت ہے ۔ انہوں نے کہا کہ افغان ٹرانزٹ ٹریڈ اور تجارتی معاہدوں کے مسائل سے افغانستان کو ہونیوالی ملکی برآمدات کم ہو رہی ہیں اور افغانستان پاکستان ٹرانزٹ ٹریڈ ایگریمنٹ (APTTA) 2010ءکا معاہدہ جوکہ ایک دباﺅ کے تحت ہوا تھا وہ اب بری طرح سبوتاژ ہوچکا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ 10سالوں سے تقریباً اے ٹی ٹی کا کاروبار ایران کی بندرگاہ چہابہار اور بندرعباس منتقل ہوچکا ہے جس کی وجہ سے پاک افغان باہمی تجارت کا حجم جوکہ کچھ عرصہ پہلے تقریبا2.5ارب ڈالر تھا مزید کم ہوکر1 ارب ڈالر رہ گیا ہے جبکہ دونوں ممالک کی خواہش ہے کہ یہ حجم 5ارب ڈالر تک پہنچایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ ایک مرتبہ پاکستان کے راستے افغانستان کو بھارتی برآمدات شروع ہوگئیں تو اس سے ہمیں دوبارہ تجارت کے آغاز میں سخت مسائل کا سامنا کرنا پڑے گا کیونکہ افغان حکام پاکستان اور بھارت کو دو بنیادی منڈیاں سمجھتے ہیں ۔ انہوںنے کہا کہ پاکستان افغانستان دونوں ممالک کے اعلیٰ حکام کو چاہئے کہ ملک کے بہترین اقتصادی مفادات کی روشنی میں فیصلہ کریں اور دونوں ممالک کی بیورو کریسی کی جانب سے پیدا کی جانیوالی مشکلات کو دور کرنے کے لئے بھی اقدامات اٹھائیں۔انہوں نے کہا کہ ضرورت اس امر کی ہے کہ دونوں ہمسایہ ممالک باہمی تجارت کے فروغ کے راستے میں حائل رکاوٹوں کے خاتمہ کےلئے جامع پالیسی مرتب کریںتاکہ وسط ایشیائی ممالک کے ساتھ تجارتی رابطوں میں اضافہ ہو

مزید : پشاورصفحہ آخر


loading...