گلگت میں متعد د سکول بند ہونے سے سینکڑوں طلبا مشکلات کا شکار

  گلگت میں متعد د سکول بند ہونے سے سینکڑوں طلبا مشکلات کا شکار

گلگت(نمائندہ خصوصی) گلگت کے مختلف علاقوں میں سکولوں کو چلانے والی این جی او سنٹرل ایشیا انسٹی ٹیوٹ پر پابندی کے بعد سکولوں کے ویران ہونے اور طلبہ کو درپیش مشکلات پر اہل علاقہ نے سکولوں کیلئے وسائل فراہم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔اہل علاقہ اور مختلف سماجی حلقوں نے کہا ہے کہ وہ گلگت کے علاقہ بروغل اور اپر یار خون کے ان بے یارو مدد گار سکولوں جو مارچ 2019 سے بے یارو مددگار پڑے ہیں کے رضاکار اساتذہ کو میں خراج تحسین پیش کرتے ہیں جو آج تک ان میں رضاکارانہ طور پر ڈیوٹی انجام دے رہے تھے لیکن اب مجبوراً ان سکولوں کو بند کرنے کی نوبت آگئی، ان سکولوں کو چلانے میں ایک این جی او سنٹرل ایشیا انسٹیٹیوٹ کا بڑا کردار تھا جن کو فروری 2019 میں گورنمنٹ کی طرف سے بند کیا گیا۔ تب سے یہ ٹوٹل 10 سکول اور ایک انٹر کالج بے یارو مددگار ہو گئے اور گورنمنٹ کی طرف سے ابھی تک کوئی اقدامات نہیں کئے گئے۔اس این جی او کی طرف سے بہترین بلڈنگز کے علاؤہ سٹیشنری کے سامان، فرنیچر، ٹرینڈ ٹیچرز موجود ہیں گورنمنٹ کو چاہئے کہ صرف ان اساتذہ کی مالی معاونت کرے۔یہ تمام سکول ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کے ساتھ رجسٹرڈ بھی ہیں، جن گیارہ سکولوں کا اوپر ذکر ہوا ان علاقوں میں گورنمنٹ کے صرف 3 پرائمری اورایک مڈل سکول موجود ہیں،جو اس پورے علاقے کے لئے ناکافی ہیں، میں ایم این اے، ایم پی اے اور خاص کر پی ٹی آئی کے ایم پی اے سے درخواست کرتا ہوں کہ وہ اس علاقے کی پسماندگی کو دیکھ کر ان سکولوں کے لئے اقدامات کریں۔

سکول بند

مزید : پشاورصفحہ آخر


loading...