ضم شدہ اضلاع کوترقی کے دھارے میں لایا جارہا ہے ، شہرام ترکئی 

  ضم شدہ اضلاع کوترقی کے دھارے میں لایا جارہا ہے ، شہرام ترکئی 

پشاور(سٹاف رپورٹر)خیبر پختونخوا کے وزیر بلدیات، الیکشنز و دیہی ترقی شہرام خان ترکئی نے کہا ہے کہ محکمہ بلدیات نے گزشتہ ایک سال کے دوران صوبے میں پائیدار ترقی کے لیے لئے انقلابی اقدامات اٹھائے ہیں۔ بلدیاتی حکومتوں کا نیا نظام، گڈ گورننس کے لیے اقدامات، پشاور سمیت بڑے شہروں کے لیے اپ لفٹ اینڈ بیوٹیفکیشن پروگرام، صوبائی دارالحکومت کے لیے ٹریفک منیجمنٹ سسٹم، صوبے بھر میں صفائی کے لیے صاف پختونخوا میرا خواب پختونخوا مہم کا آغاز، مختلف شعبہ جات کے لیے رولز اور قانون سازی ان اقدامات میں شامل ہے۔ محکمہ بلدیات نے ضم شدہ قبائلی اضلاع کی ترقی کے لیے بھی مربوط منصوبہ بندی اور خصوصی اقدامات اٹھائے ہیں۔ صوبائی وزیر بلدیات نے ان خیالات کا محکمہ اطلاعات میں منعقدہ محکمہ بلدیات کی ایک سالہ کارکردگی کے حوالے سے بریفنگ کے دوران کیا۔ اس موقع پر سیکریٹری بلدیات ظاہر شاہ، اسپشل سیکریٹری معتصم باللہ، ڈائریکٹر جنرل محکمہ بلدیات اور ڈائریکٹر پشاور ڈویلپمنٹ اتھارٹی عزیز خان بھی موجود تھے۔ شہرام خان ترکئی نے کہا کہ محکمہ بلدیات نے گزشتہ ایک سال کے دوران خیبر پختونخوا لوکل گورنمنٹ ترمیمی ایکٹ تیار کیا اور اسے اسمبلی سے منظور بھی کرایا، اب یہ ایکٹ صوبے میں نافذ العمل ہے جبکہ اس کے تحت سٹی و تحصیل لوکل گورنمنٹ، ویلیج و نیبرہوڈ کونسل کے لیے رولز آف بزنس تیار کیے جا رہے ہیں۔ اسی طرح ضم شدہ قبائلی اضلاع میں حلقہ بندیوں کے لئے محکمانہ امور مکمل کر لیے گئے ہیں۔ صوبائی وزیر نے کہا کہ گڈ گورننس کے لیے محکمہ میں بھرتیوں، ٹرانسفرز اور پوسٹنگ کے لیے میرٹ پر مبنی نئی پالیسی اختیار کی گئی ہے جبکہ ملازمین کی حاضری یقینی بنانے کے لئے بائیو میٹرک سسٹم کی تنصیب پر کام تیزی سے جاری ہے جو بعض اداروں میں پوری طرح فعال بھی ہے۔ اسی طرح ہمہ گیر اصلاحات اور جدید دور کے تقاضوں سے عہدہ برآءہونے کے لئے لوکل گورنمنٹ ریفارمز یونٹ قائم کیا گیا ہے۔ وزیر بلدیات نے یہ انکشاف بھی کیا کہ پاکستان سٹیزن پورٹل پر محکمہ بلدیات اور اس کے ذیلی اداروں سے متعلق 27342 شکایات موصول ہوئیں جن میں سے 25929 حل کر لی گئی ہیں جس کا تناسب 91 فیصد بنتا ہے۔ اپ لفٹ اینڈ بیوٹیفکشن پروگرام کے حوالے سے وزیر بلدیات نے کہا کہ صوبے کے 7 اضلاع میں 10ارب روپے کی لاگت سے یہ پروگرام شروع کیا جا رہا ہے۔ صوبائی دارالحکومت پشاور کی ترقی کے لیے اقدامات کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پشاور کے بڑے جنرل بس سٹینڈ کی دوسری جگہ منتقلی اور نئے جنرل بس سٹینڈ کی تعمیر کے لئے اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں جس کی تعمیر سے شہر کے تمام اڈے شہر سے باہر ایک جگہ پر منتقل کر دیئے جائیں گے۔ اسی طرح پشاور سمیت صوبے کے دیگر بڑے شہروں کے لئے لینڈیوز پلان کی تیاری کا عمل بھی شروع کر دیا گیا ہے۔ شہرام خان ترکئی نے کہا کہ پشاور میں ٹریفک مینجمنٹ سسٹم کے ساتھ ساتھ رنگ روڈ پر 2 فلائی اوورز کی تعمیر، حیات آباد میں بھاری ٹریفک کے لیے متبادل روڈ اور پارکنگ پلازوں کی تعمیر کے منصوبے زیر غور ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پشاور پھولوں اور روشنیوں کا شہر بنائیں گے اور اس کی عظمت رفتہ کو بحال کرائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ شہر میں 42 پارکس اور پلے ایریاز تعمیر کیے جائیں گے جن میں سے 14 پر کام جاری ہے۔ صرف پشاور شہر میں پی ڈی اے اب تک 4 لاکھ 40 ہزار پودے لگا چکا ہے جبکہ چمکنی سے انڈسٹریل اسٹیٹ تک ریلوے ٹریک کے اطراف لینڈ اسکیپنگ اور شجر کاری بھی شروع کر دی گئی ہے۔ صوبائی وزیر بلدیات نے کہا کہ صاف پختونخوا میرا خواب پختونخوا صفائی مہم کے پورے صوبے بشمول سیاحتی مقامات پر گندگی پھیلانے پر سیاحوں، دکانداروں، ہوٹلوں، ریستورانوں اور سرکاری دفاتر و رہائش گاہوں پر جرمانے کیے جا رہے ہیں۔ اسی مہم کے تحت تمام ٹی ایم ایز، ڈبلیو ایس ایس سیز، لوکل ایریا اتھارٹیز، وی سیز و این سیز میں صفائی کے حوالے سے اچھی کارکردگی والے اداروں اورکارکنان کو نقدانعامات دیئے جائیں گے۔ اس مقصد کے لیے 2 کروڑ روپے رکھے گئے ہیں۔ شہرام خان ترکئی نے کہا کہ محکمے نے ایک سال کے دوران لوکل ایریا یا ڈویلپمنٹ اتھارٹیز کے لئے نئے اور جامع قوانین تیار کیے، کثیرالمنزلہ عمارات کے لیے کونڈومنیم ایکٹ، سائٹ ڈویلپمنٹ رولز 2005 کا دوبارہ جائزہ اور اپڈیشن اور فیریز اینڈ بوٹس ایکٹ سوئمنگ پولز کے لیے قانون سازی کی گئی ہے۔ شہرام خان ترکئی نے کہا کہ ضم شدہ اضلاع میں 25 ٹی ایم ایز اور 702 ویلج و نیبرہوڈ کونسلز بنادی گئی ہیں جبکہ ان اداروں کے لیے 2200 پوسٹوں کی منظوری بھی دی جا چکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کچرا اکٹھا کرنے والی 50گاڑیاں اور 475 کنٹینرز بھی ضم اضلاع کی ٹی ایم ایز کو مہیا کیے جا رہے ہیںجبکہ ان اضلاع کی اپ لفٹ کے لیے 745 ملین روپے رکھے گئے ہیں

مزید : پشاورصفحہ آخر


loading...