کنٹرول لائن کے حالات اور امن کی خواہش

کنٹرول لائن کے حالات اور امن کی خواہش

چیئرمین جائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی جنرل زبیر محمود حیات نے کہا ہے کہ پاکستانی افواج ہر قسم کے خطرات سے نپٹنے کے لئے تیار ہیں، پاکستان امن سے محبت کرنے والا ملک ہے اورتمام ممالک خاص طور پر اپنے ہمسایہ ممالک کے ساتھ بقائے باہمی کے اصولوں کے مطابق تعلقات چاہتا ہے۔پی اے ایف اکیڈمی اصغر خان میں خطاب کرتے ہوئے جنرل زبیر محمود حیات کا کہنا تھا کہ پاکستان ایئر فورس کی شاندار تاریخ ہے اور اس نے جنگ اور امن کے دِنوں کے آپریشنز میں اہم کردار ادا کیاہے، قوم کو فضائیہ پر فخر ہے۔پاکستان ذمے دار جوہری ملک ہے ہم اسلحے کی دوڑ میں شامل نہیں ہونا چاہتے۔

بھارت نے کشمیر کی کنٹرول لائن پر جنگ کا محاذ کئی سال سے گرم کر رکھا ہے، اور اکثر و بیشتر بھارتی فوجی جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے فائرنگ اور گولہ باری کرتے رہتے ہیں،جس سے کنٹرول لائن پر متعین فوجی شہید ہوتے ہیں تو سویلین آبادیاں بھی اس کی زد میں آ جاتی ہیں،جو بستیاں کنٹرول لائن کے ساتھ ساتھ آباد ہیں وہاں رہنے والے لوگ مستقل طور پر خوف اور بے اطمینانی کے عالم میں زندگی گزارتے ہیں وہ اپنے کھیتوں میں تسلی کے ساتھ کام نہیں کرسکتے،اپنی فصلیں کاشت نہیں کر سکتے اور نہ انہیں بروقت برداشت کر سکتے ہیں۔ ایساکرتے ہوئے بعض اوقات وہ بھارتی گولہ باری کا نشانہ بھی بن جاتے ہیں۔ یہ سب اس لئے ہے کہ پاکستان کشمیر کی کنٹرول لائن کو پُرامن رکھنا چاہتا ہے،اِس لئے وہ2003ء کے جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی نہیں کرتا،ایسی خلاف ورزی ہمیشہ بھارت کی طرف سے ہوتی ہے۔ گزشتہ روز بھی ایک فوجی جوان بھارتی فوج کی فائرنگ سے شہید ہو گیا اور دو خواتین زخمی ہو گئیں، پاکستان فوری جوابی کارروائی کا حق محفوظ رکھتا ہے،لیکن کنٹرول لائن کے امن کی خاطر برداشت اور تحمل سے کام لے رہا ہے،لیکن جیسا کہ جنرل زبیر محمود حیات نے واضح کیا ہے کہ امن کی خواہش کو کمزوری نہ سمجھا جائے، برداشت کی بہرحال ایک حد ہوتی ہے،جو مشکل حالات میں ختم بھی ہو جاتی ہے،بھارت کو اُس وقت کا انتظار نہیں کرنا چاہئے جب ایسی نوبت آ جائے۔

کشمیر پر کنٹرول لائن کی خلا ف ورزیوں کا مقصد بظاہر یہ ہے کہ مقبوضہ کشمیر کے حالات سے دُنیا کی توجہ ہٹائی جائے جو ریاست میں دو ماہ سے بھی زیادہ طویل ترین کرفیو کے ذریعے اسے جیل خانے میں تبدیل کرنے کی وجہ سے پریشان ہیں۔دُنیا کے بہت سے ادارے اپنی حکومتوں کو بھی متوجہ کر رہے ہیں کہ وہ کشمیر کے حالات پر بھارت کی توجہ دلائے،لیکن مودی انسانیت دشمنی کی راہ پر بگٹٹ دوڑے چلے جا رہے ہیں۔کنٹرول لائن پر چھیڑ چھاڑ کا مقصد اس کے سوا کچھ نہیں کہ مقبوضہ کشمیر کے دِگرگوں حالات سے دُنیا کی توجہ ہٹائی جائے، اس چھیڑ چھاڑ کو وہ ایک محدود جنگ میں تبدیل کرنے کا بھی خواہاں ہے اور آزاد کشمیر میں کارروائیوں کی منصوبہ بندی بھی کرتا رہتا ہے۔ بھارت خطے میں اسلحہ کی دوڑ کو بھی فروغ دے رہا ہے،دُنیا بھر سے جدید اسلحہ خرید کر اپنے اسلحہ خانے بھر رہا ہے، فرانس سے36 رافیل جنگی طیارے خریدنے کا سودا کیا گیا ہے،جس کا پہلا طیارہ بھارت کو مل چکا ہے جسے بڑے شگنوں کے ساتھ دہلی لایا گیا ہے،بھارت کے اس جنگی جنون سے خطے میں اسلحے کی دوڑ شروع ہونے کا امکان ہے،کیونکہ بھارت کے ان اقدامات سے خطے کے لوگ بھی خود کو غیر محفوظ تصور کریں گے اور وہ بھی اپنے وسائل جنگ کی بھٹی میں جھونکنے پر مجبور ہوں گے،جس سے خطے میں غربت بڑھے گی اور جو اخراجات لوگوں کی زندگیوں کو بہتر کرنے کے لئے خرچ ہونے چاہئیں وہ اسلحہ کی خریداری پر خرچ ہوں گے۔

بھارت اپنی جارحیت،انسانی حقوق کی پامالی اور ہندوتوا کے نفاذ کی خاطر پوری دُنیا کو فریب دے رہا ہے اور کنٹرول لائن پر مسلسل جارحیت سے مقبوضہ کشمیر میں لاک ڈاؤن،کرفیو اور انسانی حقوق کی پامالی سے توجہ ہٹانے کی کوشش کر رہا ہے۔ کئی سال سے کنٹرول لائن پر بھارتی افواج کی طرف سے مسلسل فائر بندی کی خلاف ورزی ہو رہی ہے اور بلااشتعال حملہ کر کے شہریوں اور فوجیوں کو شہید کیا جا رہا ہے۔ حالات سے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اب بھارت کشمیر میں کسی مختصر لڑائی یا جنگ کو دعوت دینے کی کوشش کر رہا ہے اور یہ اشتعال انگیزی اِس لئے کی جا رہی ہے کہ پاکستان کے جوان مشتعل ہو کر کنٹرول لائن کے پار حملہ کر دیں اور یوں جنگ شروع ہو جائے،لیکن ادھر سے دفاع کے سوا اور کچھ نہیں کیا جا رہا ہے تاہم یہ سب صبر آزما ہے کہ روزانہ گولہ باری ہو،شہری اور فوجی متاثر ہوں اور یہاں سے جوابی طور پر ان کو نقصان پہنچانے پر اکتفا کیا جائے،تاہم یہ صبر کب تک؟ اب تو آزاد کشمیر کے شہری اس حد تک تنگ آ چکے کہ وہ چکوٹھی سے پہلے دھرنا دینے بیٹھے تھے اور کنٹرول لائن پارکرنا چاہتے تھے ان کو ادھر جانے سے روک لیا گیا کہ کوئی نیا انسانی المیہ جنم نہ لے لے۔عوام اپنی حکومت سے پوچھتے ہیں کہ یہ سب یونہی ہوتا رہے گا؟کیا کسی عالمی فورم کا دروازہ نہیں کھٹکھٹایا جا سکتا۔آخر یہ کنٹرول لائن ہے اور یو این او مبصر تعینات ہیں۔اس پر غور کرنا ہو گا کہ سلامتی کونسل میں بات کی جا سکتی ہے؟

پاکستان میں کشمیریوں کے حق میں جو مختلف قسم کے احتجاجات ہو رہے ہیں، جن میں انسانی ہاتھوں کی زنجیر بنانا بھی شامل ہے یہ سارے احتجاجی طریقے اب پرانے ہو چکے ہیں، ہمارے خیال میں اب اس طرح کا احتجاج کوئی رنگ نہیں جما سکتا اور نہ ہی اس کا کوئی نتیجہ نکل سکتا ہے۔ اب تو ایسے عملی اقدامات کی ضرورت ہے جو جے کے ایل ایف جیسی تنظیمیں تجویز کر رہی ہیں۔ وزیراعظم عمران خان کو بھی یہ احتجاج پسند نہیں آیا تھا اور وہ اسے غداری تک سے تعبیر کر چکے ہیں،لیکن جمعے کے جمعے آدھے گھنٹے کے کمزورسے احتجاج سے بھارت کا کیا بگڑ جائے گا؟ اس پر کبھی کسی نے غور نہیں کیا،بھارت تو چاہتا ہے کہ ہم اپنے گھر میں احتجاج کرتے رہیں اور وہ کشمیریوں کی زندگیوں کو اجیرن کرتا رہے،اِس لئے حکومت اگر سرکاری سطح پر احتجاج ہی کرنا چاہتی ہے تو اس میں کوئی بانکپن تو لائے،نیم مردہ احتجاج سے کیا بھارت کشمیر پر اپنا فیصلہ بدل لے گا؟

مزید : رائے /اداریہ


loading...