کراچی میں سٹریٹ کرائمز،کم نہیں ہوسکے!

کراچی میں سٹریٹ کرائمز،کم نہیں ہوسکے!

کراچی میں سٹریٹ کرائمز قابو سے باہر ہو گئے اور انسپکٹر جنرل پولیس کلیم امام نے بھی تسلیم کر لیا کہ بڑے جرائم میں تو کمی ہوئی،لیکن سٹریٹ کرائمز ابھی نہیں روک سکے۔اس سلسلے میں حیرت انگیز بات یہ ہے کہ حکمران جماعت پیپلزپارٹی کے سینئر رہنما تاج حیدر کے گھر میں تین بار چوری ہو چکی،جبکہ خود انسپکٹر جنرل کی ساس اور بھائی، بھتیجے کو بھی لوٹا گیا،تاج حیدر نے گزری تھانے میں ایف آئی آر درج کرائی اور بتایا کہ تیسری بار بھی وہ اور گھر والے باہر تھے،واپسی پر دیکھا تو تالہ ٹوٹا پایا اور چور مال لے گئے تھے اس سے قبل والی دونوں وارداتوں میں لاکھوں کا نقصان ہوا،پولیس چور اب تک نہیں پکڑ سکی۔انسپکٹر جنرل پولیس کلیم امام ایک این جی او کی طرف سے منعقد کرائے گئے کمیونٹی پولیسنگ کے موضوع پر سیمینار میں بول پڑے۔انہوں نے بتایا کہ کراچی میں پولیس نے بڑے جرائم پر بڑی حد تک قابو پا لیا،لیکن سٹریٹ کرائمز پر کنٹرول نہیں ہوا،اس پر توجہ دی جا رہی ہے۔ انہوں نے خود ہی انکشاف کیا کہ ان کے بھائی اور بھتیجے لٹ چکے اور ساس سے زیورات اتروا لئے گئے۔انہوں نے حاضرین سے کہا اس صورتِ حال میں آپ میری خانگی زندگی کا اندازہ لگا سکتے ہیں،انہوں نے تسلی دی کہ ان جرائم کی روک تھام کے لئے بھی کام ہو رہا ہے اور عوام کے تعاون سے قابو بھی پائیں گے،انہوں نے عوام سے تعاون کی اپیل کی۔یہ دونوں وارداتیں اور انسپکٹر جنرل پولیس کا اپنا اعتراف حالات میں سنگینی کی درست نشاندہی کرتا ہے مانا کراچی میں بڑے جرائم پر قابو پایا گیا اور ان میں کمی آئی ہے تاہم سٹریٹ کرائم بڑھ گئے،اس لحاظ سے نہ صرف پولیس کے سربراہ، بلکہ حکومتی سربراہ کو بھی غور کرنا ہو گا اور مکمل طور پر تعاون کے ساتھ سٹریٹ کریمنلز کو گرفتار کر کے ان جرائم پر بھی قابو پانا ہو گا۔

مزید : رائے /اداریہ


loading...