کانگ، مقبوضہ کشمیر،مماثلت کیا ہے؟

کانگ، مقبوضہ کشمیر،مماثلت کیا ہے؟
 کانگ، مقبوضہ کشمیر،مماثلت کیا ہے؟

  


ہانگ

وزیراعظم عمران خان نے حیرت کا اظہار کیا اور دُکھ سے یہ کہا ہے کہ عالمی میڈیا والے ہانگ کانگ کے مظاہروں کو توشہ سرخیاں بنا رہے ہیں، لیکن کشمیر کے ان مظلومین پر توجہ نہیں دے رہے جو آٹھ لاکھ سے زیادہ بھارتی فوج کے گھیرے میں ہیں، حریت والے،بچے اور بوڑھے گرفتار ہیں اور مقبوضہ کشمیر کے یہ شہری حق ِ خود ارادیت کے لئے ایک لاکھ سے زیادہ جانوں کی قربانی بھی دے چکے ہیں،وزیراعظم کا کہنا ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں 68روز سے لاک ڈاؤن ہے،پوری وادی جیل خانہ بنا دی گئی،بچوں کے لئے دودھ، لوگوں کے لئے خوراک اور ادویات کی شدید قلت ہے، جبکہ ذرائع مواصلات منقطع ہیں۔ یہاں انسانی حقوق کی شدید ترین خلاف ورزیاں ہو رہی ہیں۔وزیراعظم کی یہ حیرت بجا ہے اور بلاشبہ ایسا ہی ہو رہا ہے اور انہوں نے نشاندہی بھی صحیح کی ہے، ہانگ کانگ میں مظاہرے جاری ہیں،ان میں تشدد کا عنصر بھی شامل ہے، یہ مظاہرین شہری آزادیوں کے لئے مطالبہ کرتے اور ہانگ کانگ کی پہلے جیسی خصوصی حیثیت ہی پر اصرار کرتے ہیں،ہانگ کانگ اب چین کا حصہ ہے جو برطانیہ کے تسلط سے پُرامن طور پر چین کے زیر حکومت آیا،تاہم دونوں میں یہ بھی طے تھا کہ ہانگ کانگ کو فوری طور پر چین کا باقاعدہ حصہ نہیں بنایا جائے گا اور اس کی جمہوری حیثیت بحال رہے گی،اب مظاہرین کے قائدین کا دعویٰ ہے کہ چینی حکومت ہانگ کانگ ضم کر کے وہاں بھی یک جماعتی نظام رائج کرنے والی ہے،

جو چین میں ہے،اس کے خلاف مظاہرے شروع ہوئے تو جلد ہی ان پر روایتی رنگ غالب ہو گیا، ٹائر جلانے سے پتھراؤ اور پھر جلاؤ گھیراؤ تک نوبت آئی،پولیس کی طرف سے آنسو گیس، ربڑ کی گولیاں اور لاٹھی چارج کا سہارا لیا گیا، ان مظاہروں پر تاحال قابو نہیں پایا جا سکا، چینی حکومت کی طرف سے اس سارے مسئلے پر خاموش حکمت عملی کا مظاہرہ کیا جا رہا ہے، حتیٰ کہ زیادہ شدت اور ریلوے سٹیشن تک کے جلاؤ اور گھیراؤ کے بعد بھی پولیس ہی کو حالات سے نبرد آزما ہونے کے لئے کہا جا رہا ہے اور فوج نہیں بلائی گئی۔ یوں ہانگ کانگ کو مغرب والوں نے چین دشمنی میں شہری آزادیوں اور جمہوریت کا مسئلہ بنا لیا اور اس کی وسیع کوریج کی جا رہی ہے،چینی حکومت اور ہانگ کانگ انتظامیہ کی طرف سے میڈیا پر کوئی پابندی نہیں لگائی گئی۔یوں یہ سب ہو رہا ہے۔اگر ذرا غور کیا جائے اور مغربی ذرائع ابلاغ کو پڑھا، سنا اور دیکھا جائے تو اندازہ ہو گا کہ ہانگ کانگ چین کے ہاتھوں سے نکلا جا رہا ہے۔چین کی خاموشی شاید حالات کا جائزہ اور صبر ہے کہ حالات کیا کروٹ لیتے ہیں،کیونکہ یہاں ٹرمپیاں بھی ہو سکتی اور مغرب والوں کے خفیہ ذرائع بھی استعمال ہو رہے ہوں گے یوں چین حالات کو مزید خراب کرنے سے گریز کر رہا ہے۔

وزیراعظم کے شکوے کی روشنی میں دیکھا جائے تو مقبوضہ کشمیر میں اس سے کہیں زیادہ کچھ ہو رہا ہے۔یہ درست کہ مودی حکومت نے خود اپنے آئین کی دھجیاں اڑائیں اور اس آئین کے آرٹیکل 35-A+370 کو حذف کر کے مقبوضہ کشمیر کو ضم کر لیا اور تین ٹکڑوں میں تقسیم کر کے اب اس قبضہ کو مستحکم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے، اس کے لئے مودی حکومت نے پہلے سے انتظام کیا۔مقبوضہ کشمیر میں موجود 8لاکھ فوج کے ہوتے ہوئے مزید فوجی دستے بھیجے اور ان کی تعداد قریباً نو لاکھ کر دی، پولیس اور دوسرے شعبے والے الگ ہیں۔5اگست کے اقدام کے بعد مقبوضہ کشمیر کو عملی طور پر حراستی کیمپوں میں تبدیل کر دیا، گلی گلی،محلے محلے فوجی تعینات کر دیئے، ساری شہری آزادیاں ختم کر دیں، ذرائع مواصلات ختم اور مسلسل کرفیو چلا آ رہا ہے،

گرفتاریوں کی بھی کوئی حد نہیں کشمیریوں کو گرفتار کر کے بھارتی جیلوں میں بھیجا جا رہا ہے اور اب تو حریت اور لبریشن فرنٹ کے رہنماؤں پر غداری کے مقدمات بنا دیئے گئے ہیں۔ہانگ کانگ، چین، مقبوضہ کشمیر اور بھارت کے درمیان مماثلت تلاش نہ کی جائے کہ یہ واضح فرق ہے،ایک طرف ظلم، جبر اور شدید تشدد اور دوسری طرف مظاہرین کا سامنا ہے اور حکومت ِ چین خاموش ہے، اس سلسلے میں عالمی میڈیا نے توجہ ہانگ کانگ پر مرکوز کر دی، جہاں تک مقبوضہ کشمیر کا تعلق ہے تو اسے عرصہ سے نظر انداز کیا جا رہا ہے اور دُنیا بھارتی پروپیگنڈہ سے متاثر نظر آتی ہے، بلاشبہ یہ جانبداری اور اغماض ہے جو مفادات کے حوالے سے ہے، اگر یہ سوچ آئی ہے تو بالکل درست ہے۔

اب ذرا اس سوچ اور حالات کی روشنی میں اگر دیانت داری اور پیار سے جائزہ لیں تو یہاں پاکستان حکومت اور وزارتِ خارجہ کی غلط حکمت ِ عملی دکھائی دیتی ہے، وزیراعظم کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے دوران تقریر اور مصروفیت کا نتیجہ صرف یہ ہے کہ چین کے علاوہ ترکی اور ملائشیا نے ہمارا کھل کر ساتھ دیا، باقی دُنیا تماشائی ہے، حتیٰ کہ ہمارے اسلامی بھائی بھی اپنے مفادات کی پناہ میں ہیں۔ متحدہ عرب امارات میں مندر بن سکتا اور افتتاح میں مسلمان حکمران شرکت کر سکتے ہیں، متحدہ عرب امارات کا وزیر خارجہ بھارت کو اسلامی کانفرنس کے اجلاس میں بلاتا اور پھر یہ خواہش اور یقین ظاہرکرتا ہے کہ ایک دن بھارت او آئی سی کا رکن ہو گا۔ سعودی عرب کی صورتِ حال ہمدرد کی ہے،لیکن تیل، ڈالر اور طیارہ تو دیا جاتا ہے(پھر واپس بھی بلا لیا جاتا ہے)،لیکن کشمیر کے حوالے سے واضح موقف نہیں لیا جاتا، بھارت پر دباؤ بھی نہیں ڈالا جاتا، ذکر تو اس سے بھی زیادہ کیا جا سکتا ہے، تاہم بات یہیں رکھتے اور وزارتِ خارجہ سے دریافت کرتے ہیں کہ اس کی طرف سے اب تک دُنیا کوہم نوا بنانے کے لئے کیا کِیا گیا ہے؟ جواب صفر ہے۔

ہم نے ان سطور میں گزارش کی تھی کہ تقریروں سے نہیں عمل سے کچھ بن سکتا ہے، اِس لئے وزیراعظم اور وزیر خارجہ کو خود باہر جانا چاہئے اور ساتھ ہی ساتھ ماہرین پر مشتمل پارلیمانی وفود بھیجنا چاہئیں اور یوں دُنیا کی ہمنوائی حاصل کرنے کی جدوجہد کرنا چاہئے،آپ اپنے ملک کے اندر جو چاہے کر لیں، بیرونی ممالک میں مظلوم کشمیری اور سکھوں کے ساتھ مل کر جلوس نکال لیں، کچھ نہیں ہو گا،چار دیواری سے باہر نکلیں۔قارئین!آج اپنے حالات کا اس حد تک ذکر کہ جمعہ ہے یکجہتی کا یوم منایا جا رہا ہے۔دوسری طرف سابق وزیراعظم محمد نواز شریف کے خلاف ایک اور ریفرنس بنا کر نیا مقدمہ بنا دیا گیا۔مولانا کا آزادی مارچ ہونے جا رہا ہے۔ایسے میں ملک کے اندر حالات درست کرنے کی ذمہ داری کا تعین بھی کر لیں،(اس پر کل)۔

مزید : رائے /کالم


loading...