وزیراعظم پاکستان کا دورۂ چین

وزیراعظم پاکستان کا دورۂ چین
وزیراعظم پاکستان کا دورۂ چین

  


وزیراعظم عمران خان کاحالیہ دورۂ چین انتہائی اہمیت کا حامل ہے، ایسے وقت میں جب پاکستان، سفارتی طور پر تنہائی کا شکار ہے، چین، ترکی اور ملائیشیا کے علاوہ کوئی ملک ہمارے ساتھ نظر نہیں آتا علاقائی سیاست میں پاکستان انتہائی اہم کھلاڑی ہونے کے باوجود مسئلہ کشمیر پر مودی سرکار کے ہاتھوں زچ ہو چکا ہے۔ صورت حال بڑی عجیب و غریب ہے۔ مسئلہ افغانستان میں پاکستان صرف ایک فریق ہی نہیں، بلکہ اس مسئلے کے حل میں ایک فیصلہ کن فریق کی حیثیت رکھتا ہے۔ 9/11 کے بعد امریکہ اپنے ساتھیوں کے ساتھ افغانستان کوپتھر کے زمانے تک پہنچانے کے لئے اس پر چڑھ دوڑا تھا۔ جغرافیائی طور پر پاکستان کی زمین اور فضا امریکیوں کے لئے زیادہ سود مند تھی، پاکستان نے اس جنگ میں امریکی حلیف ہی نہیں، بلکہ فرنٹ لائن سٹیٹ بننا قبول کیا۔

آج 18 سال گزرنے کے بعد پاکستان اس جنگ میں 100 ارب ڈالر کا نقد اور 70 ہزار افراد کا جانی نقصان اٹھا چکا ہے، لیکن امریکہ آج بھی ہندوستان کا سٹریٹیجک پارٹنر ہے، اسے سول نیوکلئیر ٹیکنالوجی دی جا رہی ہے۔ اربوں ڈالر کا اسلحہ فروخت کیا جا رہا ہے، اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کے معاہدے بھی کئے جا رہے ہیں، جبکہ پاکستان کو اس کی وہ رقوم بھی نہیں دی جا رہیں جو کولیشن سپورٹ فنڈز کے کھاتے میں دی جانی ہیں۔ انڈیا کے ساتھ امریکہ کے دوستانہ تعلقات اپنی انتہاؤں کو چھو رہے ہیں۔ حال ہی میں امریکی صدر نے بھارتی وزیراعظم کے اعزاز میں دئیے گئے ایک عوامی عشائیے میں شریک ہو کر ”امریکہ، ہند“ دوستی پر مہر تصدیق ثبت کر دی ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ، مودی کے ہاتھوں میں ہاتھ ڈالے اس طرح پنڈال میں داخل ہوئے جیسے دولہا،دلہن کسی تقریب خاص میں ہوتے ہیں۔ ہند امریکہ تعلقات رومانوی انداز میں چل رہے ہیں۔

وزیراعظم پاکستان کے دورۂ امریکہ کے دوران امریکی صدر نے ہمیں مسئلہ کشمیر پر ثالثی کا لالی پاپ دیا، ہمیں اندھیرے میں رکھا۔ ابھی ہمارے وزیراعظم کے دورۂ امریکہ کے بیانات کی سیاہی بھی مدہم نہیں ہوئی تھی کہ 5 اگست 2019ء کی مودی سرکار نے اپنے آئین میں تبدیلی کر کے جموں و کشمیر پر قبضہ کر لیا اور فوجی دستے بھیج کر وہاں مکمل طور پر کرفیو نافذ کر دیا۔ ہر طرح کی کمیونیکیشن بھی ختم کر دی۔یہ لاک ڈاؤن ہنوز جاری ہے اوروہاں انسانی المیہ جنم لے چکا ہے۔ دوسری طرف امریکہ افغانستان میں 1.3 ٹریلین ڈالر خرچ کرنے کے باوجود طالبان کا خاتمہ نہیں کر سکا، اس لئے حتمی طور پر وہ یہاں سے نکلنا چاہتا ہے، طالبان تو میدان جنگ کے کھلاڑی ہیں، لیکن پاکستان نے انہیں امریکیوں کے ساتھ مذاکرات کی میز پر بٹھا کر ”کارنامہ عظیم“ سر انجام دیا ہے۔ ایسی تمام کاوشوں کے باوجود پاکستان امریکہ کی نظر میں محض ایک دوست ہے۔ ”ضرورت کے وقت کا دوست“ ……جب امریکہ کو ہماری ضرورت پڑتی ہے۔ وہ ہمیں بلاتا ہے، پچکارتا ہے، ہماری جھوٹی سچی تعریفیں کرتا ہے، لیکن جونہی اس کا مطلب پورا ہوتا ہے ہمیں چھوڑ چھاڑ کر یہ جا وہ جا۔ ہندوستان کے ساتھ اس کی دوستی تزویراتی ہے، نظریاتی بھی ہے، بحر ہند میں چین کے بڑھتے ہوئے اثرات، ون بیلٹ ون روڈ منصوبہ اور عالمی تجارتی منڈی میں بڑھتی ہوئی چینی طاقت نے امریکہ کو پریشان کر دیا ہے۔ ون بیلٹ ون روڈ کے ذریعے چین کی رسائی تین براعظموں تک ہو گئی ہے۔ چائنا، پاکستان اکنامک کا ریڈور اس منصوبے میں مرکزی حیثیت رکھتا ہے۔ امریکہ اس مرکزیت کے خاتمے کے لئے بھی ہندوستان کو بڑھاوا دے رہا ہے۔ جموں و کشمیر پر بھارتی قبضے پر امریکی خاموشی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔

پاکستان اس وقت تاریخ کے دوراہے پر کھڑا ہے۔ اندرون ملک معاشی حالات انتہائی دگرگوں ہیں۔آئی ایم ایف ہمارے سرپر سوار ہے۔ اس کے احکامات پر عمل درآمد کے باعث ہماری بگڑی ہوئی قومی معیشت میں مزید بگاڑ پیدا ہونے لگا ہے۔ وصولیوں کے اہداف پورے کرنے کے لئے ٹیکسوں کا بے تحاشا بوجھ، ہماری عوامی معیشت کے لئے بھی جان لیوا ہونے لگا ہے۔ فنانشل ایکشن ٹاسک فورس نے ہمیں گرے لسٹ میں رکھا ہوا ہے۔ دشمن قوتیں ہمیں بلیک لسٹ کرانے کے لئے کوشاں ہیں۔ ہماری قومی سیاست بھی نا اتفاقی اور لڑائی جھگڑوں سے بھرپور ہے۔ نااتفاقی اور انتشار کی قوتیں دندناتی پھر رہی ہیں، ایسے میں حکومت کی ناکام پالیسیوں نے معاملات میں اور بھی زیادہ بگاڑ پیدا کر رکھا ہے۔ ایسے پس منظر میں وزیراعظم عمران خان کا دورۂ چین انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ اس دورے میں سی پیک اور مسئلہ کشمیر دو انتہائی اہم موضوعات زیر بحث رہے ہیں۔ مسئلہ کشمیر میں بھی چین براہ راست شامل ہے۔ لداخ پر چین کا دعویٰ ہے، جبکہ بھارت سرکار نے اس دعوے کو ویسے ہی رد کر کے لداخ کو اپنی یونین میں ضم کر لیا ہے، جیسے وادی جموں وکشمیر پر قبضہ کیا ہے۔ چین عدم جنگ کی پالیسی پر گامزن ہے۔

چین ریسرچ اینڈ ڈویلپمنٹ اور جدیدترین پراڈکٹس کی عالمی مارکیٹ میں بھی آگے ہی بڑھتا چلا جا رہا ہے۔ چین کی خام قومی پیداوار کا حجم بھی بڑھتا چلا جا رہا ہے۔ چین کے زرمبادلہ کے ذخائر حیران کن حد تک بڑھ رہے ہیں۔ چین ایسے ذخائر کو اپنا معاشی و سفارتی قد کاٹھ بڑھانے کے لئے بڑی ذہانت کے ساتھ استعمال کر رہا ہے۔ ون بیلٹ ون روڈ منصوبہ بھی اسی سوچ کا عکاس ہے۔ اس منصوبے کے ذریعے چین تین براعظموں تک جا پہنچا ہے۔اس کی اربوں ڈالر کی مصنوعات براعظم ایشیا، یورپ اور افریقہ کے ممالک تک پہنچنا شروع ہو گئی ہیں۔ امریکہ چین کو عالمی تجارت پر چھا جانے سے روکنے کے منصوبے پر عمل پیرا ہے۔ ہندوستان امریکہ کا سٹریٹیجک پارٹنر ہے، مسلم دشمنی میں بھی وہ امریکی انتظامیہ کا حلیف ہے۔ اس پس منظر میں عمران خان کا دورۂ چین انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ اس دورے کے دوران چینی اعلیٰ قیادت کے ساتھ وزیراعظم اور آرمی چیف کی ملاقاتوں سے پاکستان کے سفارتی اور سیاسی موقف کو تقویت ملی ہے اور پاکستان کے معاشی حالات کو بہتر کرنے کی سبیل بھی ممکن نظر آنے لگی ہے۔ معاشی، سیاسی اور سفارتی تنہائی کے دور میں چینی دوستی انتہائی اہم ہے، چین ہمارا ”ہر موسم کا دوست“ ہے۔ سی پیک ہمارے لئے گیم چینجر ہے۔ مسئلہ کشمیر ہمارے لئے زندگی موت کا مسئلہ ہے۔ ان دونوں مسائل میں چین بذاتِ خود بھی عملی طورپر شریک بھی ہے۔ ہمارے اور چین کے مفادات بھی مشترک ہیں۔ اس لئے حالیہ دورۂ چین انتہائی اہم ہے اور ہماری معاشی و سفارتی طاقت اور قوت کا مظہر ثابت ہو سکتا ہے۔

مزید : رائے /کالم


loading...