نوازشریف، شہبازشریف: اپنے اپنے محاذ پر!

نوازشریف، شہبازشریف: اپنے اپنے محاذ پر!
نوازشریف، شہبازشریف: اپنے اپنے محاذ پر!

  


طویل عرصے بعد میاں محمد نوازشریف کو جیل سے باہر آنے کا موقع ملا تو انہوں نے اس سے بھرپور فائدہ اٹھایا اور ان حالات میں، جب مسلم لیگ (ن) کے کارکن براہ راست جاننا چاہتے تھے کہ نوازشریف کا مولانا فضل الرحمن کے دھرنے اور لانگ مارچ کے حوالے سے حکم کیا ہے۔ انہوں نے صاف صاف بتا دیا کہ آزادی مارچ اور دھرنے میں مسلم لیگ(ن) بھرپور شرکت کرے گی۔ ساتھ ہی انہوں نے یہ بھی کہا کہ مولانا فضل الرحمن نے الیکشن کے بعد اسمبلیوں سے استعفا دینے کی جو تجویز دی تھی، اسے رد کرکے ہم نے غلطی کی، اب کوئی اور غلطی نہیں کر سکتے۔ نوازشریف نے تو ساری پیش گوئیوں پر ہی پانی پھیر دیا۔ وہ تو واضح طور پر لڑنے کے موڈ میں ہیں اور ہتھیار ڈالنے کو تیارنہیں۔

انہوں نے یہ بھی بتا دیا کہ شہبازشریف کو بھی ایک خط لکھ کر ساری صورتِ حال سمجھائی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ انہوں نے شہبازشریف کے موقف کو رد کر دیا ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ مسلم لیگ (ن) بحیثیت جماعت کیسے آگے بڑھتی ہے، کہیں دھڑے بندی کا شکار تو نہیں ہو جاتی، کہیں میاں نوازشریف کی ضد اس کے حصے بخرے تو نہیں کر دیتی؟ یاد رہے کہ نوازشریف اس وقت پارٹی کے عہدیدار نہیں، جبکہ صدر شہبازشریف ہیں، نوازشریف آج باہر آئے ہیں، اب نجانے کب آئیں۔ کیا ان کی ہدایات پر چین آف کمانڈ کے بغیر عمل ہو سکے گا۔ کیا یہ ممکن ہے کہ شہبازشریف پیچھے ہٹ جائیں اور کسی اور کو آگے کر دیں۔ صورتِ حال خاصی پیچیدہ بھی ہے اور دلچسپ بھی۔ سیاست کا اونٹ کس کروٹ بیٹھتا ہے، اس کا اندازہ 27اکتوبر سے پہلے ہو جائے گا۔

اس وقت دو بڑی سیاسی جماعتوں کے سربراہ حراست میں ہیں۔ نوازشریف اور آصف علی زرداری بظاہر ایک ہی طرح کے حالات سے گزر رہے ہیں۔ دونوں منظر سے غائب ہیں اور اپنی جماعتوں کی قیادت نہیں کر رہے، تاہم آصف علی زرداری اس حوالے سے نوازشریف پر فوقیت رکھتے ہیں کہ ان کی جماعت پیپلزپارٹی میں کوئی انتشار نہیں اور بلاول بھٹو زرداری نے اسے پوری طرح سنبھال لیا ہے۔ اس کی چین آف کمانڈ واضح طور پر بلاول بھٹو زرداری کی شکل میں موجود ہے، بلکہ اس کا فائدہ یہ ہوا ہے کہ بلاول بھٹو زرداری کو سیکھنے اور سنبھلنے کا موقع مل گیا ہے۔ وہ کھل کر کھیل رہے ہیں۔ کچھ بے احتیاطیوں کے باوجود مجموعی طور پر انہوں نے اپنے تشخص کو منوایا ہے۔ دوسری طرف مسلم لیگ(ن) ہے، جو نوازشریف کے جیل جاتے ہی چین آف کمانڈ سے محروم ہو گئی۔ مریم نواز جب ضمانت کے بعد باہر آئیں تو انہوں نے شہبازشریف کے زیر نگرانی مہم چلانے کی بجائے اپنی علیحدہ مہم چلائی، اس میں بیانیہ بھی وہ رکھا جو شہبازشریف کو پسند نہیں،

حتیٰ کہ وہ نوازشریف کی زبان سے بھی وہ بیانیہ سن کر تائید نہیں کرتے تھے۔ یوں واضح طور پر مسلم لیگ(ن) کے دو متضاد بیانیے اور دھڑے وجود میں آ گئے، تاہم سیاسی مصلحتوں کی وجہ سے اس حقیقت کو تسلیم نہیں کیا گیا۔ مولانا فضل الرحمن کا آزادی مارچ نہ آتا تو شاید اب بھی یہ معاملہ پردے ہی میں رہتا، مگر اب چونکہ فیصلہ کرنا مقصود ہے، اس لئے بالآخر یہ بات کھل گئی کہ شہبازشریف دھرنے اور آزادی مارچ کے مخالف ہیں، جبکہ نوازشریف مکمل حامی ہیں۔ پہلے یہ بات کیپٹن (ر) صفدر کے ذریعے باہر آتی رہی، مگر اب خود نوازشریف نے اپنی زبان سے کہہ دیا ہے کہ فضل الرحمن کا بھرپور ساتھ دیا جائے گا۔ یہ کہہ کر نوازشریف تو ایک مرتبہ پھر پس پردہ چلے گئے ہیں، اب دیکھنا یہ ہے کہ ان کے اس اعلان کو عملی جامہ کون پہناتا ہے؟

معاملہ اتنا آسان نہیں کہ شہبازشریف پیچھے ہٹ جائیں اور کسی اور پارٹی رہنما کو اس آزادی مارچ میں مسلم لیگ(ن) کی سربراہی سونپ دی جائے۔ کیا پارٹی کے کارکن اور رہنما اس کی بات مانیں گے، کیا شہبازشریف کو پارٹی سے باہر رکھ کر اسے متحرک کیا جا سکتا ہے، کیا نوازشریف کی یہ خواہش پوری ہو گی کہ وہ حکومت کے خلاف ایک بڑے احتجاج کی جس خواہش میں مبتلا ہیں؟ وہ پوری ہو سکے؟بظاہر یہ کٹھن مرحلہ اتنا آسان نظر نہیں آتا۔ اب تو یہ باتیں بھی سامنے آ گئی ہیں کہ شہبازشریف ہمیشہ ہی اپنے بڑے بھائی نوازشریف کو اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ محاذ آرائی سے روکتے رہے ہیں۔ اب یہ بات سمجھ میں آ رہی ہے کہ شہبازشریف چودھری نثار علی خان کے ہمراہ راتوں کو راولپنڈی کیوں جاتے تھے۔

ان کا کام 1122جیسا تھا جو ہمیشہ آگ بجھانے آتی ہے۔ اس کا مطلب یہ بھی ہے کہ نوازشریف کو بچانے میں کئی بار شہبازشریف نے اہم کردار ادا کیا۔ اب ایک ایسے مرحلے پر جب حالات حکومت گرانے کے لئے مناسب نظر نہیں آ رہے اور بیانیہ بھی فوج مخالف بن رہا ہے کہ وہ سلیکٹڈ وزیراعظم کو ہٹائے، شہبازشریف اپنا کندھا کیسے پیش کر سکتے ہیں؟ پھر شہبازشریف یہ بھی جانتے ہیں کہ دھرنے یا کسی آزادی مارچ کے ذریعے بالفرض حکومت گر بھی گئی تو مسلم لیگ (ن) کو کیا ملے گا۔ کریڈٹ تو سارا مولانا فضل الرحمن لے جائیں گے،پھر نئے انتخابات کے نتیجے میں ہمدردی کا ووٹ تو عمران خان کو ملے گا۔ مسلم لیگ (ن) کی تو اسٹیبلشمنٹ بھی مخالفت کرے گی۔ ایسے میں یہ الزام سر لینے کی کیا ضرورت ہے کہ ایک منتخب حکومت کو صرف سوا سال بعد گھر بھیج دیا؟

مگر یہ باتیں نوازشریف کے لئے کوئی معنی نہیں رکھتیں، وہ کشتیاں جلا چکے ہیں۔ وہ ایک تیر سے کئی شکار کرنا چاہتے ہیں۔ ایک طرف وہ عمران خان کو بتانا چاہتے ہیں کہ نوازشریف سے بگاڑ کر حکومت کرنا آسان نہیں، دوسرا وہ اسٹیبلشمنٹ کو یہ پیغام دینا چاہتے ہیں کہ نوازشریف کو سیاست سے باہر رکھ کر کوئی نظام نہیں چلایا جا سکتا۔ تیسرا وہ اپنے اس پرانے بیانیہ کی تکمیل چاہتے ہیں، جس کے تحت حکومت کرنا منتخب لوگوں کا کام ہے، غیر نمائندہ لوگوں کا نہیں۔ شہبازشریف بہت زیرک انسان ہیں، وہ بخوبی سمجھتے ہیں کہ نوازشریف کے اس بیانیہ کے ساتھ مسلم لیگ (ن) اگلے پچاس سال تک بھی دوبارہ اقتدار میں نہیں آ سکتی۔ٹکراؤ کی صورتِ حال ہمیشہ نقصان دہ ثابت ہوتی ہے۔ اس کا نتیجہ شریف فیملی ایک سے زائد بار بھگت چکی ہے۔پرویز مشرف دور میں تو شہبازشریف اپنا علیحدہ وجود نہیں منوا سکے تھے اور انہیں خود بھی سب کچھ بھگتنا پڑا تھا، مگر اس بار وہ پھونک پھونک کر قدم رکھ رہے ہیں۔

انہوں نے واضح طور پر اپنی ایک علیحدہ راہ اپنائی ہوئی ہے۔نوازشریف جتنا مرضی انہیں قائل کرنے کی کوشش کریں، بظاہر ایسا نہیں لگتا کہ وہ اس بار نوازشریف کی محاذ آرائی والی سیاسی تھیوری مانیں گے۔البتہ یہ بات درست ہے کہ نوازشریف آج بھی پاکستانی سیاست کا بہت اہم کردار ہیں۔ ان کا منظر سے ہٹ کر جیل میں بیٹھنا ان کی سیاسی اہمیت کو کم نہیں کر سکا۔ اگر اس دوران بیماری کے بہانے رہائی کی کوششوں جیسے کمزور پہلوؤں کو نکال دیا جائے تو وہ مضبوط اعصاب کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔ اس وقت اگر مریم نواز باہر ہوتیں تو شاید نوازشریف کو شہبازشریف کے تعاون کی اتنی ضرورت نہ ہوتی، لیکن شہبازشریف جانتے ہیں کہ اس وقت مولانا فضل الرحمن سے تعاون کی کوئی بھاری قیمت بھی چکانا پڑ سکتی ہے۔

مزید : رائے /کالم


loading...