غیر ضروری توقعات؟

غیر ضروری توقعات؟
 غیر ضروری توقعات؟

  


آزادی مارچ سے غیر ضروری توقعات نہ لگائی جائیں کیونکہ محترمہ فاطمہ جناح کی فیلڈ مارشل ایوب خان کے خلاف تحریک ہو، جنرل ضیاء الحق کے خلاف ایم آرڈی کی تحریک ہو یا پھر جنرل پرویز مشرف کے خلاف عدلیہ بحالی تحریک ہو، آخر میں ہوتا وہی ہے جو مہربانوں نے سوچا ہوتا ہے۔ اب مولانا فضل الرحمٰن کے آزادی مارچ کے حوالے سے اگر مہربانوں نے الگ سوچا ہوا ہے تو اور بات ہے، وگرنہ!

کناروں سے نکل سکتی ہیں کب یہ مضطرب موجیں

انہیں ساحل سے ٹکرانا ہے اور پھر لوٹ جانا ہے

ویسے کچھ حلقے ضرور اس امکان کا اظہار کر رہے ہیں کہ اگر مولانا کے دھرنے کے دوران حکومتی اتحادیوں میں کوئی دراڑ پیدا ہو جائے تو قومی اسمبلی کے اندر سے حکومت کی تبدیلی کی راہ نکل سکتی ہے اور اپوزیشن لیڈر شہباز شریف کی قیادت میں ایک قومی حکومت کا ڈول ڈالا جا سکتا ہے، لیکن رادھا کے اس ناچ کے لئے جس نو من تیل کی ضرورت ہے وہ جب پہنچے گا تب پہنچے گا، تب تک یہی سمجھا جائے کہ آزادی مارچ کے نتیجے میں یہ تو ہو سکتا ہے کہ حکومت کی رٹ کمزور پڑجائے لیکن یہ نہیں ہو سکتا کہ حکومت گھر چلی جائے گی!

تاہم اگر واقعی مولانا کے دھرنے کے نتیجے میں ان ہاؤس تبدیلی کی ہوا چل پڑی تو اسے سری لنکا کی بی ٹیم کے ہاتھوں پاکستان کی اے ٹیم کو ٹوئنٹی 20میں وائٹ واش کے مترادف ہی قرار دیا جا سکتا ہے، کیونکہ مولانا کے پاس بھی کیش کروانے کے لئے مہنگائی، بے روزگاری اور بے یقینی جیسے ایشو ہیں، لیکن اس مفروضے پر یہی کہا جا سکتا ہے کہ ”ہزاروں خواہشیں ایسی کہ ہر خواہش پہ دم نکلے“!

اس وقت ملک کی مجموعی صورت حال یہ ہے کہ عمران حکومت عوام میں غیر مقبول تصور کی جا رہی ہے، مہنگائی، بے روزگاری، بدامنی، بے چینی، بے یقینی اور ایف بی آر کی بڑھتی ہوئی سختیاں، سڑکوں پر جابجا ہوتے ٹریفک چالان، ناقابل برداشت بجلی اور گیس کے بل، نوکریوں سے برخاستگی، گھریلو اخراجات میں اضافہ، کاروباری لوگوں کی پھنسی ہوئی ریکوریاں، شادی گھروں، دکانوں، گھروں اور اثاثوں پر آویزاں برائے فروخت کے بورڈ اور ٹی وی چینلوں پر ہونے والے عوامی سروے چیخ چیخ کر بتارہے ہیں کہ حکومت پر عوام کا اعتماد ختم ہوتا جا رہا ہے اورحکومت نام کی شے اس وقت ناپید ہے، اگر ہے تو ناکام ہے، اگر ناکام نہیں تو نااہل ضرور ہے۔

دوسری جانب اپوزیشن یکجا نہیں لگ رہی، اس کی مرکزی قیادت پابند سلاسل ہے، اس کی کوئی کامیابی ہے تو صرف یہ کہ حکومت کی طرف سے اکانومی کو ٹھیک کرنے کی جتنی کوشش ہو رہی ہے، اپوزیشن اتنی ہی کوشش اسے خراب کرنے پر لگا رہی ہے اور عوام مسائل کی شکار ہے لیکن ہم دیکھ چکے ہیں کہ 2008ء سے 2013ء کے دوران پیپلز پارٹی کی حکومت کے دوران اس کے باوجود کہ پورا ملک اندھیروں میں ڈوبا ہوا تھا، بجلی کا نام و نشان نہیں تھا، ہر طرف یو پی ایسوں اور جرنیٹروں کی بھرمار تھی مگر پھر بھی حکومت نے پانچ سال پورے کرلئے تھے۔ اس لئے اگر اب مہنگائی، بے روزگاری اور بے یقینی ہے تو حکومت ایوان میں اکثریت کے بل پر پانچ سال پورے کرسکتی ہے۔

خاص طور پر ایک ایسی ملکی صورت حال جس میں میڈیا، عدلیہ، اپوزیشن اور عوام کمزور دکھائی دے رہے ہیں، ممکن ہے کہ مولانا کے آزادی مارچ کو خاطر خواہ ٹی وی کوریج اور عدالتوں سے کوئی ریلیف ہی نہ ملے۔ یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ ابھی تک سول سوسائٹی بھی مولانا کے آزادی مارچ کے حق میں صف بستہ نہیں ہوئی ہے۔ اس صورت حال میں مولانا کا آزادی مارچ اتنی ہی تباہی مچا سکتا ہے جتنی روشندان میں داخل ہونے والے آندھی یا تیز ہوا مچا سکتی ہے۔ اس لئے عوام کو غیر ضروری توقعات سے گریز کرتے ہوئے اپنے روزگار اور انکم کی فکر کرنی چاہئے۔ باقی رہے نام اللہ کا!

مزید : رائے /کالم


loading...