موٹر بائیک ایمبولینس سروس کی دوسری سالگرہ کا انعقاد

موٹر بائیک ایمبولینس سروس کی دوسری سالگرہ کا انعقاد

لاہور (پ ر)ڈائریکٹرجنرل پنجاب ایمرجنسی سروس (ریسکیو1122) ڈاکٹر رضوان نصیر نے ڈویژنل ہیڈکوارٹر زکے ضلعی افسران، موٹر بائیک ایمبولینس سروس کے سٹاف اور ریسکیورز کو موٹر بائیک ایمبولینس سروس کا دوسال مکمل ہونے پر مبارکباد دی اور موٹر بائیک ایمبولینس سروس کے سٹاف اور آفیسر کو خراج تحسین پیش کیا۔موٹر بائیک ایمبولینس سروس نے دوسال میں اوسط 4منٹ ریسپانس ٹائم برقرار رکھتے ہوئے 387000 سے زائدایمرجنسیز پر ریسپانڈ کیا۔اس سلسلے میں ریسکیو کمانڈ اینڈ کنٹرول سنٹر لاہور میں ایک بروقار تقریب کا انعقاد کیا گیا جس کے مہمان خصوصی بانی ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر رضوان نصیر تھے۔ تقریب میں ریسکیو ہیڈکوارٹرز کے سنیئر افسران اور ڈسٹرکٹ ایمرجنسی آفیسر لاہورشاہد وحید قمر، ایمرجنسی آفیسر رضوان چوہدری، ترجمان ریسکیو پنجاب فاروق احمد اورکثیر تعداد میں ریسکیورز نے شرکت کی۔ موٹر بائیک ایمبولینس سروس کا دو سال مکمل ہونے پر ریسکیو کمانڈ اینڈ کنٹرول سنٹرمیں ڈی جی پنجاب ڈاکٹر رضوان نصیر نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ موٹربائیک ایمبولینس سروس کی بدولت تنگ گلیوں،زیادہ ٹریفک والے علاقوں میں روڈ ٹریفک حادثات اور میڈیکل ایمرجنسیز میں ریسپانس ٹائم بہتر ہوا ہے۔ موٹر بائیک ایمبولینس سروس نے اپنے مستعد ریسپانس کی وجہ سے شہر وں میں حادثات کے بڑھتے ہوئے چیلنجز میں لوگوں کو بروقت سروس فراہم کر کے حادثے کا شکار لوگوں کو احساس تحفظ فراہم کیا ہے۔ ڈی جی ریسکیو پنجاب نے مزید کہا کہ موٹر بائیک فرسٹ ریسپانڈرز کی وجہ سے ریسکیو1122کی آپریشنل استعداد کار میں واضع اضافہ ہوا ہے۔

موٹر بائیک ایمبولینس سروس 10اکتوبر 2017کو پنجاب کے ڈویژنل ہیڈ کوارٹرز میں لاہور، راولپنڈی،ساہیوال، ملتان، ڈی جی خان، بہاولپور، فیصل آباد، گوجرانوالہ اور سرگودھا میں 900موٹربائیک ایمبولینس سروس اور تربیت یافتہ ایمرجنسی میڈیکل ٹیکنیشن سے شروع کیا گیا۔ موٹر بائیک ایمبولینس سروس نے 10اکتوبر 2017سے 10اکتوبر 2019تک195106روڈ ٹریفک حادثات، 152408میڈیکل ایمرجنسیز،8150بلندی سے ہونے والے حادثات، 11648کام کے دوران پیش آنے والے حادثات، 8773الیکٹرک شاک، ڈیلیوری اور انیمل ریسکیو، 109ڈوبنے کے واقعات، 6462جرائم کی وجہ سے ہونے والے حادثات، 4533آگ کے حادثات،195عمارتیں منہدم ہونے کے حادثات اوراس کے علاوہ کئی ایمرجنسیز پر ریسکیو سروس فراہم کی۔ ڈاکٹر رضوان نصیر نے کہا کہ موٹر بائیک ایمبولینس سروس تربیت یافتہ میڈیکل سٹاف کے ساتھ ساتھ جدید آلات بشمول،بلڈ پریشر مانیٹر، لائف سیونگ میڈیسن،گلوکو میٹر، پلس آکسیمیٹر، پورٹ ایبل آکسیجن سلنڈر، سروائیکل کالر، ائیر وے اور برن کٹ، ٹرامہ کٹ، سپلنٹس اورآٹومیٹیڈ ایکسٹرنل ڈیفیبرلیٹر کے ساتھ پنجاب بھر میں روزانہ کی بنیاد پر اوسطاً700ایمرجنسیز پر ریسپانڈ کر رہی ہے۔ڈی جی ریسکیو نے کہا کہ ریسکیو1122کی پیشہ وارانہ تربیت کی بدولت موٹر بائیک سٹاف روزانہ کی بنیاد پر 35فیصد حادثات کو جائے حادثہ پر ہی منیج کر لیتا ہے جس کی بدولت ہسپتالوں پر بھی ایمرجنسی کے مریضوں کا بوجھ کم ہوا ہے۔مزید برآں ریسکیو 1122اپنے وسائل کوموثر طریقے ے برؤے کا ر لاتے ہوئے اپنے جامع ایمرجنسی منیجمنٹ سسٹم کی بدولت اورجائے حادثہ پر بروقت ریسکیو سروس کی فراہمی کی وجہ سے زندگی کی بقاء کی شرع میں اضافہ ہوا ہے جس کی وجہ سے حادثے کے شکار لوگوں کو پنجاب بھر میں احساس تحفظ حاصل ہوا ہے۔

مزید : کامرس


loading...