اسلام میں نحوست اور بد شگونی کی کوئی حقیقت نہیں،راغب نعیمی

اسلام میں نحوست اور بد شگونی کی کوئی حقیقت نہیں،راغب نعیمی

لاہور(نمائندہ خصوصی)جامعہ نعیمیہ کے ناظم اعلیٰ وممبر اسلامی نظریاتی کونسل علامہ ڈاکٹر محمدراغب حسین نعیمی نے کہاہے کہ دین اسلام میں نحوست اوربدشگونی کی کوئی حقیقت نہیں ہے۔ دین حنیف ایک مکمل ضابطہ حیات ہے جو جہالت سے مبرا اوردلائل وبراہین سے مزین ہے۔دین اسلام میں خرافات کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔اسلامی تعلیمات میں مہینہ اورکوئی دن بحیثیت مہینہ اوردن قطعاًمنحوس نہیں‘متبرک اورمنحوس توانسان کے اپنے اعمال ہوتے ہیں اور انہی پرخیر وشرکادار مدار ہے ان خیالات کااظہار انہوں نے جمعۃلمبارک کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔انہوں نے مزید کہاکہ عوام الناس ماہِ صفر کے بارے جہالت اور دین سے دوری کے سبب ایسے ایسے توہمات کا شکار ہیں جن کا دین اسلام سے دور کا بھی واسطہ نہیں یہ اسی قدیم جاہلیت وجہالت کا نتیجہ ہے۔ ہمارے معاشرے میں صفر کے مہینے میں شادی اورنکاح کی تقریب کو منحوس تصور کیاجاتاہے جس کی دین اسلام میں اصلیت نہیں اورایساہی آخری چارشنبہ(بدھ)کویہ خیال کیا جاتاہے کہ نبی کریم ؐاس تاریخ کوصحت یاب ہوئے جبکہ تاریخ یہ بتاتی ہے کہ آپ کے مرض میں شدت تھی۔دین اسلام کے روشن صفحات ایسے توہمات سے پاک ہیں۔کسی وقت،جگہ،چیز یا انسان کو منحوس جاننے کااسلام میں کوئی تصور نہیں‘ بدقسمتی سے بد شگونی ہمارے معاشرے میں بہت عام ہے۔بدشگونی مسلمانوں کی دل آزاری کا بھی سبب بنتی ہے۔سمجھدار انسان مصبیتوں اور آفتوں میں پھنس کر توبہ کی طرف مائل ہوجاتا ہے جبکہ بدشکونی کا شکار شخص توبہ کرنے کی بجائے بدشگونی میں مبتلا ہوجاتا ہے۔

مزید : میٹروپولیٹن 1


loading...