ملتان: زرعی یونیورسٹی میں سردار تنویر الیاس لائبریری کا افتتاح

    ملتان: زرعی یونیورسٹی میں سردار تنویر الیاس لائبریری کا افتتاح

ملتان (سپیشل رپورٹر) ایم این ایس زرعی یونیورسٹی میں بنائی جانے والی سردار تنویر الیاس لائبریری کا افتتاح چیئر مین پنجاب بورڈ آف انویسٹمنٹ اینڈ ٹریڈ سردار تنویر الیاس نے کر دیا۔یاد رہے کہ گزشتہ سال سردار تنویر الیاس کی جانب سے زرعی یونیورسٹی ملتان میں لائبریری بنانے کیلئے اپنی (بقیہ نمبر30صفحہ12پر)

جیب سے 20ملین روپے دیے گئے تھے جو کہ اب پایا تکمیل کو پہنچ چکی ہے۔ لائبریری کے افتتاح کے موقع پر بات کرتے ہوئے چیئر مین پنجاب بورڈ آف انویسٹمنٹ اینڈ ٹریڈ سردار تنویر الیاس نے کہاکہہماری نوجوان نسل میں ای میڈیا کے آنے سے کتابوں کا رجحان کم ہو گیا ہے۔ انہوں نے کہاکہ آج کل کے جدید سائنسی دور میں بھی کتاب کی اہمیت اپنی جگہ مسلم ہے جس سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔ جتنا آپ کتاب پڑھ کر سیکھ سکتے ہیں اتنا آپ ٹی وی یا سوشل میڈیا سے نہیں سیکھ سکتے۔ انہوں نے یہ میری خوش قسمتی ہے کہ میری بنائے گئی لائبریری سے زرعی جامعہ کے طلباؤ طالبات مستفید ہونگے اور ہمیشہ کیلئے ہوتے رہیں گیں۔ انہوں نے مزید کہاکہ پاکستان میں تعلیم کی کمی ہے جس کی وجہ سے ہم دنیا میں پیچھے رہ گئے ہیں ہم سب کا قومی فرض ہے کہ ہم اپنی اپنی ذاتی حیثیت کے مطابق پاکستان کی ترقی میں اپنا کردار ادا کریں اور اس طرح کے پراجیکٹس اپنی جیب سے بنوائیں تاکہ ہم پاکستانی ہونے کا فرض صیح معنوں میں ادا کر سکیں۔ اس موقع پروائس چانسلر زرعی یونیورسٹی پروفیسر ڈاکٹر آصف علی نے کہاکہ سردار تنویر الیاس نے لائبریری بنوا کر اس جامعہ کی تاریخ میں ہمیشہ کیلئے امر ہوگئے ہیں۔ جب تک یہ یونیورسٹی رہے گی تب تک سردار تنویر الیاس کا نام بھی اس لائبریری اور زرعی جامعہ سے محبت کی وجہ سے قائم رہے گا۔ سردار تنویر الیاس لائبریری کے افتتا ح کے موقع پر زرعی جامعہ کی ترقی کیلئے خصوصی دعا بھی کی گئی اس کے علاوہ سردار تنویر الیاس نے اپنے ہاتھوں سے زرعی جامعہ میں پودا بھی لگایا۔ اس موقع پر لائبریرن میڈم روبینہ احمد،ڈین ایگریکلچر ڈاکٹر شفقت سعید، عمران محمود،ڈاکٹر آصف رضا و دیگر بھی موجود تھے۔ چیئرمین پنجاب بورڈ آف انویسٹمنٹ اینڈ ٹریڈ(بی پی آئی ٹی) سردار تنویر الیاس خان نے کہا کہ تجویز زیرغور ہے کہ عارضی طورپر کچھ ریگولیشنز کو معطل کرکے صنعتکاروں کوصنعتیں لگانے کی دعوت دی جائے۔ملک میں روزگار،ترقی،زراعت اور صنعتوں کے فروغ میں پوشیدہ ہے۔وہ ایوان تجارت وصنعت ملتان کے نومنتخب عہدیداروں اور ممبران سے خطاب کر رہے تھے۔انہوں نے مزید کہاکہ وزیراعظم عمران خان بھی چاہتے ہیں کہ ملک میں بزنس فرینڈلی ماحول ہواور صنعت کاربلاخدشہ انڈسٹریل سیکٹر میں سرمایہ کریں۔کچھ صنعتوں کے لیے اجازت نامہ یا این اوسی کی ضرورت بھی نہیں ہوتی بلکہ بہت سے بابو سرمایہ کاروں کی لاعلمی کافائدہ اٹھا کر ان کوسرخ فیتے کاشکاربنا لیتے ہیں۔ ہمارا بیوروکریٹ آج بھی حکمرانی کامظاہرہ کرتاہے اور اپنی رائے اور طریقہ کار تبدیل کرنے پر تیارنہیں ہے۔ بزنس پروموشن ایجنسیز کا کام بزنس مینوں کی مدد کرنا اوران کے مسائل کو آگے بڑھ کر حل کرنا ہے۔ بی پی آئی ٹی آپ کا اپنا ادارہ ہے۔ این اوسی سے لے کر دیگر معاملات تک آپ ہماری خدمات سے فائدہ اٹھائیں۔ انہوں نے کہاکہ دونئے آٹوموبائیل مینوفیکچرنگ/اسمبلنگ یونٹس کے علاوہ پیمپرٹائپ مصنوعات بنانے کے پلانٹس کام شروع کرچکے ہیں۔ پاکستان میں پہلے سادہ اقسام کے شیشے بنتے تھے اب ٹینٹڈ اور دیگر اقسام کے شیشے کا پلانٹ بھی لگ گیا ہے۔ اس کے علاوہ ہم نے چین کو گارمنٹس مصنوعات کی تیاری کے لیے ساڑھے چارسو ایکڑ جگہ دیدی ہے جہاں نہ صرف ہماری ضرورت پوری ہوگی بلکہ یہاں سے تیار مصنوعات دنیا بھر کو برآمد کی جائیں گی۔ چیئرمین بی پی آئی ٹی نے کہاکہ ہم وائرلیس سپورٹس کے علاوہ ڈیزرٹ ریلی،تھیم پارک خصوصاً جنوبی پنجاب میں ایسے منصوبوں پر کام کرناچاہتے ہیں۔ فورٹ منرو کواگرڈویلپ کردیا جائے تو اس سے پورے خطے میں بہت سے کاروبارترقی کریں گے۔اس سلسلے میں ہم ٹورازم ڈویلپمنٹ کارپوریشن آف پنجاب کے ساتھ مل کر کچھ منصوبہ جات کے بارے میں وزیر اعلی پنجاب کوبریفنگ دے رہے ہیں۔انہوں نے کہاکہ نومبر سے فروری تک ملتان کادرجہ حرارت کم ہوتا ہے اس سے ان ایام میں یہاں پرصنعتی وتجارتی ایکسپو کاانعقاد کرکے ملکی اور غیرملکی خریداروں کو لایا جاسکتا ہے۔ سی پیک کے حوالے سے بھی صنعتی و تجارتی اداروں کی تنظمیں اور عہدیدارہمیں تجاویز دیں کہ ہم اس خطے کے لیے کیا کرسکتے ہیں۔اس کے علاوہ آپ کی تجاویز پر جو اشیائملک میں تیارہوتی ہیں۔ان کی درآمد بند کرنے پر بھی غور ہوگا۔آپ تحریری تجاویز دیں۔ بی پی آئی ٹی کے علاوہ دیگر اداروں میں خطے کے ایوان تجارت و صنعت کو نمائندگی بھی دیں گے جبکہ بی پی آئی ٹی میں فیڈریشن آف چیمبرآف کامرس اینڈ انڈسٹری کو ایک سیٹ دے رہے ہیں۔ایک سوال کے جواب میں سردار الیاس نے کہاکہ پہلے والے چیف منسٹر کے پاس درجنوں محکمے تھے لیکن وہ اختیار نچلی سطح پر منتقل کرنے پر یقین نہیں رکھتے تھے موجودہ وزیراعلی پنجاب کسی ادارے میں مداخلت نہیں کرتے۔ہمارے ہمسایہ ممالک سے غیرقانونی تجارت ایک مسئلہ ہے اس کے تدارک کے لیے بھی آپ کی تجاویز کاخیرمقدم کیا جائے گا اس پر بھی آپ لوگوں کے تعاون سے قابو پالیں گے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ یہ ٹھیک ہے کہ موجودہ مارک اپ کی شرح کے حساب سے بینکوں نے قرض لے کرکاروبار کرنا اب مشکل ہوگیاہے۔تاہم امید ہے یہ شرح جلد ہی کم ہوجائے گی۔ہمیں نئی اور جدید ٹیکنالوجی کی طرف ہرحالت میں آناپڑے گا۔اس کے بغیر ترقی اور کامیابی ناممکن ہے۔ حکومت ماحول کی بہتری کے لیے بھی بہت کام کررہی ہے۔ ہماری کوشش ہے کہ شہروں کے سیوریج اور پانی کے مسائل ترجیحی طورپر حل ہوں۔ نئے ہسپتال بنیں لیکن جب تک معیاری سہولیات اور حفظان صحت کے اصولوں کے مطابق اشیا ء کی دستیابی نہیں ہوگی۔ہسپتال مریضوں سے بھرے ہی رہیں گے۔اب بھی کسی بھی جگہ کسی بھی ہسپتال میں مریضوں کے داخلے کی گنجائش نہیں ہوتی۔انہوں نے کہاکہ ہماری کوشش ہے کہ ملتان میں نیا انڈسٹریل زون بنانے کے علاوہ یہاں کی بزنس پیشہ خواتین کے لیے بھی ایک خصوصی صنعتی زون بنایا جائے۔آپ تجاویز دیں۔ قبل ازیں ایوان تجارت وصنعت ملتان کے صدر شیخ فضل الہی نے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ سی پیک کے حوالے سے ملتان جوکہ ملک کامرکزی مقام ہے، کو جوائنٹ وینچر منصوبہ جات اور غیرملکی سرمایہ کاری کے حوالے سے ترجیحی مقام دیا جائے۔ اس خطے میں تیارہونے والی مصنوعات کو ملکی اوربین الاقوامی خریداروں سے متعارف کرانے کے لیے ایک ایکسپو سنٹر بنایا جائے جس کے لیے جگہ ایوان تجارت وصنعت ملتان مہیا کرے گا انہوں نے کہا کہ وہ خام مال جو پاکستان میں دستیاب ہے اس سے تیار شدہ مصنوعات در آمد کرنے پر ریگولیٹری ڈیوٹیز عائد کی جائے تاکہ مقامی طور پر تیار ہونیوالی مصنوعات کی حوصلہ افزائی ہو تقریب میں سینیئر نائب صدر راشد اقبال سمیت خواجہ محمد یوسف،محمد سرفراز،شیخ امجد،اظہر بلوچ،ڈاکٹر خالد کھوکھر،مجید اللہ خان،نوید چغتائی،سید افتخار علی شاہ،اعجاز شاہ،خواجہ صلاح الدین،خواجہ محمد عثمان،خواجہ فاضل،خواجہ محمد حسین،اورنگزیب عالمگیر،سید ثاقب علی شاہ،شیخ احسن رشید،حاجی اکرم،سہیل ہرل،عاصم سعید شیخ،عبدالرحمن قریشی،محمد شفیق نے شرکت کی اس موقع پر حاجی محمد اکرم نے مہمان خصوصی کو ایوان کا نشان بھی پیش کیا۔

سردار تنویر

مزید : ملتان صفحہ آخر


loading...