حکیم محمد یوسف حضروی کی کتاب ”سیر سوات“ شائع ہوگئی

حکیم محمد یوسف حضروی کی کتاب ”سیر سوات“ شائع ہوگئی

لاہور (ادبی رپورٹر) ممتاز مورخ حکیم محمد یوسف حضروی کی کتاب سیر سوات علامہ عبدالستار عاصم اور محمد فاروق چوہان قلم فاؤنڈیشن انٹرنیشنل والٹن روڈ لاہور کینٹ کے زیراہتمام خوبصورت گیٹ اپ کے ساتھ شائع ہوگئی ہے۔ کتاب کا انتساب ملک حق نواز کے نام ہے۔ کتاب کا مقدمہ معروف محقق، شاعر و ادیب اور سینئر استاد پروفیسر ڈاکٹرارشدمحمود نوشاد نے لکھا ہے جبکہ ڈاکٹر سفیر اختر کی رائے بھی شامل ہے۔ اس کتاب میں سوات کی تاریخ کا جائزہ لیا گیا ہے اس کتاب میں حکیم صاحب کے احوال سفر کی رنگا رنگ تصویریں، ان کے مشاہدے کی دل پذیر جھلکیاں، سوات کے قدرتی مناظر کا حسب دل آویز والیان و ساکنان ریاست کے حسن سلوک اور رنگ تواضع کے واقعات پوری صفائی کے ساتھ دکھائی دیتے ہیں۔ حکیم محمد یوسف حضروی اگرچہ باقاعدہ ادیب نہیں تھے مگر شعر و ادب کے ساتھ گہری وابستگی تھی۔ عربی اور فارسی پر انہیں عبور حاصل تھا ان کا خاصہ یہ تھا کہ وہ اپنے قاری کو کہیں بھٹکنے نہیں دیتے تھے۔ ”سیر سوات“ نامی سفر نامہ پہلی بار 1945ء میں شائع ہوا تھا۔ 74برس بعد اس کی شاعت نو کا سہرا ڈاکٹر ارشد محمود نوشاد کے سر بندھ رہا ہے۔ ڈاکٹر ارشد محمود نوشاد عہد حاضر کے جواں عمر اور جواں ہمت علمی نابغوں میں شامل ہیں جو بیک وقت قادر الکلام شاعر، خوش فکر ادیب، صاحب ادراک نقاد، جہد مسلسل کے عادی محقق اور مختلف زبانوں پر عبور رکھنے والے عظیم انسان ہیں۔ ڈاکٹر ارشد محمود نوشاد تدریس کے ساتھ ساتھ شعر و ادب اور تحقیق و تدوین میں بھی مسلسل سرگرم عمل رہتے ہیں۔ 30سال سے ان کی نگارشات نظم و نثر برصغیر پاک و ہند کے معروف و معتبر ادبی و تحقیقی جرائد میں شائع ہو رہی ہیں۔ ان کی نگرانی میں پی ایچ ڈی اور ایم فل کے کئی مقابلہ جات لکھے جا چکے ہیں۔ تاریخ پاکستان کے حوالے سے دلچسپی رکھنے والوں کے لئے ”سیر سوات“ یہ کتاب بہت اہم ہے۔ اس لئے اس کتاب کو ہر سکول، کالج اور لائبریری کی زینت ہونا چاہئے۔

مزید : میٹروپولیٹن 1


loading...